BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 18 May, 2006, 10:09 GMT 15:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بی جے پی یا بھارتیہ جنتا ’پرابلم‘ پارٹی

بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکن
کبھی اپنے نظم و ضبط کے لیے جانی جانے والی جماعت بی جے پی کے لیے آج کل داخلی مشکلات کا سلسلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس بار اسے ریاست جھارکھنڈ کے سابق وزیراعلی اور پارٹی کے سینیئر نائب صدر بابو لعل مرانڈی کے استعفی سے دھچکا لگا ہے۔

بابو لعل مرانڈی گزشتہ کئی ہفتوں سے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے تھے۔ بی جے پی کے اہلکار مسٹر مرانڈی کے سوالات کا براہ راست جواب نہ دے کر ان سے یہ کہنے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ پارٹی ڈِسپلن کا خیال رکھتے ہوئے ہی اپنی بات کہیں۔

مسٹر مرانڈی نے بدھ کواس کے جواب میں پارٹی کے عہدے، پرائمری ممبرشپ اور ایوان زیریں یعنی لوک سبھا سے استعفی دے دیا۔

مسٹر مرانڈی اپنا استعفیٰ دینے کے بعد گریڈیہ کے ایک دور افتادہ گاؤں سیوا ٹانڈ میں چوبیس گھنٹے کے’برت‘ پر بیٹھ گئے۔ سیوا ٹانڈ میں موبائل فون کی رسائی نہ ہونے کے نتیجہ میں بی جے پی کے اعلی اہلکار ان سے رابطہ کرنے میں ناکام رہے۔

رانچی کے سیاسی تجزیہ نگار بتاتے ہیں کہ بابو لعل مرانڈی ریاست کی ارجن منڈا حکومت میں مبینہ بد عنوانی، ترقیاتی کاموں میں سست روی اور نکسلی تشدد سے نمٹنے میں ناکامی کی شکایت ایک عرصے سے کر رہے تھے۔ مرانڈی کے استعفے سے ایک دن پہلے بی جے پی کے بعض اہلکاروں نے مرانڈی کو منانے کی کوشش کی مگر وہ کامیاب نہ ہوئے۔ جانکار بتاتے ہیں کہ بدھ کو بھی ایسی کوششیں کی گئیں مگر بیکار ثابت ہوئیں۔

بی جے پی کی بگڑتی ہوئی ساکھ
 جس طرح کبھی پٹرول پمپوں کے الاٹمنٹ میں گھپلے کے سبب بی جے پی کو بھارتیہ جنتا پٹرول پمپ پارٹی قرار دیا گیا تھا، آجکل اس کی داخلی چپقلش کو دیکھتے ہوئے اسے بھارتیہ جنتا پرابلم پارٹی سمجھا جانے لگا ہے۔
سینیئر صحافی سندیپ کمل
رانچی کے سینیئر صحافی سندیپ کمل بتاتے ہیں کہ جس طرح کبھی پٹرول پمپوں کے الاٹمنٹ میں گھپلے کے سبب بی جے پی کو بھارتیہ جنتا پٹرول پمپ پارٹی قرار دیا گیا تھا، آجکل اس کی داخلی چپقلش کو دیکھتے ہوئے اسے بھارتیہ جنتا پرابلم پارٹی سمجھا جانے لگا ہے۔

سندیپ کمل کا خیال ہے کہ دلی میں مدن لعل کھرانہ اور مدھیہ پردیش میں اوما بھارتی کی بغاوت کے بعد مرانڈی کا بی جے پی سے الگ ہونا بہت بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔

بی جے پی کے لیئے مشکل کی بات صرف یہ نہیں کہ جھارکھنڈ میں اس کا ایک اہم لیڈر اس کے ہاتھ سے نکل گیا بلکہ اس کی سرکار بھی خطرے میں پڑ گئی ہے کیونکہ بی جے پی میں کم از کم چند ایم ایل اے ایسے ضرور ہیں جو مرانڈی کے خیمے میں چلے جائیں گے۔

دوسری جانب ارجن منڈا حکومت بےحد نازک اعداد شمار پر ٹکی ہے۔ دو ایم ایل اے بھی حکومت سے الگ ہوں تو حزب اختلاف حکومت کو بے دخل کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گی۔ ان حالات میں بی جے پی کی قیادت بےبسی کے عالم میں پارٹی کی بگڑتی ہوئی صورتحال کو اپنی گرفت میں لانے کی کوشش کر رہی ہے۔

کانگریس کے حمایتی’فیل گڈ‘ کانگریس
بی جے پی کو دھچکے، کانگریس کی خوشی
بی جے پی کے صدرونکیا نہیں مانتے
کانگریس کو کوئی مینڈیٹ نہیں دیا گیا
سوال کی رشوت
ٹی وی نے اراکین اسمبلی کا بھانڈا پھوڑ دیا
واجپئی اور اڈوانیبی جے پی کنونشن
اب نئے پارٹی صدر کے لیے جوڑ توڑ شروع ہو گیا ہے
پرمود مہاجن اگلی نسل کے لیڈر
پرمود مہاجن ایک تجربہ کار سیاستدان تھے
اسی بارے میں
اڈوانی: صدارت سےمستعفی
31 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد