 | | | بےنظیر بھٹو اس سے پہلے حاضر سروس فوجی کے صدر رہنے پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں |
پاکستان کی سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو نے کہا ہے کہ (مشرف) حکومت سے شراکتِ اقتدار کے مذاکرات ’بنیادی معاملات‘ پر تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بےنظیر بھٹو نے کہا کہ ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی ’ڈیل‘ پر انتخابات سے پہلے عملدرآمد کی خواہشمند ہے جبکہ حکومت اسے مستقبل پر ڈالنا چاہتی ہے۔ جنرل پرویز مشرف کو اپنے اقتدار کے آٹھویں سال میں سخت مخالفت کا سامنا ہے، لیکن اس کے باوجود وہ دوبار صدر منتخب ہونا چاہتے ہیں۔ ان کے مخالف مذہبی عسکریت پسندوں کی پر تشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کی لال مسجد کے ہتھیار بندوں کے خلاف آپریشن کے بعد ہونیوالی تشدد کی مختلف وارداتوں میں اب تک دو سو کے قریب لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ لال مسجد آپریشن میں سو سے زائد لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں بےنظیر بھٹو نے ان اطلاعات کی تصدیق کرنے سے انکار کیا کہ جمعہ کو دبئی میں ان کی جنرل مشرف کے ساتھ براہ راست بات چیت ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اور حکومت کے درمیان جمہوریت کی طرف واپسی کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات ضرور ہوئے ہیں۔  | | | وہ کہہ چکے ہیں کہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے اس سال کے آخر تک ریٹائر ہو جائینگے |
بےنظیر بھٹو کا کہنا تھا کہ وہ ایسا ماحول چاہ رہی ہیں جس میں ان سمیت پاکستان کی جلا وطن سیاسی قیادت وطن واپس لوٹ سکے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے غیر جانبدارانہ انتخابات کا مطالبہ بھی کر رہی ہیں جس میں تمام سیاسی جماعتیں آزادانہ طور پر حصہ لے سکیں۔ اس کے علاوہ وہ صدر اور پارلیمان کے درمیان طاقت کے توازن پر بھی زور دے رہی ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا صدر مشرف فوج کے سربراہ کا عہدہ چھوڑنے پر راضی ہوگئے ہیں تو انہوں نے مشرف کے ہی ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کہہ چکے ہیں کہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے وہ اس سال کے آخر تک سبکدوش ہو جائینگے۔ بےنظیر بھٹو اس سے پہلے حاضر سروس فوجی کے صدر رہنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہہ چکی ہیں کہ ایسی صورتحال میں سویلین اور ملٹری دور حکومت میں فرق دھندلا ہو جاتا ہے۔ |