BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بابری مسجد: عدالت خاموش ہے

بابری مسجد
بابری مسجد کو ہندو انتہا پسندوں نے شہید کیا تھا
چھ دسمبر انیس سو بانوے کو ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام میں ملوث انتالیس نامزد ملزمان کے خلا ف چودہ سال بعد بھی عدالت میں گواہیاں لینے کا سلسلہ شروع نہیں ہو سکا ہے۔

مسجد کے انہدام کے مشتبہ ملزمان میں سابق مرکزی وزیر داخلہ لال کرشن اڈوانی ،مرلی منوہر جوشی ، شیو سینا چیف بال ٹھاکرے ، وشوا ہندو پریشید کے صدر اشوک سنگھل اور اوما بھارتی وغیرہ شامل ہیں۔

ان مشتبہ ملزمان پر قانون کی خلاف ورزی ، لوٹ مار، ڈکیتی اور ہجوم کو مشتعل کرکے ایک عبادت گاہ گرانے پر اکسا نے وغیرہ کے الزامات ہیں۔

ایک وقت ایسا بھی آیا جب فروری دو ہزار ایک میں الہ آ باد ہا ئی کورٹ نے مسٹر اڈوانی اور مسٹر جوشی سمیت 8 ملزمان کو الزامات سے بری کر دیا لیکن پھر بعض مسلمانوں کی اپیل پر 2005 میں ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ آیا کہ الزامات برقرار رہیں گے اور ان پر مقدمہ چلے گا۔

تاہم اس مقدمہ میں گواہوں کی پیشی کی نوبت ابھی تک نہیں آئی ہے ۔ اس سلسلے میں الہ آباد ہائی کورٹ کے سنیئر وکیل ظفریاب جیلانی نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا ’ بابری مسجد انہدام کے دونوں مقدمات الگ الگ لکھنئو اور راۓ بریلی کی خصوصی عدالتوں میں زیر التوا ہیں جب تک ان مقدمات پر ایک ساتھ عدالتی کاروائی نہیں ہوگی ان مقدمات میں پیش رفت نہیں ہو سکتی ہے‘۔

ظفریاب جیلانی نے بتایا کہ 13وری 2001 کو ہائی کورٹ نے کہا تھا اگراترپردیش کی حکومت چاہے تو نوٹیفیکیشن کے ذریعے دونوں مقدمات کو یکجا کر سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ’جب تک دونوں مقدمات یکجا نہیں کیے جاتے حکومت ملزمان کو بچانے کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ہے‘۔
۔
انہوں نے کہا کہ سی بی آئی اس کیس میں استغاثہ دائر کرنے والی ایجنسی ہے اور اس نے 2001 میں اڈوانی کو بری کیے جانے پر نگرانی درخواست داخل کرنے کی زحمت بھی نہیں کی۔ چنانچہ مسلمانوں کی طرف سے نگرانی درخواست داخل ہوئی جس پر 2005 میں فیصلہ آیا کہ تمام ملزمان پر انہدام کی سازش اور جرم کا مقدمہ چلے گا ۔

بابری مسجد انہدام کے مقدمہ میں فریق دفاع کے ایک وکیل نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر بی بی سی سے بات چیت کے دوران اعتراف کیا کہ مختلف قانونی حربوں سے بابری مسجد انہدام کے مقدمہ کو لٹکایا جارہا ہے۔ انہوں نے سی بی آئي پر بھی سست رفتاری کا الزام لگایا۔

’بابری مسجد کے قریب آباد مسلمانوں کو وہاں سے کہیں اور منتقل کرنے کی سفارش کی جا رہی ہے‘

بابری مسجد ملکیت مقدمے کے ایک پیروکار اور ایو دھیا سے تعلق رکھنے والے حاجی محبوب نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا، ’ایک سازش کے تحت انہدام کے مقدمہ کو التوا میں رکھا جارہا ہے‘۔

انہوں نے بتا یا، ’اتر پردیش حکومت کے افسران نے بابری مسجد آراضی کے پاس موجود دوراہی کنوں کے علاقے میں آباد دس بارہ مسلم گھروں کو متنازعہ اراضی کے تحفظ کے نام پر وہاں سے ہٹا کر کہیں اور آباد کرنے کی سفارش کی ہے۔

اس طرح عارضی مندر کے اردگرد بلٹ پروف سٹیل ڈھانچہ تعمیر کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے ۔ یہ عارضی مندر کو مستقل کرنے کی سازش ہے‘۔

حاجی محبوب نے کہا کہ ایودھا کی ووٹرلسٹ میں ساڑھے چار ہزار مسلم ووٹر ہیں اور دوراہی کنوں سے مسلمانوں کی ہٹانے کی کوشش قابل قبول نہیں ہوگی۔

بابری مسجد انہدام کی 14 ویں برسی پر ضلع انتظامیہ نے احتیاطی تدابیر کے تحت 10 دسمبر تک کے لیے حکم امتناعی نافذ کردیا ہے۔

اسی بارے میں
بابری مسجد کا انہدام
06 December, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد