بی جے پی: اب پالیسی کیا ہوگی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انتِخابات میں شکست کے بعد بی جے پی ابھی تک اس حقیقت کو پوری طرح سے تسلیم نہیں کر پائی ہے کہ وہ اب اقتدار سے باہر ہو چکی ہے۔ گزرے ہوئے سو دنوں میں وہ حزب اختلاف کے طور پر خود کو پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کے باہر قائم نہیں کر سکی۔ بی جے پی کےا علیٰ رہنماؤں کا اجلاس دو بارہوا لیکن پارٹی یہ نہ سمجھ سکی کہ انتخابات میں اس کی شکست کے اسباب کیا تھے۔ سرکر دہ تجزیہ کار اور روز نامہ ٹیلیگراف کے ایڈیٹر بھارت بھوشن کہتے ہیں کہ بی جے پی نے اپنی حکومت کی اچھی کارگردگی اور ترقی کے نعرے پر انتخاب لڑا تھا لیکن شکست کے بعد اب اس نے ٹکراؤ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس حزب اختلاف اور حکمراں اتحاد کے درمیان ٹکراؤ کی نذر ہو گیا۔ بجٹ پہلی بار کسی بحث کے بغیر منظور کیا گیا۔ روزنامہ پائنیر کے مدیر اور رکن پارلیمنٹ چندن مترا کا کہنا ہے کہ ٹکراؤ کی اس پالیسی سے بی جے پی کی ساکھ مجروح ہوئی ہے ۔ لیکن ان کا خیال ہے کہ پارٹی اپنے ابتدائی صدمے سے باہر آ رہی ہے ۔ بی جے پی کو نظریاتی مسائل کا بھی سامنا ہے۔ پارٹی کا ایک حصہ سخت گیر ہندو ئیت کی طرف واپس جانے پر مصر ہے تو دوسرا گروپ ایک اعتدال پسند جہوری پارٹی کے طور پر اپنی شبیہ بنانے کی طرف مائل ہے۔ پارٹی کے نائب صدر مختار عباس نقوی کا کہنا ہے کہ پارٹی رام مندر کی تعمیر اور ایک سے سول پروسیجر کے نفاذ جیسے سوالات سے کبھی پیچھے نہیں ہٹی ہے لیکن وہ ان پر اپنی سیاست نہیں کرنا چاہے گی۔ مسٹر نقوی کے مطابق بی جے پی ثقافتی قوم پرستی میں یقین رکھتی ہے اور بقول ان کے ترقی کا عمل اس کے ساتھ ہی چل پائے گا۔ بی جے پی فی الوقت شناخت کے مسئلے سے دو چار نظر آتی ہے۔ مہاراشٹر میں اکتوبر میں اسمبلی انتخابات ہو نے والے ہیں۔ یہ انتخابات بی جے پی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ بی جے پی کے مستقبل کی حکمت عملی کیا ہوگی؟ کیا وہ ترقی پسند پارٹی کے طور پر ابھرے گی یا وہ ایک بار پھر سخت گیر ہندوئیت کی طرف لوٹے گی؟ تجزیہ کار بھارت بھوشن کہتے ہیں کہ مہاراشٹر کے انتخابات اسی پہلو کا تعین کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||