لکھنو، کانپور میں کشیدگی اور کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو میں عید میلادالنبی کے جلوس کے دوران شیعہ اور سنی جھڑپ میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ مگر قابو میں ہیں۔ اس کے علاوہ زخمیوں میں ایک نوجوان کی حالت نازک ہے۔ پرانے شہر کے ٹھاکر گنج اور چوک تھانہ علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور آٹھ اپریل تک جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں پولیس نے ستائیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ جب کہ کانپور میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے نوجوان شمشاد کے اہل خانہ کو ضلع انتظامیہ کی طرف سے ایک لاکھ روپے کا معاوضہ دیا گیا ہے۔ پولیس نے تشدد سے متاثرہ ارما پور اور مسوان پور علاقے میں مسلم گھروں میں تلاشی لی ہے۔ پولیس نے آج وہاں فلیگ مارچ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل پولیس دلجیت چودھری نے بتایا کہ حالات قابو میں ہیں لیکن پوری مستعدی سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تشدد بھڑکانے کے الزام میں سماجوادی پارٹی کے امیدوار ستیش نگم اور تین افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے اور واقعہ کے مجسٹریٹ تفتیش کرائی جارہی ہے۔
لکھنو میں تشدد کے سلسلے میں پولیس اور ضلع انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے سنی رہنماؤں نے کہا ہے شیعہ سنی فرقوں کے درمیان روایتی مذہی جلوس نکالنے کا سمجھوتہ اب بے معنی ہوچکا ہے۔ اس لیے اسے معطل سمجھا جائے۔ عید میلادالنبی کے جلوس مدح صحابہ کے کنوینر مولانا عبدالعلیم فاروقی نے الزام لگایا ہے کہ ضلع انتظامیہ کے کچھ لوگ شر پسند عناصر سے ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’گزشتہ دو تین برسوں میں ہر بار سنیوں کے جلوس کے دوران تشدد رونما ہوتا ہے اور ہر سال ایک دو لوگوں کی موت ہوتی ہے‘۔ جب کہ شیعہ رہنما کلب جواد کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشارے پر کچھ شیعہ ایجنٹ اور سنی طبقے کے کچھ نوجوان فساد بھڑکانے کا کام کررہے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ رامیندر ترپاٹھی نے بتایا کہ حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانے کے لیے متاثرہ کشمیری محلہ، کاظمین، پاٹانالہ، سجاد باغ، مصاحب گنج ، اکبری گیٹ، جیسے علاقوں میں گھروں کی چھتوں پر بھی پولیس کے جوان تعنیات کیےگئے ہیں۔ علاقے کے سرکردہ رہنما مولانا خورشید فرنگی محلی نے کہا کہ جتنی فورس اب لگائی جارہی ہےاگر پہلے لگائی ہوتی تو یہ واقعہ نہ پیش آتا۔انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے قصداً تشدد کو موقع فراہم کیا ہے۔
پولیس اہلکار جیوتی نارائن نے بتایا ہے بلوے کے دوران چھ افراد کو گولیاں لگی ہے جس سے پتہ چلتا ہے بلوائیوں کی طرف سے غیر قانونی اسلحہ کا استمعال ہوا ہے۔ لکھنو میں ماضی میں روایتی مذہبی جلوسوں کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ جس کی وجہہ سے ان جلوسوں پر وقتاً فوقتاً پابندی لگائی جاتی رہی ہے لیکن 1999 میں شیعہ سنی رہنماوں کے درمیان ایک سمجھوتے کے بعد شیعہ فرقے کو نو اور سنی فرقے کو ایک جلوس نکالنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔ | اسی بارے میں لکھنؤ، کانپور میں شیعہ سنی جھڑپیں01 April, 2007 | انڈیا ’گاندھی سیتو‘، مسافر پریشان01 April, 2007 | انڈیا انڈیا ’ماڈل شیعہ نکاح نامہ‘ جاری 26 November, 2006 | انڈیا انڈیا: ’فیشن ٹی وی‘ پر پابندی30 March, 2007 | انڈیا انڈیا کی ہار، ملک بھر میں مظاہرے24 March, 2007 | انڈیا انڈیا: ورکنگ وومن کی تعداد میں اضافہ10 March, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||