BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 April, 2006, 06:33 GMT 11:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرمود مہاجن ہسپتال میں
پرومود مہاجن
فائرنگ خاندانی جھگڑے کا نتیجہ ہے: پولیس
بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلیٰ رہنما پرمود مہاجن گولیاں لگنے کے بعد ممبئی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

پولیس کے مطابق بی جے پی کے جنرل سیکرٹری پر گولیاں مبینہ طور پر ان کے بھائی نے چلائیں۔ اس جھگڑے کی وجہ ایک خاندانی تنازعہ بتایا جاتا ہے۔

مہاجن کو فائرنگ کے بعد ہسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی حالت مستحکم ہے۔

بھارتی ٹیلی ویژن چینلوں کے مطابق مہاجن کے بھائی پروین نے اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔

ستاون سالہ مہاجن بی جے پی کی نوجوان’ٹیکنوکریٹ‘ قیادت میں شمار ہوتے ہیں جن کی جڑیں نچلی سطی پر نہیں ہیں۔

ممبئی پولیس کے جائنٹ کمشنر اروپ پٹنائک نے بتایا کہ فائرنگ کا واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح ساڑھے سات اور آٹھ بجے کے قریب پیش آیا۔

پروین مہاجن نے مبینہ طور پر اپنے لائسنس والے پستول سے تین گولیاں فائر کیں۔

کمشنر پٹنائک نے کہا سکیورٹی گارڈز نے پروین کو بھائی ہونے کی وجہ سے پندرھویں منزل پر پرمود مہاجن کے فلیٹ میں جانے سے نہیں روکا۔ انہوں نے کہا کہ یہ نجی نوعیت کا جھگڑا ہے۔

بی جے پی کے رہنما ونکایا نائڈو نے ٹیلی ویژن چینل این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ’ہمیں اس خبر سے شدید دھچکا لگا ہے اور ہم ان کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہیں‘۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد