BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 August, 2007, 19:19 GMT 00:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وردی پر صدر سے خفیہ مفاہمت‘
صدر مشرف سے بے نظیر کی ابو طہبی میں ملاقات ہوئی تھی
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ ان کی وطن واپسی اور صدر جنرل پرویز مشرف کی وردی کے بارے میں ان کے اور جنرل مشرف کے درمیان ’خفیہ مفاہمت‘ ہے۔

نیویارک میں برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے اکتوبر کے وسط تک پاکستان واپس جانے کےبارے میں سوچ رہی ہیں۔

صدر مشرف کے ساتھ اپنی ’ڈیل‘ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کا انحصار صدر مشرف کی طرف سے اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے پر ہے جن میں تیسری مرتبہ وزیر اعظم کا انتخاب لڑنے پر قانونی پابندی کو ختم کرنا بھی شامل ہے۔

بے نظیر بھٹو نے کہا کہ وہ جلد از جلد پاکستان واپس جانا چاہتی ہیں لیکن صدر مشرف اب تک ان کی وطن واپسی کے حق میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف ان کی وطن واپسی کے مخالف نہیں بلکہ انہیں واپسی کے وقت پر اختلاف ہے۔

وردی کا معاملہ
 صدر مشرف کے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کے معاملے میں ان کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ وہ اس پر اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں گے کیونکہ یہ معاملہ آخر کار سپریم کورٹ میں طے پانا ہے۔
بے نظیر بھٹو

اپنی وطن واپسی کے بارے میں ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ ستمبر اور دسمبر کے درمیان کسی وقت ملک واپس چلی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ صدر جنرل مشرف اکتوبر اور نومبر میں عام انتخابات کا اعلان کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر میرے پاس آلہ دین کا چراغ ہوتا میں اکتوبر میں عید سے پہلے وطن واپس پہنچ جاتی۔‘

ابوظہبی میں صدر مشرف سے اپنی ملاقات کی تصدیق اور ترید کئے بغیر انہوں نے کہا کہ ’صدر مشرف سے ہمارے مذاکرات طویل عرصے سے چل رہے ہیں۔ ہم نے وردی کے معاملے پر بھی بات کی ہے اور ہم خفیہ مفاہمت پر پہنچ گئے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ وطن واپسی پر بھی ان کی صدر مشرف سے مفاہمت ہو گئی ہے۔

انہوں نےکہا صدر اور وزیر اعظم کے درمیان اختیارات کے توازن پر بھی بات چیت ہوئی ہے لیکن اس میں مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔

بے نظیر نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے بارے میں بھی مذاکرات ہوئے ہیں اور ان کی جماعت صدر مشرف کی طرف سے ان پر عملدرآمد کی منتظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات میں دھاندلی کی گئی تو اس سے صدر مشرف کے ساتھ مفاہمت یا ڈیل ختم ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ اس مفاہمت پر عملدرآمد کرنے کا پہلا قدم تیسری مرتبہ وزیر اعظم کا انتخاب لڑنے پر قانونی پابندی کوختم کیئے جانا قرار پایا تھا۔

بے نظیر بھٹو نے کہا کہ صدر مشرف کے موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہونے کے معاملے میں ان کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ وہ اس پر اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں گے کیونکہ یہ معاملہ آخر کار سپریم کورٹ میں طے پانا ہے۔

بے نظیر بھٹو نے مزید کہا کہ بہت سے معاملات پر ان کی صدر مشرف سے مفاہمت ہو گئی ہے اور بہت سے معاملات پر یہ طے پایا کہ وہ اپنے اپنے موقف پر قائم رہیں گے کیونکہ یہ معاملات تیسرے فریق نے طے کرنے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اصل میں اس ڈیل کا انحصار اعتماد سازی کے ان اقدامات پر ہے جو اس مہینے کے اختتام تک کیئے جانے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت بہت تیزی سے گزر رہا ہے اور اسی مہینے ان کی جماعت کے قریبی رفقا انتخابات کے بارے میں حکمت عملی طے کرنے کے لیے ایک ہنگامی ملاقات کے لیے نیویارک آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننے پر پابندی کو ختم اور اس بارے میں قانونی ترمیم اگست کے آخر تک ہی کی جانی چاہیے۔

اسی بارے میں
بینظیر کا ریڈ نوٹس کالعدم
07 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد