انوپ جلوٹا اور غلام علی کا نغمہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں بھجن سمراٹ انوپ جلوٹا اور پاکستان کے معروف غزل کے گائک غلام علی دونوں ممالک کی آزادی کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر ایک ساتھ اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ چودہ اور پندرہ اگست کواس سال دونوں ممالک اپنے اپنے طور پر کئی پروگرام منعقد کر رہے ہوں گے لیکن یہ دونوں فنکار ممالک کی حدود کے تنازعات سےدور ماریشیس میں ایک ساتھ پیار محبت اور بھائی چارہ کا گیت گانے کی تیاری میں ہیں۔ اپنے اپنے فن کی دنیا کےشہنشاہ دونوں فنکار انیس اگست کو ایک ساتھ گائیں گے۔ اس نغمہ کو انوپ جلوٹا نے لکھا اور کمپوز بھی کیا ہے۔گیت کے بول ہیں’ آؤ مل کر سر بکھرائیں، دونوں مل کر پریم بڑھائیں‘۔ ماریشیس کے وزیراعظم اور صدر کی موجودگی میں یہ پروگرام تین دن تک چلے گا۔ پہلے دن یعنی سترہ اگست کوجلوٹا اکیلے بھجن گائیں گے اور اٹھارہ کو غلام علی اپنے منفرد انداز میں سامعین کے سامنے اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔ البتہ انیس کو دونوں فنکاروں کے سر ایک دوسرے سے ملیں گے جو دونوں ممالک کی باہمی دوستی کی غمازی کریں گے۔ جلوٹا کے مطابق ماریشیس ایک ہندو ملک ہے اور وہاں یوپی اور بہار کے بہت لوگ آباد ہیں اس لیے وہ بھجن پسند کرتے ہیں۔غزل سے بھی واقف ہیں اور غلام علی کی غزلوں کے دیوانے ہیں اس لیے خاں صاحب کو سننے کے لیے بیقرار ہوں گے۔ جلوٹا غلام علی کو خاں صاحب کے کہہ کر بلاتے ہیں۔ان کا کہنا ہے ’ ہم دونوں اس کنسرٹ پر کافی محنت کر رہے ہیں۔ گزشتہ روز ہی ہم نے ہری ہرن ( گلوکار ) کے گھر بیٹھک میں اس کنسرٹ کے بارے میں طویل گفتگو کی‘۔
جلوٹا کے نزدیک فنکار ایسا وہ واحد ذریعہ ہیں جو دونوں ممالک کے درمیان کی تلخیوں کو محبت میں بدلنے کا کام کر سکتے ہیں ’ ہم نے اپنے گیت میں یہی بتانے کی کوشش کی ہے کہ سرحدیں انسان کو تقسیم نہیں کر سکتیں۔ الگ ہونے کے بعد بھی محبت اور انسانیت کو زندہ رکھنے کے لیے بھائی چارگی کی ضرورت ہے، سرحدوں کے یہ فاصلے دلوں کے درمیان دوریاں نہیں پیدا کر سکتے اور اسی لیے دونوں ممالک کے فنکاروں نے انسانیت کو زندہ رکھنے اور محبت کو قائم رکھنے میں اہم رول ادا کیا ہے‘۔ غزل کےاستاد غلام علی کا خیال ہے کہ ’ موسیقی کسی سرحد اور ملک کی پابند نہیں ہوتی اور چونکہ ہم دونوں فنکار ہند پاک دوستی کے دل سے خواہاں ہیں اس لیے محبت کا یہ نغمہ ایک ساتھ چھیڑ رہے ہیں‘۔ پروگرام کے منتظم اشوک موٹوانی کے مطابق ساٹھ سالہ تقریبات کا اختتام صرف ماریشیس میں کنسرٹ کے بعد ختم نہیں ہو گا۔ فنکاروں کی یہ مقبول جوڑی اس کے بعد امریکہ، کشمیر، پاکستان اور انڈیا میں بھی اپنے فن کا جادو بکھیرے گی۔ | اسی بارے میں سونو نگم بھی دل جیتنے پہنچ گئے07 April, 2004 | فن فنکار ’مشترکہ فلم سازی ہونی چاہیے‘06 December, 2004 | فن فنکار ’انسانی ہمدردی، سرحد سے بالاتر‘19 November, 2005 | فن فنکار پاک بھارت کرکٹ پر بالی ووڈ کی فلم09 April, 2004 | فن فنکار فلم بھارتی: عکس بندی پاکستان میں19 October, 2003 | فن فنکار ۔۔۔مگر حکومت نہیں مانتی05 October, 2005 | فن فنکار پاک ہند تھیٹر میلہ21 April, 2006 | فن فنکار پاک بھارت تعلقات کے 60 برس01 September, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||