بی جے پی: سی ڈی میں کیا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے الیکشن کمیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے جاری کی گئی ایک متنازعہ سی ڈی کے خلاف نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ متنازعہ سی ڈی ریاست اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات کی مہم کے لیے استمعال کی جارہی تھی جس میں مسلم برادری کے خلاف ہتک آمیز باتیں کہی گئی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ اور پارٹی کے سرکردہ رہنما لال جی ٹنڈن کے خلاف مقدمہ درج کرنے بھی حکم دیا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ اس نے اعتراضات کے فورا بعد سی ڈی دکھانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ لیکن پارٹی کے سینئر رہنما کیسری ناتھ ترپاٹھی سے جب یہ سوال کیا گیا کہ اعتراضات کس طرف سے آئے تھے تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کردیا۔ پارٹی نے دسمبر میں لکھنؤ کے نیشنل کنونشن میں اپنے ہندتوا کے ایجنڈے کو اجاگر کرنے کے لیے ایک سی ڈی جاری کی تھی۔ اسی سی ڈی کو بعض تبدیلیوں کے ساتھ یو پی کےانتخابی مہم کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق سی ڈی میں مسلم برادری کو غدار کہا گیا ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ مسلم لڑکے ہندو لڑکیوں سے شادی کر کے انہیں زبردستی مسلمان بناتے ہیں اور مسلمان علماء اس کی حمایت کرتے ہیں۔ مدرسوں کے اساتذہ ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور انہوں نے دریائے گنگا کے کنارے افطار پارٹی کرکے ہندو مذہب کی توہین کی۔ سی ڈی میں بتایا گیا ہے کہ نصابی کتب میں دیوی درگا کو شرابی اور گرو گوبند سنگھ کو مغلوں کا نوکر بتایا گیا جب کہ اورنگ زیب کو صوفی قرار دیا جاتاہے۔ اس سی ڈی میں مسلمانوں کے مذہب اور ان کے رسم و رواج کے خلاف بھی بعض ایسی نازیبا باتیں کہی گئی ہیں جو ناقابلِ بیان ہیں۔ ووٹ کے لیے پارٹی نے گودھرا ٹرین سانحہ، بابری مسجداور بنارس کے مندر میں بم دھماکوں کے مناظر بھی پیش کیے ہیں۔
سابق وزیر اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ نے اس کے خلاف الیکشن کمیشن سے شکایت کی تھی۔ مسٹر سنگھ نے کہا ہے کہ سی ڈی کا مواد ملک کی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہے اور کمیشن کو چاہیے کہ وہ بی جے پی پر پابندی لگائے۔ ان کے مطابق’زہر پھیلا دینے کے بعد اب سی ڈی پر پابندی لگانے سے کیا فائدہ، بی جے پی کے رہنما اس سے پہلو تہی کر رہے ہیں جب کہ سب کو اس کے بارے میں پہلے ہی سے پتہ تھا‘۔ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے لیے انتخابی مہم کا آج آخری دن ہے اور سبھی پارٹیوں کے بڑے رہنما یوپی میں ہیں۔ لال کرشن اڈوانی نے کہا ہے کہ وہ سی ڈی کے بارے میں تو کچھ نہیں کہیں گے لیکن ہندتوا کے ذکر سے کسی کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔ پارٹی کے صدر راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی نفرت کی سیاست نہیں کرتی ہے اس لیے جیسے ہی سی ڈی کے متعلق پتہ چلا اس پر پابندی لگا دی گئی۔ پارٹی نے یو پی کے اپنے ترجمان کو بھی برخاست کردیا ہے۔ | اسی بارے میں گودھرا، یہ کیسی سزا؟28 February, 2007 | انڈیا گودھرا ریل گاڑی الزامات واپس؟20 June, 2005 | انڈیا گودھرا رپورٹ پر سیاسی تنازع18 January, 2005 | انڈیا ’گودھرا ٹرین کی آگ حادثاتی تھی‘17 January, 2005 | انڈیا بابری مسجد، انہدام کے تیرہ سال06 December, 2005 | انڈیا بابری مسجد تاریخ کے آئینے میں06 December, 2004 | انڈیا بابری مسجد کا انہدام06 December, 2004 | انڈیا بابری مسجد: ایڈوانی کو نوٹس02 November, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||