BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 April, 2006, 07:54 GMT 12:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرمود نازک حالت میں،پروین ریمانڈ پر

پرمود مہاجن
پرمود مہاجن کو مصنوعی نظام تنفس پر رکھا گیا ہے
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما پرمود مہاجن ابھی بھی ممبئی کے ہندوجا ہسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان کی جنگ لڑ رہے ہیں۔

ہندوجا ہسپتال کے انتظامی ڈائریکٹر انوپم ورما نے اتوار کی صبح ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ’مہاجن کی حالت میں کچھ بہتری ہوئی ہے۔ انہوں نے اپنی پلکیں جھپکائیں اور ہاتھ ہلایا۔ جگر سے خون کے بہاؤ میں بھی کمی ہوئی ہے لیکن ان سب کے باوجود ابھی بھی ان کی حالت خطرے سے باہر نہیں ہے‘۔

ڈاکٹروں کے مطابق انہیں مصنوعی نظام تنفس پر رکھا گیا ہے اور ڈاکٹر گستاد داور کی سربراہی میں تمام ڈاکٹرز اس بات کی کوشش میں ہیں کہ پہلے خون کا بہاؤ بند ہو اور ان کی حالت کچھ بہتر ہو تاکہ ان کے بدن سےگولیاں نکالنے کے لیئے آپریشن کے بارے میں سوچا جا سکے۔

بی جے پی کے ترجمان پرکاش جاؤڑیکر کے مطابق لندن سے ڈاکٹر محمد ریلے ممبئی پہنچ چکے ہیں اور ان سے جگر کی تبدیلی سے متعلق مشورہ کیا جائے گا۔

دریں اثناء بڑے سیاسی لیڈران اور معزز ہستیوں کا ہسپتال میں مہاجن کی عیادت کے لیئے آمدورفت جاری ہے۔ اتوار کو نائب صدر جمہوریہ بھیرو سنگھ شیخاوت اور اٹل بہاری واجپئی مہاجن کی عیادت کے لیئے آنے والوں میں شامل ہیں۔

اس سے پہلے ہفتے کو امیتابھ بچن اور جیہ بچن، مکیش امبانی، انل امبانی، شبانہ اعظمی، جاوید اختر، سشما سوراج اور وسندھرا راجے سندھیا جیسی مشہور ہستیاں عیادت کے لیئے پہنچی تھیں لیکن چونکہ مہاجن سے ملنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جا رہی ہے اور وہ صرف مہاجن کی بیوی ریکھا، ان کے بچوں اور گوپی ناتھ منڈے سے ملاقات کر کے واپس چلے گئے۔

ہفتے کے روز پرمود مہاجن کو ان کے چھوٹے بھائی پروین مہاجن نے پرمود کے ہی گھر میں گولیاں ماری تھیں۔ پروین مہاجن نے پولیس کو بیان دیا تھا کہ وہ اپنے بڑے بھائی کے رویہ سے ناخوش تھے۔ پروین بلڈنگ کنسٹرکشن کا چھوٹا موٹا کاروبار کرتے ہیں۔

پروین مہاجن پولیس کی تحویل میں

پولیس کو دیئے گئے بیان کے مطابق پروین مہاجن جمعہ کی رات پرمود مہاجن کے گھرگئے۔ مہاجن نے ان کے ساتھ انتہائی سخت رویہ اپنایا اور انہیں مبینہ طور پر دھمکی بھی دی ،جس کے بعد وہ سنیچر کی صبح ایک بار پھر ان کے گھر گئے لیکن ان کے بڑے بھائے کا رویہ پہلے جیسا ہی تھا وہ انہیں نظر انداز کر کے اخبار پڑھتے رہے۔ اپنی بےعزتی اور بھائی کے خشک رویے سے پروین کو غصہ آ گیا اور انہوں نے پستول نکال کر پرمود پر کئی فائر کر دیئے ۔

پروین کے خلاف کیس درج کرنے کے بعد پولیس ان کےطبّی معائنے کے لیئے انہیں سنیچر کی شام جے جے ہسپتال لے گئی تھی جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں بالکل تندرست قرار دیا۔

پروین مہاجن کے طبی معائنے کے بعد پولیس نے ان کا چھ روزہ ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

پولیس کمشنر اے این رائے نے بتایا کہ’پروین ذہنی طور پر تندرست ہیں اور انہوں نے قتل کا منصوبہ ایک ہفتہ قبل بنا لیا تھا‘۔ کمشنر نے پروین کے وکیل نند کمار راجورکر کے اس دعوے کوغلط قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کے موکل کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے اور انہوں نے جو کیا ہے وہ زبردست ذہنی تناؤ کے نتیجے میں کیا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد