بی جے پی یا بھارتیہ جنتا ’پرابلم‘ پارٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کبھی اپنے نظم و ضبط کے لیے جانی جانے والی جماعت بی جے پی کے لیے آج کل داخلی مشکلات کا سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس بار اسے ریاست جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی اور پارٹی کے سینیئر نائب صدر بابو لعل مرانڈی کے استعفی سے دھچکا لگا ہے۔ بابو لعل مرانڈی گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے تھے۔ بی جے پی کے اہلکار مسٹر مرانڈی کے سوالات کا براہ راست جواب نہ دے کر ان سے یہ کہنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ پارٹی ڈِسپلن کا خیال رکھتے ہوئے ہی اپنی بات کہیں۔ مسٹر مرانڈی نے بدھ کواس کے جواب میں پارٹی کے عہدے، پرائمری ممبرشپ اور ایوان زیریں یعنی لوک سبھا سے استعفی دے دیا۔ مسٹر مرانڈی اپنا استعفیٰ دینے کے بعد گریڈیہ کے ایک دور افتادہ گاؤں سیوا ٹانڈ میں چوبیس گھنٹے کے’برت‘ پر بیٹھ گئے۔ سیوا ٹانڈ میں موبائل فون کی رسائی نہ ہونے کے نتیجہ میں بی جے پی کے اعلی اہلکار ان سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے۔ رانچی کے سیاسی تجزیہ نگار بتاتے ہیں کہ بابو لعل مرانڈی ریاست کی ارجن منڈا حکومت میں مبینہ بد عنوانی، ترقیاتی کاموں میں سست روی اور نکسلی تشدد سے نمٹنے میں ناکامی کی شکایت ایک عرصے سے کر رہے تھے۔ مرانڈی کے استعفے سے ایک دن پہلے بی جے پی کے بعض اہلکاروں نے مرانڈی کو منانے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔ جانکار بتاتے ہیں کہ بدھ کو بھی ایسی کوششیں کی گئیں مگر بیکار ثابت ہوئیں۔
سندیپ کمل کا خیال ہے کہ دلی میں مدن لعل کھرانہ اور مدھیہ پردیش میں اوما بھارتی کی بغاوت کے بعد مرانڈی کا بی جے پی سے الگ ہونا بہت بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ بی جے پی کے لیئے مشکل کی بات صرف یہ نہیں کہ جھارکھنڈ میں اس کا ایک اہم لیڈر اس کے ہاتھ سے نکل گیا بلکہ اس کی سرکار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے کیونکہ بی جے پی میں کم از کم چند ایم ایل اے ایسے ضرور ہیں جو مرانڈی کے خیمے میں چلے جائیں گے۔ دوسری جانب ارجن منڈا حکومت بےحد نازک اعداد شمار پر ٹکی ہے۔ دو ایم ایل اے بھی حکومت سے الگ ہوں تو حزب اختلاف حکومت کو بے دخل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔ ان حالات میں بی جے پی کی قیادت بےبسی کے عالم میں پارٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو اپنی گرفت میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ |
اسی بارے میں لعل کرشن اڈوانی کے خلاف مہم تیز 16 July, 2005 | انڈیا بی جے پی و شیو سینا پر جرمانہ 16 September, 2005 | انڈیا بی جے پی کے رہنما پر قاتلانہ حملہ 06 October, 2005 | انڈیا اوما بھارتی کے بارے میں فیصلہ آج 30 November, 2005 | انڈیا ممبر پارلیمان رشوت لینے پر معطل12 December, 2005 | انڈیا بی جے پی جنرل سیکرٹری مستعفی27 December, 2005 | انڈیا اڈوانی: صدارت سےمستعفی 31 December, 2005 | انڈیا بی جے پی کے نئے صدر نامزد 02 January, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||