مسلمانوں کی اردو میں تعلیم: منموہن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہےکہ مرکزی حکومت مسلمانوں کے لیے اردو میں تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ اقلیتوں کی فلاح ممکن ہوسکے۔ مسٹر سنگھ نے کہا ’ہم چاہتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو مسلمان بچے اردو میں تعلیم حاصل کریں اور ہماری حکومت اس سلسلے تمام اخراجات کو اٹھانے کے لیے تیار ہے‘۔ منموہن سنگھ نے یہ بات اترپردیش کے قصبہ افضل گڈھ میں ایک انتخابی ریلی کو خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انکا کہنا تھا ’مسلمانوں کی زبوں حالی کی روداد اعلی سطح کی سچر کمیٹی کی رپورٹ سے سامنے آچکی ہے اور مسلمانوں کے حالات بہتر بنانے کے لیے ترقی پسند اتحاد نے بہت سے اقدام اٹھائے ہیں اور پندرہ نکاتی پروگرام کا نفاذ کرنا اسی کڑی میں شامل ہے‘۔ پندرہ نکاتی پروگرام کے تحت پسماندہ علاقوں میں زیادہ سے زيادہ سکولز، اگن باڑی (خواتین و بچوں کے لیےامدادی تعلیمی مراکز) اور ہسپتال کھولنا شامل ہے۔
مسٹر سنگھ نے انتخابی ریلی میں وعدہ کیا کہ ترقی پسند اتحاد حکومت مسلمانوں کے لیے زندگی کے تمام شعبوں میں یکساں مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کوشش کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت مسلمانوں کو بینک سے قرضے بھی فراہم کرائے گی۔ خیال رہے کہ ملک میں مسلمانوں کو بینک سے قرضے با آسانی نہيں ملتے ہیں۔ ریاست اترپردیش میں مسلانوں کی بہت بڑی تعداد ہے اور ہندوستان میں مسلمانوں کو ووٹ بینک تصور کیا جاتا ہے اور وزیراعظم کا تازہ بیان بھی مسلمانوں کو راغب کرنے کی کوشش ہے لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہےکہ وزیراعظم کے تازہ بیان سے سخت گیر ہندو سیاسی جماعتوں کو ایک بار پھر مرکزی حکومت پراقلیت نوازی کا الزم لگانے کا موقع ملے گا۔ | اسی بارے میں انتخابات: پرینکا یو پی کے دورے پر15 April, 2007 | انڈیا یوپی انتخابات: مسلم ووٹرز کا المیہ14 April, 2007 | انڈیا دلی: متنازعہ سی ڈی، سماعت ملتوی11 April, 2007 | انڈیا دلی: متنازعہ سی ڈی، سماعت ملتوی 11 April, 2007 | انڈیا متنازعہ سی ڈی، رہنماؤں کی پیشی09 April, 2007 | انڈیا مسلم اقلیت نہیں: فیصلہ معطل06 April, 2007 | انڈیا ’یو پی میں مسلمان اقلیت نہیں‘05 April, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||