BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 April, 2007, 15:17 GMT 20:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لکھنو، کانپور میں کشیدگی اور کرفیو

لکھنؤ پولیس سے جھڑپ (فائل فوٹو)
کانپور میں ایڈشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (سٹی) سمیت آٹھ پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے
اترپردیش کے دارالحکومت لکھنو میں عید میلادالنبی کے جلوس کے دوران شیعہ اور سنی جھڑپ میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد حالات کشیدہ مگر قابو میں ہیں۔


اس کے علاوہ زخمیوں میں ایک نوجوان کی حالت نازک ہے۔ پرانے شہر کے ٹھاکر گنج اور چوک تھانہ علاقوں میں کرفیو نافذ ہے اور آٹھ اپریل تک جاری رہے گا۔

اس سلسلے میں پولیس نے ستائیس افراد کو حراست میں لیا ہے۔ جب کہ کانپور میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک ہونے والے نوجوان شمشاد کے اہل خانہ کو ضلع انتظامیہ کی طرف سے ایک لاکھ روپے کا معاوضہ دیا گیا ہے۔

پولیس نے تشدد سے متاثرہ ارما پور اور مسوان پور علاقے میں مسلم گھروں میں تلاشی لی ہے۔ پولیس نے آج وہاں فلیگ مارچ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل پولیس دلجیت چودھری نے بتایا کہ حالات قابو میں ہیں لیکن پوری مستعدی سے کام لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تشدد بھڑکانے کے الزام میں سماجوادی پارٹی کے امیدوار ستیش نگم اور تین افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے اور واقعہ کے مجسٹریٹ تفتیش کرائی جارہی ہے۔

سمجھوتہ بے معنی ہوچکا ہے
 پولیس اور ضلع انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے سنی رہنماؤں نے کہا ہے شیعہ سنی فرقوں کے درمیان روایتی مذہی جلوس نکالنے کا سمجھوتہ اب بے معنی ہوچکا ہے

لکھنو میں تشدد کے سلسلے میں پولیس اور ضلع انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگاتے ہوئے سنی رہنماؤں نے کہا ہے شیعہ سنی فرقوں کے درمیان روایتی مذہی جلوس نکالنے کا سمجھوتہ اب بے معنی ہوچکا ہے۔ اس لیے اسے معطل سمجھا جائے۔

عید میلادالنبی کے جلوس مدح صحابہ کے کنوینر مولانا عبدالعلیم فاروقی نے الزام لگایا ہے کہ ضلع انتظامیہ کے کچھ لوگ شر پسند عناصر سے ملے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’گزشتہ دو تین برسوں میں ہر بار سنیوں کے جلوس کے دوران تشدد رونما ہوتا ہے اور ہر سال ایک دو لوگوں کی موت ہوتی ہے‘۔

جب کہ شیعہ رہنما کلب جواد کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے اشارے پر کچھ شیعہ ایجنٹ اور سنی طبقے کے کچھ نوجوان فساد بھڑکانے کا کام کررہے ہیں۔
انہوں نے ضلع انتظامیہ پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے۔

ضلع مجسٹریٹ رامیندر ترپاٹھی نے بتایا کہ حالات کو مزید کشیدہ ہونے سے بچانے کے لیے متاثرہ کشمیری محلہ، کاظمین، پاٹانالہ، سجاد باغ، مصاحب گنج ، اکبری گیٹ، جیسے علاقوں میں گھروں کی چھتوں پر بھی پولیس کے جوان تعنیات کیےگئے ہیں۔

علاقے کے سرکردہ رہنما مولانا خورشید فرنگی محلی نے کہا کہ جتنی فورس اب لگائی جارہی ہےاگر پہلے لگائی ہوتی تو یہ واقعہ نہ پیش آتا۔انہوں نے کہا کہ ضلع انتظامیہ نے قصداً تشدد کو موقع فراہم کیا ہے۔

غیر قانونی اسلحے کا استعمال
 بلوے کے دوران چھ افراد کو گولیاں لگی ہے جس سے پتہ چلتا ہے بلوائیوں کی طرف سے غیر قانونی اسلحہ کا استمعال ہوا ہے

پولیس اہلکار جیوتی نارائن نے بتایا ہے بلوے کے دوران چھ افراد کو گولیاں لگی ہے جس سے پتہ چلتا ہے بلوائیوں کی طرف سے غیر قانونی اسلحہ کا استمعال ہوا ہے۔

لکھنو میں ماضی میں روایتی مذہبی جلوسوں کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ جس کی وجہہ سے ان جلوسوں پر وقتاً فوقتاً پابندی لگائی جاتی رہی ہے لیکن 1999 میں شیعہ سنی رہنماوں کے درمیان ایک سمجھوتے کے بعد شیعہ فرقے کو نو اور سنی فرقے کو ایک جلوس نکالنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد