BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 May, 2006, 11:55 GMT 16:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرمود مہاجن انتقال کر گئے

پرمود
پرمود نے بی جے پی میں اہم کردار ادا کیا
انڈیا میں سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے جنرل سیکریٹری پرمود مہاجن بارہ دن تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد آخر کار بدھ کی شام چار بج کر دس منٹ پر انتقال کر گئے۔

ممبئی میں بی جے پی کے دفتر میں جھنڈہ سرنگوں کر دیا گیا ہے ۔ چھپن سالہ پرمود مہاجن کے پسماندگان میں بیوہ ریکھا مہاجن ایک بیٹا راہول اور بیٹی ہیں ۔

دوپہر دو بجے کے قریب پرمود مہاجن کے تنفس کا نظام ناکام ہو گیا ان کے پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا اور انفیکشن نے جسم کے کئی اعضاء کو ناکارہ کر دیا ۔ ڈاکٹروں نے ان کے گھر کے افراد کو پہلی مرتبہ انتہائی نگہداشت والے کمرے میں پرمود سے ملنے کی اجازت دی ۔ہسپتال کے اطراف پارٹی ورکرز جمع ہونے لگے ۔

بی جے پی لیڈر سشما سوراج ممبئی پہنچ چکی ہیں۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلٰی ولاس راؤ دیشمکھ نے کابینہ کی میٹنگ ملتوی کر دی اور مہاجن کو دیکھنے وہ ہسپتال پہنچ گئے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق اٹل بہاری واجپئی، ایل کے ایڈوانی ، وینکئیا نائیڈو، راج ناتھ سنگھ اور دیگر پارٹی لیڈران ممبئی کے لیئے روانہ ہوچکے ہیں۔ ہسپتال اور مہاجن کے گھر پورنا، گوداوری بلڈنگ کے اطراف پولیس کی نفری میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ پروین مہاجن کے گھر کے باہر بھی حفاظتی انتظامات سخت کر دئے گئے ہیں۔

کسی ناخوشگوار واقعہ کے خدشے کے پیش نظر پولیس کے ساتھ ریاستی ریزرو پولیس کی نفری بھی تعینات کر دی گئی ہے۔

 مہاجن کی موت سے بی جے پی کو بہت بڑا دھچکا لگے گا اور ان کی خالی جگہ بھرنے کے لیئے ان جیسا قابل لیڈر فی الحال پارٹی میں موجود نہیں ہے۔
پارٹی رہنما

مہاجن ہندوجا ہسپتال میں بارہ دنوں تک موت سے جنگ لڑتے رہے اور اس دوران ملک بھر کے ذرائع ابلاغ لگاتار ہسپتال کے باہر سے ان کی پل پل کی رپورٹ پیش کرتے رہے۔ان کی زندگی کے لیئے پرارتھنائیں اور دعاؤں کا دور جاری رہا ۔

ایک طرف جہاں پرمود مہاجن نے زندگی کو الوداع کہا وہیں انہیں گولی مارنے والے ان کے اپنے ہی چھوٹے بھائی پروین مہاجن کو عدالت نے بارہ روز تک پولیس حراست میں رکھنے کے بعد آرتھر روڈ جیل بھیج دیا۔ وہ وہاں سترہ مئی تک رہیں گے۔

مہاجن کی حالت پیر کی صبح سے خراب ہونے لگی انہیں حالانکہ مصنوعی نظام تنفس پر رکھا گیا تھا اس کے باوجود انہیں سانس لینے میں تکلیف ہوئی کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق ان کے پھیپھڑوں میں پانی بھر گیا تھا اور سانس کی نلی میں انفیکشن سانس لینے میں مشکل کا اصل سبب بنا۔ ان کا بلڈ پریشر تیزی کے ساتھ گرنے لگا ۔ گردوں کے خراب ہونے کی وجہ سے وہ ڈائیلائسیس پر تھے ۔

گزشتہ ماہ اپریل کی بائیس تاریخ کو پرمود مہاجن کے سب سے چھوٹے بھائی پروین مہاجن نے بہت ہی قریب سے پستول سے گولیاں چلائی تھیں ۔تین گولیاں ان کے جسم میں پیوست ہو گئیں ایک نے ان کے لبلبہ ، دوسری نے جگر اور تیسری نے چھوٹی آنت کو چھید ڈالا تھا ۔اس وقت چار گھنٹہ تک ان کا آپریشن چلا اور ڈاکٹروں نے جسم سے گولیاں نکالنے کے بجائے تیزی سے بہتے خون کو روکنے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر جی بی داور کی نگرانی میں پانچ ڈاکٹروں کی ٹیم ان کے علاج میں مصروف تھی۔ دوسرا آپریشن خون کے بہاؤ کو روکنے کے لیئے لگائے گئے پیک کھولنے کے لیئے کیا گیا۔

 پہلے بیان میں پروین نے پولیس کو بتایا کہ ان کے بھائی ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپناتے آئے تھے۔ اپنے ہی بھائی سے ملنے کے لیئے انہیں بھائی کے ذاتی اسسٹنٹ سے ملاقات کا وقت طے کرنا پڑتا تھا۔ وہ ان سے مالی مدد چاہتے تھے لیکن بھائی نے کبھی ان کی مدد نہیں کی۔
پروین مہاجن

جسم میں پانی بھرنے اور انفیکشن صاف کرنے کے لیئے تیسرا آپریشن ہوا لیکن اس کے بعد سے ان کی حالت مزید خراب ہونے لگی۔ مہاجن کے گھر والوں نے لندن کے مشہور ڈاکٹر محمد ریلا اور آسٹریلیا سے ڈاکٹر اسٹیون ڈین کو علاج کے لیئے بلایا۔

مہاجن کی عیادت کے لیئے بی جے پی لیڈر ایل کے ایڈوانی دو مرتبہ ممبئی پہنچے۔

ان کے علاوہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی، نائب صدر جمہوریہ بھیرو سنگھ شیخاوت، راج ناتھ سنگھ کے علاوہ نیشنلسٹ پارٹی لیڈر شرد پوار، بال ٹھاکرے ان کے بیٹے ادھو ٹھاکرے ، راج ٹھاکرے سمیت کئی بڑے سیاسی لیڈران، بالی وڈ کی ہستیاں اور صنعت کار آئے وہیں پاکستان کے نامور غزل گلوکار غلام علی بھی ہسپتال پہنچے۔

پروین مہاجن کے خلاف پولیس نے اقدام قتل کا کیس درج کیا اور اپنے پہلے بیان میں پروین نے پولیس کو بتایا کہ ان کے بھائی ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپناتے آئے تھے۔ اپنے ہی بھائی سے ملنے کے لیئے انہیں بھائی کے ذاتی اسسٹنٹ سے ملاقات کا وقت طے کرنا پڑتا تھا۔ وہ ان سے مالی مدد چاہتے تھے لیکن بھائی نے کبھی ان کی مدد نہیں کی۔

’عدالت نے انہیں پولیس حراست میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔ پروین ورلی پولیس اسٹیشن کے لاک اپ میں تھے۔ پولیس کے مطابق حراست کے دوران پروین خاموش رہے بلکہ انہوں نے مراٹھی میں گیت بھی گایا جس سے یہ احساس ہوتا تھا کہ انہیں اپنے فعل پر شرمندگی نہیں ہے۔ پروین مہاجن کو اب سترہ مئی تک عدالتی تحویل میں رکھا جائے انہوں نے ممبئی کی آرتھر روڈ جیل میں علیحدہ سیل کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

مہاجن آر آر ایس ( کٹر فرقہ پرست ) تنظیم کے حامی تھے بھارتی جنتا پارٹی جو اسی تنظیم کا سیاسی حصہ ہے، پرمود اس کے انتہائی سرگرم لیڈر رہے۔ان کی ٹکر کا اس وقت پارٹی میں کوئی لیڈر نہیں ہے۔ وہ بی جے پی اور ملک کی دوسری سیاسی پارٹیوں کے درمیان ایک کڑی کے طور پر کام کرتے تھے اور وہ اس طرح کے کام کے ماہر مانے جاتے تھے۔ صحافیوں سے اور دوسری سیاسی پارٹیوں کے لیڈران سے ان کے اچھے تعلقات تھے یہی وجہ تھی کہ ان کی عیادت کے لیئے بی جے پی ہی نہیں کئی بڑی سیاسی پارٹیوں کے اعلی لیڈران بھی ہسپتال پہنچے۔

مہاجن کی موت سے بی جے پی کو بہت بڑا دھچکا لگے گا اور ان کی خالی جگہ بھرنے کے لیئے ان جیسا قابل لیڈر فی الحال پارٹی میں موجود نہیں ہے۔ مرکز میں جب بھارتی جنتا پارٹی اور دیگر اتحادی جماعتوں کی حکومت تھی اسے کامیاب بنانے میں مہاجن کا بڑا ہاتھ مانا جاتا تھا اور اسی دور میں مہاجن نے ملک میں جدید ٹیکنالوجی کو کافی فروغ دیا اس وقت وہ وزیر برائے ٹیکنالوجی تھے۔

پارٹی میں ان کے مخالفین کی بھی کمی نہیں تھی۔ انڈیا شائننگ کا نعرہ دے کر پارٹی الیکشن میں مہاجن نے اہم رول ادا کیا لیکن پارٹی الیکشن ہار گئی اور ان کے مخالفین نے اسے مہاجن کی شکست قرار دیا۔اس کے باوجود پارٹی ہائی کمان نے ان پر اعتماد کیا اور وہ پارٹی کے جنرل سکریٹری بنائے گئے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد