زرداری کیس: ملزموں کے وارنٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی کی ایک عدالت نےآصف زرداری پر قاتلانہ حملے کے مقدمے میں نامزد نواز شریف دور کے احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان اور سابق آئی جی سندھ پولیس رانا مقبول کے خلاف ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کراچی ابرار حسین میمن نےانہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ آصف علی زرداری نے چھ سال قبل پیش آنے والے واقعہ کا مقدمہ رہائی کے بعد رواں سال فروری میں درج کرایا تھا۔ عدالت نے یہ حکم سنیچر کے روز مقدمے کی سماعت کے موقع پر دیا۔ مقدمے کے نئے تفتیشی افسر ڈی ایس پی چوہدری اسلم کو مقدمہ کے حتمی چالان کے بارے میں آئندہ سماعت پر عدالت میں طلب کیا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما آصف زرداری کے دائر کردہ مقدمہ کا عبوری چالان پولیس نے گذشتہ ہفتے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ساؤتھ آغا رفیق احمد کی عدالت میں پیش کیا تھا اور اس میں ملزمان سیف الرحمان، ان کے بھائی مجیب الرحمان، سابق آئی جی سندھ پولیس رانا مقبول، سابق ڈی آئی جی کراچی فاروق امین قریشی اور جیل سپرنٹینڈنٹ نجف مرزا کو عدم گرفتار بتایا گیا۔ پولیس نے مقدمےمیں کوئی گواہ نہیں دکھایا ہے۔ سیشن جج ایسٹ نے مزید کارروائی کے لیے مقدمہ ماتحت عدالت ایڈیشنل سیشن جج کو منتقل کردیا۔
آصف زرداری نے رواں سال فروری میں سیف الرحمان اور دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کراتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ 17 مئی 1999 کو انہیں چھّٹی والے دن کراچی سینٹرل جیل سے سی آئی اے سنٹر سول لائنز منتقل کیا گیا جہاں بے نظیربھٹو کے خلاف بیان نہ دینے پر انہیں قتل کرنے اور ان کی زبان کاٹنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وہ ملزمان کو سامنے آنے پر پہچان سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب کچھ احتساب بیورو کے سربراہ سیف الرحمان اور دوسروں کی سازش پر کیا گیا۔واضح رہے کہ مسلم لیگ نواز اور پی پی پی میں قربتیں بڑھنے کے باوجود رقابتیں موجود ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||