پرمود مہاجن ہسپتال میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلیٰ رہنما پرمود مہاجن گولیاں لگنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ پولیس کے مطابق بی جے پی کے جنرل سیکرٹری پر گولیاں مبینہ طور پر ان کے بھائی نے چلائیں۔ اس جھگڑے کی وجہ ایک خاندانی تنازعہ بتایا جاتا ہے۔ مہاجن کو فائرنگ کے بعد ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم ہے۔ بھارتی ٹیلی ویژن چینلوں کے مطابق مہاجن کے بھائی پروین نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ ستاون سالہ مہاجن بی جے پی کی نوجوان’ٹیکنوکریٹ‘ قیادت میں شمار ہوتے ہیں جن کی جڑیں نچلی سطی پر نہیں ہیں۔ ممبئی پولیس کے جائنٹ کمشنر اروپ پٹنائک نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات اور آٹھ بجے کے قریب پیش آیا۔ پروین مہاجن نے مبینہ طور پر اپنے لائسنس والے پستول سے تین گولیاں فائر کیں۔ کمشنر پٹنائک نے کہا سکیورٹی گارڈز نے پروین کو بھائی ہونے کی وجہ سے پندرھویں منزل پر پرمود مہاجن کے فلیٹ میں جانے سے نہیں روکا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نجی نوعیت کا جھگڑا ہے۔ بی جے پی کے رہنما ونکایا نائڈو نے ٹیلی ویژن چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’ہمیں اس خبر سے شدید دھچکا لگا ہے اور ہم ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں‘۔ | اسی بارے میں بی جے پی‘ ترجیحات کا اعلان30 March, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||