پاک ہند تھیٹر میلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شہر لاہور اس مرتبہ موسمِ بہار میں اگرچہ پتنگ بازی کی رونق سے محروم رہا لیکن شہر کی دیگر ’بہاریہ مصروفیات‘ میں کوئی کمی نہیں آئی: باغِ جناح کے درختوں پر نئے پھول پات نکلے، منٹگمری ہال کی دیواروں پر نئی سفیدی ہوئی، چڑیا گھر کے ٹکٹ آفس پر عورتوں مردوں اور بچّوں کے ٹھٹ لگے رہے اور ریس کورس پارک کے پولو لاؤنچ میں ساڑھے چھ سو روپے کی ’فرائڈ فِش‘ کے دوقتلے آرڈر کرنے والی خواتین کی تعداد میں بھی کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ بہار کی انہی رونقوں میں لاہور آرٹ کونسل اور اجوکا تھیٹر کا پیش کردہ ڈرامہ فیسٹیول ’پنج پانی‘ بھی شامل ہے جِس میں اس برس بھارت کی ناٹک منڈلیوں کا بول بالا رہا۔ دس روز تک جاری رہنے والے اس تھیٹر میلے کی بدولت اہلِ لاہور کو ہر روز دو تین نئے کھیل دیکھنے کو ملتے رہے۔ اِن میں جہاں بُلھا اور دُکھ دریا جیسے جانے پہچانے ڈرامے موجود تھے وہیں نجم حسین سیّد کی الفو پیرنی اور گریش کنّڑ کے ناگ منڈل جیسے انوکھے اور تجرباتی کھیل بھی موجود تھے۔
’الفوپیرنی دی وار‘ ساڑھے پانچ گھنٹے کا ایک منظوم ڈرامہ ہے جِس میں وقت سیدھی لکیر میں نہیں چلتا بلکہ تاریخ کے مختلف ادوار ایک تصوراتی ترتیب میں آتے جاتے دکھائی دیتے ہیں، چنانچہ محبت کی داستان رقم کرنے والا شاعر، جو کہ کھیل کا مرکزی کردار ہے، کبھی قدیم ہند اور خلیفوں کے بغداد میں جا پہنچتا ہے اور کبھی برطانوی ہند کی سیر کرتا ہوا اپنے ہم عصر کرداروں کی طرف آن نکلتا ہے۔ شاعر کا سامنا داستانِ امیر حمزہ کے مرکزی کردار سے بھی ہوتا ہے جہاں ہیر اور سہتی کے انداز میں اُن کا طویل مناظرہ اور مجادلہ بھی دیکھنے میں آتا ہے لیکن تمام مناظر کے پسِ پُشت جو ’تھِیم‘ کارفرما نظر آتی ہے وہ منافقت اور ریاکاری کے خلاف ایک نعرہِ احتجاج ہے۔ گریش کنّڑ کا ’ناگ منڈل‘ ایک اور ہی دنیا کی خبر لاتا ہے: دیو مالا اور اساطیر کی دنیا، لیکن آج کی زندگی سے جُڑی ہوئی اور آج کے مسائل سے گھِری ہوئی۔ گریش کنّڑ جنوبی ہند میں ڈرامے، تھیٹر اور فلم کا بہت بڑا نام ہیں۔ اُن کے کھیل دنیا بھر کی زبانوں میں ترجمہ ہو کر عالمی سطح کی شہرت حاصل کر چُکے ہیں۔ پاک بھارت کشیدہ تعلقات کے باعث اہلِ پاکستان اُن کے فن پاروں سے مستفید ہونے کا موقع حاصل نہ کر سکے تھے لیکن اب اس تھیٹر فیسٹیول کے ذریعے کم از کم لاہور والوں کو جنوبی ہند کے اس عظیم تمثیل نگار کا کام دیکھنے اور سراہنے کا نادر موقع ہاتھ آیا ہے۔
ناگ منڈل کا پنجابی ُروپ سٹیج کی معروف بھارتی ہدایتکار نیلم مان سنگھ کی نگرانی میں تیار ہوا ہے۔ نیلم اس سے پہلے بھی پاکستان کا دورہ کر چکی ہیں لیکن اُن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کا ٹُور کرتے ہوئے جب اُن کی ناٹک منڈلی لاہور پہنچتی ہے تو سوچ میں پر جاتی ہے کہ یہ کیسا ’فارن کنٹری‘ ہے جہاں کوئی چیز بھی اجنبی نہیں۔۔۔ نہ لوگ، نہ زبان، نہ رسم و رواج ! یہ امر خوش آئِند ہے کہ جِس طرح ہندوستان کی مختلف ناٹک منڈلیاں لاہور آئی ہیں اُسی طرح یہاں کے بہت سے تھیٹر گروپ بھی بھارت میں مدعو کئے گئے ہیں اور یہ توقع بے جا نہیں `کہ اس ثقافتی تبادلے سے دونوں جانب کے عوام کو پُرانی دُشمنیاں فراموش کر کے ایک دوسرے کے قریب آنے اور اکیسویں صدی کی چنوتیوں کو مشترکہ طور پر قبول کرنے کا موقع ملے گا۔ میلے میں پیش کردہ ڈرامے ’گڈی چڑہن دی کاہل‘ تحریر و ہدایات کیول دھالیوال |
اسی بارے میں معجزۂ فن: نیا ہفتہ وار پروگرام01 May, 2005 | فن فنکار معجزۂ فن: نیا ہفتہ وار پروگرام04 May, 2005 | فن فنکار لالی ووڈ کل اور آج: نویں قسط23 August, 2005 | فن فنکار اشفاق احمد: بلیک اینڈ وائٹ یادیں 06 September, 2005 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||