بینظیر کا ریڈ نوٹس کالعدم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے خلاف انٹرپول کے ذریعے جاری کیے گئے ریڈ نوٹس کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل بنچ نے بینظیر بھٹو کی اپیل کی سماعت کی اور حکومتی موقف کو رد کرتے ہوئے درخواست کو نمٹا دیا۔ بینظیر بھٹو کے وکیل فاروق ایچ نائیک کا موقف تھا کہ انہوں نے تمام حقیقی گوشوارے ظاہر کئے ہیں اور کوئی غلط بیانی نہیں کی۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں قومی احتساب بیورو نے درخواست دائر کی تھی کہ بینظیر بھٹو نے اپنے گوشواروں میں غلط بیانی کی ہے اور اپنی تمام املاک کو ظاہر نہیں کیا۔ عدالت نے اس شکایت کی سماعت کرتے ہوئے ہدایت کی تھی کہ ان وارنٹس پر انٹرپول کے ذریعے عمل درآمد کروایا جائے کیونکہ بینظیر بھٹو ملک میں موجود نہیں ہیں ۔ فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ انٹرپول نے پاکستان حکومت کی شکایت پر بینظیر بھٹو کے لیے ریڈ نوٹس جاری کئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ سیشن کورٹ اسلام آباد نے مقدمے کی سماعت کے بعد وارنٹس کو کالعدم قرار دے دیا تھا مگر حکومت نے ایف آئی اے کی مدد سے انٹرپول سے جاری ہونے والے ریڈ نوٹس واپس نہیں لیے تھے۔ واضح رہے کہ بینظیر بھٹو نے انیس سو ستانوے سے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کی ہوئی ہے اور وہ دبئی میں اپنے تین بچوں بلاول، بختاور اور آصفہ کے ساتھ رہائش پذیر ہیں۔ گزشتہ دنوں ابو ظہبی میں صدر پرویز مشرف سے ان کی ملاقات کے بعد میڈیا میں ان کی ڈیل بھی اطلاعات ہیں مگر صدر اور بینظیر دونوں اس کی تردید کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ لندن میں اپنی قانونی مشیروں کے مشورے سے انہوں نے اپنی واپس کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ رواں سال اکتوبر میں پاکستان واپس آنے کا بھی کہہ چکی ہیں۔ | اسی بارے میں بینظیر، زرداری کے ریڈ نوٹس جاری26 January, 2006 | پاکستان ’نوٹس باجوڑ سے توجہ ہٹانےکےلیے‘ 27 January, 2006 | پاکستان انٹرپول، پندرہ ہزار نوٹس جاری28 January, 2006 | پاکستان بینظیر، زرداری کے وارنٹ گرفتاری23 January, 2006 | پاکستان مرتضیٰ کیس میں زرداری کے وارنٹ19 December, 2005 | پاکستان زرداری کیس: ملزموں کے وارنٹ14 May, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||