پرمود مہاجن کی حالت نازک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹروں کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما پرمود مہاجن کی حالت تشویشناک ہے۔ پرمود مہاجن کو ان کے چھوٹے بھائی پروین مہاجن نےگولی مار دی تھی اور انہیں ممبئی کے ہندوجا ہسپتال لایا گیا تھا۔ ہسپتال میں ان کا آپریشن کیا گیا تھا۔ انہیں اب آپریشن تھیٹر سے باہر لایا جا چکا ہے اور انہیں مصنوعی نظام ِتنفس پر رکھا گیا ہے۔ ہندوجا ہسپتال کے ڈاکٹر انوپم ورما کے مطابق پرمود کے بدن میں تین گولیاں لگی تھیں۔ ایک گولی سینے اور کندھے کے پاس جبکہ دوگولیاں پیٹ میں لگیں جس کی وجہ سے شدید زخمی ہوئے ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق گولیوں سے ان کے جگر، لبلبے اور چھوٹی آنت کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ ’ آئی وی سی‘ پھٹنے سے خون بہنا نہیں بند ہو رہا ہے۔ اب تک مہاجن کو بیس بوتل خون دیا جا چکا ہے اور اسی لیئے ان کے بدن میں جوگولیاں ہیں وہ ابھی نہیں نکالی جا سکی ہیں کیونکہ جب تک خون کا بہاؤ بند نہیں ہوتا ان کا دوسرا آپریشن کرنا ناممکن ہے۔ دریں اثناء ہسپتال میں پرمود مہاجن کو دیکھنے کے لیئے جمِ غفیر اکٹھا ہے۔ تمام بڑے سیاسی لیڈر وہاں پہنچ چکے ہیں۔ ایل کے ایڈوانی نے جو پرمود مہاجن کی عیادت کے لیئے رائے بریلی سے ممبئی پہنچے تھے، میڈیاسے بات کرتے ہوئے کہا کہ’پرمود کی حالت نازک ہے اور اس لیئے ان کے لیئے اس وقت دعا کی جانی چاہیئے‘۔
بی جے پی کے سابق صدر ونکئیا نائیڈو، این سی پی کے لیڈراور مرکزی وزیر شرد پوار، شیوسینا لیڈر منوہر جوشی، ادھو ٹھاکرے اور چھگن بھجبل جیسے لیڈروں کے علاوہ صنعت کار انیل امبانی بھی ان کی عیادت کے لیئے ہسپتال پہنچے ہیں۔ پرمود مہاجن کا مکان ممبئی کے ورلی علاقے واقع ہے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی پروین مہاجن تھانے میں رہتے ہیں۔ ہفتے کی صبح پروین پرمود کےگھر ان سے ملنے آئے تھے۔ دونوں کے درمیان کسی بات پر جھگڑا شروع ہوگیا اور طیش میں آ کر پروین نے پستول نکال کر مہاجن کو تین گولیاں مار دیں۔ اس وقت پرمود مہاجن کی بیوی ریکھا اور انکے بیٹے راہل گھر پر موجود تھے۔ بعد میں پروین اسلحہ سمیت مقامی پولیس سٹیشن گئے اور انہوں نے خود کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اپنے بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ پرمود مہاجن کے بھائی ہونے کی سزا بھگت رہے تھے۔ پرمود مہاجن انہیں بے عزت کرتے تھے اس لیئے تنگ آ کر انہوں نے یہ قدم اٹھایاہے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی وہ ان باتوں کی تفتیش کر رہے ہیں لیکن پروین کے خلاف اقدام قتل کا کیس درج کر لیا گیا ہے اور ممبئی کے جے جے ہسپتال میں ان کا معائنہ کرانے لے جایا گیا ہے اور کل پروین کو عدالت میں پیش کیا جائےگا۔
اس دوران پروین کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ بہت پریشان ہیں ۔ پرمود مہاجن ایک متوسط طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کے والد پرائمری سکول کے استاد تھے۔ پانچ بھائی بہنوں میں پرمود سب سے بڑے ہیں اور پروین سب سے چھوٹے اور پرمود مہاجن کی ایک بہن بی جے پی لیڈر گوپی ناتھ منڈے کی بیوی ہیں۔ پرمود مہاجن سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے قریبی مانے جاتے ہیں اور کالج کے زمانے سے ہی پرمود اسٹوڈنٹس یونین لیڈر رہے اور اس طرح بعد میں سیاست میں انہوں نے قدم رکھا۔ بی جے پی میں ان کا قد کافی بڑا تھا اور میڈیا کو’ہینڈل‘ کرنے میں وہ ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ جوائنٹ پولیس کمشنر اروپ پٹنائیک کا کہنا ہے کہ مہاجن پر حملہ پہلے سے منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا اور جہاں تک ان کی معلومات ہیں یہ معاملہ جائیداد کو لے کر ہوا ہے لیکن ابھی یقین سے کچھ کہنا وقت سے پہلے ہوگا ۔ | اسی بارے میں پرمود مہاجن ہسپتال میں22 April, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||