نعیمہ احمد مہجور بی بی سی اردو ڈاٹ کام |  |
بھارت اور پاکستان اپنی آزادی کے ساٹھ برس مکمل کر رہے ہیں۔ آزادی کی اُس تحریک میں اس خطے کی عورتوں نے مردوں کے شانہ بشانہ کلیدی کردار ادا کیا مگر برصغیر کی تقسیم کے مورخوں نے ابھی تک ان کے کردار پر تفصیل سے نہیں لکھا اور نہ ہی چند گنی چنی خاتون سیاست دانوں کو چھوڑ کر ان کی کوشثوں کو سراہا گیا۔ حالانکہ تقسیم کے زخم سب سے پہلے ایک عورت کو ہی لگے جو نہ صرف اپنی زمین و جائیداد سے محروم ہوئی بلکہ اپنے عزیز واقارب کی جدائی میں سالہاسال ہر پل تڑپتی رہی۔ ایسی ہی گمنام اور زخم خوردہ خواتین سے ملنے کے لیے میں بھارت اور پاکستان کے بعض علاقوں میں جا کر ان سے ملی، ان کی یادوں کو جھنجھوڑا اور وہ حالات جاننے کی کوشش کی جن سے وہ گزر چکی ہیں اور اس وقت بھی ان ہی یادوں کو اپنے آنچل میں سمیٹے اس گھڑی کا انتظار کر رہی ہیں کہ کب وہ اپنے بچھڑے ہوؤں سے ملیں گی۔ میں نے سرحد پار تقریباً سینکڑوں خواتین سے بات کر کے یہ جاننے کی کوشش کی کیا وہ برصغیر کے بٹوارے سے پیدا شدہ حالات سے سمجھوتہ کر پائی ہیں یا تاریخ کے اس واقعے سے لگنے والے زخموں کو بھول کر آگے نکل چکی ہیں۔ ہوشیار پور کی مصباح بیگم نے جو اب لاہور میں رہتی ہیں پرنم آنکھوں سے بتایا کہ ’ آزادی کے سترہ روز بعد میرے والدین اپنی سرزمین کو چھوڑنے کے غم میں تڑپ تڑپ کر مرگئے۔ میں اس لمحے کو اب تک بھول نہیں پائی ہوں‘۔ میں نے پاکستان کے سرحدی علاقے بھمبر کے تقریباً نوے سالہ عبدالغنی کی وہ دل دہلانے والی داستان سنی جب مذہبی فسادات کے دوران اس گاؤں کی دو سو چوہتر عورتوں کو مکان میں بند کر کے زندہ جلا دیا گیا اور وہ ایک بے بس اور لاچار انسان کی طرح درودیوار کے شگافوں سے ان کے جسم کی چربی کو باہر گرتا دیکھتا رہا۔ عبدالغنی کی آنکھوں سے برسات جاری تھی مگر وہ ایک لمبی آہ کھینچ کر کہنے لگا ’ہمیں اب ایک دوسرے کو معاف کرنا چاہے۔ میرا اسلام مجھے یہی سبق دیتا ہے‘۔ آزادی کے ساٹھ سال کے اس عرصے میں برصغیر کی عورتوں نے کس طرح کے سیاسی حالات دیکھے ان سے کیسے متاثر ہوئیں۔ کہاں کہاں پر اپنا کردار نبھانا چاہا اور ان کے راستے میں کہاں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں، میں نے گھر گھر جا کر ہر مکتبۂ فکر سے وابستہ عورتوں سے جاننا چاہا مگر ان عورتوں کی زبان پر ایک ہی کلمہ تھا ’ کاش ہندوستان تقسیم نہ ہوا ہوتا یا برصغیر کی تقسیم کے فیصلہ میں ہمیں بھی شامل کر لیا گیا ہوتا تو شاید مسلمان اتنے بکھرے اور اتنے ابتر نہ ہوتے اور نہ ہی ساٹھ برس سے جاری یہ دشمنی، بدامنی اور بداعتمادی ہوتی‘۔ |