پرمود مہاجن: اگلی نسل کے رہنما | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھپن سالہ پرمود مہاجن کا شمار بھارتیہ جنتا پارٹی کے ’جین نیکسٹ‘ یعنی اگلی نسل کے رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ابتدا سے ہی آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے پرمود مہاجن ایمرجینسی کے بعد سے ہی بھارتیہ جنتا پارٹی میں ایک اہم رول ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے سیاست کی باقاعدہ تعلیم حاصل کی تھی۔ اپنے دور کے تمام رہنماؤں میں سب سے تجربہ کار ہونے کی وجہ سے پارٹی میں انہیں سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی تھی۔ عام طور پر پرمود مہاجن پارٹی کے لیئے بہتر ’اورگینائزر‘ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ سیاسی دنیا میں انہیں پہلی کامیابی 1986 میں حاصل ہوئی تھی جب انھیں ’بھاریتہ جنتا یوا مورچا‘ کا قومی صدر منتخب کیا گیا۔ آہستہ آہستہ بی جے پی میں ان کے کردار اور ان کی اہمیت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بی جی پی کی قیادت میں جب این ڈے اے کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس میں بھی پرمود مہاجن کا ایک اہم کردار تھا۔ اس وقت وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے مشیر کے علاوہ انھوں نے کمیونیکیشن کے وزیر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ گزشتہ قومی انتخابات میں بی جے پی کی انتخابی مہم کی ذمہ داری جب پرمود مہاجن کو سونپی گئی تو ’ہائی ٹیک‘ نظریہ رکھنے والے پرمود مہاجن نے پارٹی کو ’انڈیا شائننگ‘ کا نعرہ دیا۔ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے پرمود مہاجن پر قومی انتخابات میں شکست کے بعد ان کی پارٹی کے ہی کئی رہنماؤں نے انکے ’لائف سٹائل‘ اور میڈیا میں ان کی ضروت سے زيادہ دلچسپی پر سخت نکتہ چینی کی تھی۔ سن دو ہزار چار میں عام انتخابات میں شکست کے بعد بی جے پی کی جماعت ایک خراب دور سے گزر رہی ہے اور ایسے وقت میں پرمود مہاجن جیسے تجربہ کار سیاستداں کی موت یقینا بی جے پی کے لیئے ایک بڑی چوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں پرمود مہاجن انتقال کر گئے03 May, 2006 | انڈیا پرمود مہاجن کی حالت نازک 22 April, 2006 | انڈیا واجپیئی سیاست سے ریٹائر ہو گئے29 December, 2005 | انڈیا بی جے پی سخت گیر موقف پر قائم22 June, 2004 | انڈیا بی جے پی: عہدوں میں تبدیلیاں06 June, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||