BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 April, 2006, 09:37 GMT 14:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پرمود مہاجن کی حالت مزید خراب

پرمود مہاجن
اس حالت میں مہاجن کے آپریشن کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا: ڈاکٹر
بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما پرمود مہاجن کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔

ہندوجا ہسپتال کے انتظامی ڈائریکٹر ڈاکٹر انوپم ورما کے مطابق مہاجن کے گردوں نے کام کرنا تقریباً بند کر دیا ہے اور اسی لیئے انہیں’ ڈائلیسس‘ پر رکھا گیا ہے۔

پرمود مہاجن کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے اور انہیں مسّکن ادویات دی جا رہی ہیں۔ سانس لینے میں تکلیف کی وجہ سے انہیں مصنوعی نظامِ تنفس کا سہارا دیا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ مہاجن چونکہ ذیابیطس کے بھی مریض ہیں اس لیئے اس بات کا بھی خیال رکھا جارہا ہے کہ کہیں وہ کسی طرح انفیکشن کا شکار نہ ہو جائیں۔

آسٹریلیا سے پرمود کے علاج کے لیئے آنے والے ڈاکٹر اسٹیون ڈین نےصحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈاکٹرز مہاجن کا جس طرح سے علاج کر رہے ہیں اس سے وہ مطمئن ہیں لیکن اس حالت میں مہاجن کے آپریشن کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘۔

گزشتہ اتوار کی شب پرمود مہاجن کا ایک معمولی آپریشن کیا گیا جس میں ان کے جگر سے خون کا بہاؤ بند کرنے کے لیئے رکھا جانے والا’پیڈ‘ نکال لیا گیا۔ مہاجن کے جگر سے خون کا بہاؤ بند ہو گیا تھا تاہم ان کے بدن میں پانی جمع ہو چکا تھا جسے نکالا گیا ہے تاہم اس وقت ان کی حالت گردوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے خطرے میں ہے۔

پرمود زندگی کے اس امتحان میں بھی کامیاب ہوں گے:واجپئی

جگر کی تبدیلی کے عالمی ماہر ڈاکٹر محمد ریلا بھی مہاجن کا علاج کرنے والی ڈاکٹروں کی ٹیم میں شامل ہیں۔ انہیں مہاجن کی بیوی ریکھا نے ذاتی طور پر لندن سے یہاں بلایا ہے۔ ڈاکٹر ریلا کا بھی کہنا ہے کہ جب تک مہاجن کی حالت بہتر نہیں ہوتی ہے وہ کسی بھی طرح کے آپریشن کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے ہیں۔

مہاجن کی حالت اتوار کو دن میں بہتر ہوگئی تھی لیکن شام ہوتے ہوتے ان کی حالت بگڑنے لگی تھی کیونکہ ان کے بدن میں خون اور پانی کی کافی مقدار جمع ہو گئی تھی جس کا گردوں پر بھی اثر ہو رہا تھا۔

ہندوجا ہسپتال میں پرمود مہاجن کی عیادت کے لیئے بی جے پی رہنماؤں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا۔گزشتہ روز اٹل بہاری واجپئی آئے تھے اور انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ’پرمود ہمیشہ بڑے سے بڑے سیاسی بحران سے کامیابی کے ساتھ نکل آئے ہیں اور وہ زندگی کے اس امتحان میں بھی کامیاب ہوں گے‘۔ پیر کی صبح مرلی منوہر جوشی مہاجن کی عیادت کے لیئے ہسپتال پہنچے۔

پروین مہاجن کو پیر کو عدالت میں پیش کیا گیا

اس دوران پولیس پرمود مہاجن کے بھائی پروین مہاجن سے تفتیش کر رہی ہے۔جوائنٹ پولیس کمشنر اروپ پٹنائیک نے بتایا کہ پولیس کی تفتیش کا رخ اس بات کی جانب ہے کہ کہیں انہوں نے اپنے بھائی پر کسی سازش کے نتیجہ میں تو حملہ نہیں کیا۔

پروین مہاجن تھانے میں واقع اپنے گھر سے صبح ساڑھے پانچ بجے نکلے تھے اور اپنے بڑے بھائی کے گھر دو گھنٹے بعد پہنچے جبکہ یہ راستہ صبح کے اوقات میں بمشکل پینتالیس منٹ کا ہے۔ اب پولیس یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ اس دوران وہ کہاں تھے اور کس سے ملے۔

پروین مہاجن نے اپنے بڑے بھائی پر سینچر کی صبح ان کے گھر میں ہی پستول سے گولیاں چلائی تھیں ۔ تین گولیاں پرمود کے بدن میں پیوست ہوگئی تھیں اور ان کی وجہ سے ان کے جسم کے تمام اہم اعضاء کو نقصان پہنچا تھا ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد