BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 April, 2007, 17:28 GMT 22:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دلی: متنازعہ سی ڈی، سماعت ملتوی

متنازعہ سی ڈی
متنازعہ سی ڈی نیوز کانفرنس کے ذریعے جاری کی گئی تھی
بھارت میں انتخابی کمیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے اس اعتراض کے بعد کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدہ کرنے والی متنازعہ انتخابی سی ڈی کی سماعت میں الیکشن کمیشنر نوین چاولہ حصہ نہ لیں معاملے کو جمعرات تک کے لیے ملتوی کردیا ہے۔

بی جے پی کا کہنا ہے کمشنر نوین چاولہ غیر جانب دار نہیں ہیں۔ ادھر حکمراں جماعت کانگریس نے کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے میں فوری طور کاروائی کی ضرورت تاکہ سی ڈی کی تقسیم پر فوری روک لگ سکے۔

بی جے پی نے اپنے پہلے جواب میں یہ اعتراف کیا تھا کہ اس سی ڈی میں قابلِ اعتراض باتیں موجود ہیں تاہم اس نے اس سی ڈی سے یہ کہہ کر لاتعلقی ظاہر کی تھی کہ یہ کسی طرح بی جے پی کے بیگ میں آگئی اور اسی دھوکے میں جاری ہو گئی۔

لیکن کانگریس نے ماضی کے انتخابات اور کئی دیگر مواقع پر بی جے پی کے ذریعے جاری کی گئی کچھ اور سی ڈیز بھی الیکشن کمیشن میں پیش کی ہیں۔

بدھ کے روز سبھی جماعتیں اپنے اپنے موقف کے ساتھ انتخابی کمیشن پہنچیں۔ سماعت کے بعد بی جے پی کے سرکردہ رہنما روی شنکر پرساد نے کہا کہ چونکہ کمشنر نوین چاولہ کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس ہے اور ان سے’ جانب داری کی توقع ہے اس لیے اس معاملے کی سماعت میں وہ حصہ نہ لیں، اب اس کی سماعت کل ہوگی۔‘

حکمراں جماعت کانگریس کی نمائندگی مرکزی وزیر کپل سبل نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بی جے پی سوچی سمجھی سازش کے تحت اس طرح کے اعتراض کر رہی ہے تاکہ وہ اس معاملے کو طول دے سکے۔’ وہ سی ڈی اب بھی تقسیم کی جارہی ہے، ہم نے کہا ہے کہ اس پر سماعت تو ہوتی رہے گی تاہم کوئی ایسی کارروائی کی جائے جس سے اس نفرت انگیز سی ڈی کی تقسیم پو روک لگ سکے۔‘

اس معاملے کی سماعت چیف الیکشن کمشنر این گوپالا سوامی، کمشنر نوین چاولہ اور ایس وائی قریشی نے کی۔

الیکشن کمیشن میں متنازعہ سی ڈی کے کیس کی سماعت پیر کو شرو‏ع ہوئی تھی لیکن مخالف جماعتوں کی جانب سے اضافی الزامات لگنے کے بعد بی جے پی نےوضاحت کے لیے ایک دن کی مہلت مانگی تھی
ادھر بی جے پی کی طرف سے اخبارات میں جاری ایک اور انتخابی اشتہار تنازعہ کا سبب بن گيا ہے۔ نئے اشتہار میں ایک ایسی مسلم بستی دکھائی گئی ہے جہاں بہت ہرے جھنڈ ے لگے ہیں جس پر آئی ایس آئی لکھا ہے۔ اس کی ہیڈنگ ہے کیا ان کا ارادہ ’پاک ‘ ہے۔ نیچے علحیدگی پسندوں کی مدد مدرسوں میں دہشت گردی کی تربیت جیسے نعرے درج ہیں۔ اس پوسٹر میں بھی مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور بظاہر انہیں آئی ایس آئی سے منسوب کيا گیا ہے۔

کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ اس اشتہار کے خلاف بھی وہ کمیشن سے شکایت کرے گی لیکن بی جے پی نے اس کا دفاع کیا ہے۔ روی شنکر پرساد کا کہنا تھا: ’ سیمی دہشت گردی میں ملوث ہے پھر بھی انہیں چھوڑا جارہا ہے، مدرسہ کا اشو تو پاکستان میں بھی اٹھا ہے اور کیوں نہیں جب بعض مدارس میں دہشت گردی کو بڑھاوا دیا جاتا ہے۔‘

دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اترپردیش میں بی جے پی کی حریف سیاسی جماعت سماج وادی پارٹی نے سی ڈی کے معاملے میں کمیشن سے کوئی آواز نہیں اٹھائی ہے۔

کانگریس، بی ایس پی اور سابق وزیراعظم وی پی سنگھ مبینہ سی ڈی کے اجراء کے لیے بی جی پی کا رجسٹریشن ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

بی جے پی کے سینئر رہنما لال جی ٹنڈن نے گزشتہ ہفتے مبینہ طور پر یہ سی ڈی ایک نیوز کانفرنس کے دوران جاری کی تھی۔ اس سی ڈی میں مسلمانو ں کو ملک دشمن اور دہشت گرد کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ مسلمان ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت زیادہ بچے پیدا کر رہے ہیں تاکہ وہ ہندوستان میں ہندوؤں کو اقلیت میں بدل سکیں۔

سابق وزیراعظم وی پی سنگھ نے کمیشن سے کہا ہے کہ اس سی ڈی سے نہ صرف انتخابی ضوابط کی خلاف ورزی ہوئی ہے بلکہ یہ ایک خطرناک مجرمانہ فعل بھی ہے۔ انہوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ بی جے پی کی نہ صرف سیاسی پارٹی کے طور پر رجسٹریشن ختم کی جائے بلکہ پارٹی کے اعلیٰ عہدے داروں کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہو۔

الیکشن کمیشن میں اس معاملے کی سماعت پیر کو شرو‏ع ہوئی تھی لیکن مخالف جماعتوں کی جانب سے اضافی الزامات لگنے کے بعد بی جے پی نے وضاحت کے لیے ایک دن کی مہلت مانگی تھی۔

ادھر اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لیے انتخابی مہم پورے عروج پر ہے۔ اس مرحلے میں مغربی یوپی کے اٹھاون حلقوں میں تیرہ اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔

انتخابی مہم کے دوران متنازعہ سی ڈی ایک اہم موضوع ہے اور کانگریس سے لے کر بی ایس پی اور سماج وادی پارٹی سمیت سب جماعتیں اس سی ڈی کے حوالے سے مسلمانوں کو اپنی طرف راغب کرنے کوششیں کر رہی ہیں۔

اتر پردیش میں ساڑھے اٹھارہ فی صد آبادی مسلمانوں کی ہے اور ان کی سیاسی ترجیحات کسی ایک جماعت تک محدود نہیں ہے۔ ان کا ووٹ ایک چوتھائی سے زیادہ حلقوں میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔

بی جے پی کے مسائل
کیا بی جے پی ٹکراؤ کی سیاست پر قائم رہے گی؟
واجپئی اور اڈوانیبی جے پی کنونشن
اب نئے پارٹی صدر کے لیے جوڑ توڑ شروع ہو گیا ہے
معیشت اور مسلمان
ترقی کے عمل میں انڈین مسلم پیچھے رہ گئے
بھارتی مسلمان مسلمانوں کی بدحالی
بھارتی مسلم تعلیمی، اقتصادی طور پر پیچھے
بگڑتی ہوئی ساکھ
بی جے پی یا بھارتیہ جنتا ’پرابلم‘ پارٹی
واجپئیعلاقائی اتحاد اور۔۔۔
بی جے پی کی نظر شمال مشرق پر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد