BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 August, 2007, 18:16 GMT 23:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلوچستان سرکشی کا حل: بینظیر بھٹو

پاکستان لیگ آف امریکہ
بینظیر بھٹو نے نیویارک میں پاکستان لیگ آف امریکہ کے اجلاس میں شرکت کی
پاکستان کی سابق وزیر ا‏‏عظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو نے کہا کہ بلوچستان میں سرکشی اور صوبہ سرحد میں شدت پسند کارروائیوں سے ملک کو شدید خطرہ ہے جسے صرف جمہوری حکومت ہی ختم کرسکتی ہے۔

بینظیر بھٹو نے وضاحت کی کہ فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف اور ان کے درمیاں ان کی وطن واپسی اور وردی اتارنے کے مسئلے پر مفاہمت ہوئی ہے۔


انہوں نے اس کی تردید کی کہ ایک برطانوی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ فوجی صدر پرویز مشرف سے ان کی وردی نہ اتا رنے پر خفیہ مفاہمت ہوئی ہے۔

نیویارک میں پاکستانیوں کی ایک تنظیم پاکستان یو ایس ليگ کی طرف سے پاکستان کے یوم آزادی کے جلسے سے خطاب کے بعد پی پی پی کی سربراہ بینظیر بھٹو سکیورٹی کے حصار میں کھانے کی میز پر صحافیوں کے ایک گروپ سے بات چیت کر رہی تھیں۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف سے مذاکرات کامیاب ہوں یا ناکام وہ ہر صورت ستمبر سے اکتوبر کے درمیان وطن واپس جانا چاہتی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ اکتوبر میں عید سے قبل وہ وطن واپس ہوں۔

انہوں نے اپنے اس بیان کو دہرایا کہ ان کی پارٹی کسی بھی صورت میں باوردی صدر قبول نہیں کرے گي۔ انہوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار دو میں بھی ان کے فوجی صدر پرویز مشرف سے مذاکرات ہوئے جس کے دوران انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل روک دی گئی تھی اور مذاکرات ناکام ہونے پر پیپلز پارٹی میں سے ایک دھڑا بنا کر حکومت قائم کی گئي تھی۔ انہوں نے کہا ان کے فوجی صدر پرویز مشرف سے مذاکرات ناکام ہوں یا کامیاب پاکستان میں جمہوریت اور ا نصاف کے نظام کیلیے ایک پر امن راستہ تلاش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے سندھی قوم پرست رہنما اور امریکی شہری ڈاکٹر صفدر سرکی سمیت پاکستان میں خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھوں سیاسی لوگوں کی گمشدگیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل وہ لاطینی امریکہ میں ایسی گمشدگیوں کے بارے میں سنتی تھیں لیکن اب پاکستان میں بھی فوجی حکومت کے ہاتھوں شہریوں کوگرفتار کرکے گم کرنے کی خبریں آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری ڈاکٹر صفدر سرکی ایک سال سے زیادہ عرصے سے غائب ہیں اور ان کی بیوی اور بچے انتہائي پریشان ہیں۔

سنہ 2002 بھی مشرف سے مذاکرات
 سنہ دو ہزار دو میں بھی فوجی صدر پرویز مشرف سے مذاکرات ہوئے جس کے دوران انتخابات کے بعد حکومت کی تشکیل روک دی گئی اور مذاکرات ناکام ہونے پر پیپلز پارٹی میں سے ایک دھڑا بنا کر حکومت قائم کی گئي تھی
بینظیر

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں چیف جسٹس کی بحالی سے عوام میں امید کی ایک کرن ابھری ہے کہ صرف سیاسی مسئلوں پر ہی نہیں عام لوگوں سے بھی انصاف ہوگا وہ پاکستان کی عدلیہ کو اس کی آزادی پر مبارک باد دیتی ہیں۔

انہوں نے اپنے ایک پیشرو مقرر کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل جج دو اقسام کے فیصلے لکھتے تھے ایک حکومت کو خوش کرنے کے لیے اور دوسری صحیح ججمنٹ۔ انہوں نے ججمنٹ کی پہلی قسم کے طور پر اپنے خلاف انیس سو ننانوے میں دیے جانے والے فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف یہ ججمنٹ سماعت کرنے والے جج نے نہیں بلکہ وزیر قانون نے لکھی تھی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی عدلیہ کی آزادی کا دور شروع ہوا ہے جس سے عام لوگوں، خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ بینظیر بھٹو پاکستان یوا یس لیگ کی جانب سے پاکستان کی یوم آزادی تقریب میں مہمان خصوصی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی نے عوام کے لیے انگریزی حروف تہجی کی چار ’ایز‘ پر مبنی منشور جاری کیا ہے۔ ایک: ایجوکیشن یا تعلیم، دو: انرجی یا توانائي، تین: انوائرونمنٹ یا ماحولیات اور چار: ایمپلائیمنٹ یا روزگار۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کو امن، انصاف اور جمہوریت صرف جمہوری حکومت ہی مہیا کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب جب پاکستان میں فوجی حکومتیں آئي ہیں تب تب ملک میں مذہبی جما‏عتوں نے دہشت اور انتہا پسندی کی فضا قائم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انیس سو اکہتر میں یحیٰی خان کے دور حکومت میں الشمس اور البدر قائم کی گئي تھیں، جنرل ضیاء الحق کے دنوں ميں فرقہ واریت اور موجودہ مشرف حکومت میں خود کش بمبار پیدا ہوئے ہیں۔

چیف جسٹس کی بحالی امید کی کرن
 پاکستان میں چیف جسٹس کی بحالی سے عوام میں امید کی ایک کرن ابھری ہے کہ صرف سیاسی مسئلوں پر ہی نہیں عام لوگوں سے بھی انصاف ہوگا
بینظیر بھٹو

انہوں نے کہا کہ سب کے سب مدرسے خراب نہیں لیکن اس جگہ کو مدرسہ نہیں کہا جا سکتا جہاں اسلحہ اور خود کش بم بار ہوں۔

انہوں نے لال مسجد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پانچ سال قبل تک لال مسجد تو اسلام آباد میں موجود تھی لیکن وہاں مدرسے کے نام پر اسلحہ اور خود کش بم بار چھپائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے قبل غازی رشید اسلحہ سمیت گرفتار ہوئے تھے لیکن وفاقی وزیر مذہبی امور کی سفارش پر رہا کردیے گئے۔

انہوں کہا کہ اگر کسی شخص کو امریکی ہوم لینڈ سکیورٹی نیویارک میں اسلحہ سمیت گرفتار کرے تو اس کی سفارش کرنے والے کو بھی سازش میں شریک ہونے پرگرفتار کر لے گي لیکن پاکستان میں غازی رشید کی سفارش کرنے والے وزیر کو ان کے عہدے پر موجود رہنے دیا گيا۔

انہوں نے کہا کہ ہر اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ نیٹو پر حملے کے لیے قبائلی علاقے خود کش بمباروں کیلے محفوظ جنت بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ملک ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک پہلے ہی ٹوٹ جانے سے دوچار ہوچکا ہے اس لیے ملک کو ٹوٹنے سے بچانے کیلیے جمہوری نظام او اس کی طرف پر امن پیش رفت انتہائي ضروری ہے۔ ملک اور خطے میں امن انصاف اور آزادی صرف جمہوری حکومت ہی لاسکتی ہے جس سے عام آدمی کے لیے انصاف پر مبنی معاشرہ قائم ہو گا۔

 بینظیر بھٹوریڈ نوٹس کالعدم
بی بی کے ریڈ نوٹس کالعدم قرار دے دیے گئے
جنرل مشرف بینظیر بھٹوابوظہبی ملاقات
جنرل مشرف سے ملاقات پر بینظیر کیا کہتی ہیں
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)’ڈیل‘ اور صوبہ سندھ
پیپلز پارٹی کا گڑھ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
عوامی ردعملبینظیر مشرف ڈیل
زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
بینظیرڈیل کے مضمرات
بینظیر مشرف بات چیت اور پاکستانی سیاست
جنرل مشرفچیف جسٹس فیصلہ
’مشرف کے لیے بینظیر کی اہمیت بڑھ گئی‘
بینظیر بھٹوگرفتاری کا ڈر نہیں
’اگرگرفتار بھی کریں پھر بھی واپس جاؤں گی‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد