BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 August, 2007, 19:38 GMT 00:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ڈیل جمہوریت پر خودکش حملہ‘

کھر
’بےنظیر کی طاقت بھی بھٹو کی قبر کی وجہ سے ہے‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق گورنر پنجاب غلام مصطفی کھر نے کہا ہے کہ اگر بےنظیر بھٹو نے صدر جنرل پرویز مشرف سے مفاہمت کی تو عام انتخابات میں وہ ان کی مکمل مخالفت کریں گے اور پیپلز پارٹی میں موجود اپنے پرانے ساتھیوں اور کارکنوں کو ساتھ ملا کر ان کا راستہ روکیں گے۔

ٹیلی فون پر بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بے نظیر کی صدر مشرف سے ڈیل دراصل جمہوریت پر ایک خودکش حملہ ہے جو پوری قوم کے لیے ناقابل قبول ہے۔


انہوں نے کہا کہ بے نظیر اور مشرف کی ڈیل کا راستہ روکنے کے لیے جوکچھ بھی ان سے بن پڑے گا کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انہوں نے پارٹی کے کارکنوں اور اپنے دیرینہ ساتھیوں سے رابطے شروع کر دیے ہیں۔ ان کےبقول پارٹی کے کارکن خود سے بھی ان سے رابطے کر رہےہیں۔

مصطفٰی کھر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا کارکن شرمسار ہے اور وہ عام آدمی کا سامنا نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ بےنظیر کے ذاتی طور پر مخالف نہیں ہیں اور’اگر صدر مشرف سے رابطوں میں کوئی ایسی مصلحت ہےجو ہمیں سمجھ نہیں آرہی تو بےنظیر ہمیں کیوں سمجھا نہیں دیتیں؟وہ قوم کو قربانیاں دینے والے اپنی پارٹی کارکنوں کو کھل کر کیوں نہیں بتا دیتیں کہ ان کی صدر مشرف سے کیا بات چل رہی ہے اور اس میں ملک و قوم اور پارٹی کا کیا مفاد ہے؟‘

 بے نظیر سے مفاہمت کے بعد ہونے والے انتخابات میں صدر مشرف کھل کر دھاندلی کروائیں گے اور چونکہ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک بھی بہت رہ گیا ہوگا اس لیے یہ دھاندلی اس کے لیے بھی ہوگی لیکن بے نظیر یاد رکھیں کہ صدر مشرف کی اصل پارٹی ق لیگ ہے
غلام مصطفٰی کھر

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ پہلی بار کراچی سے خیبر تک چیف جسٹس کے قافلے کے ساتھ چل کر پوری قوم نے فیصلہ سنایا تھا کہ انہیں صرف جمہوریت چاہیے۔ پورے ملک میں ایک ہی آواز گونج رہی تھی کہ گومشرف گو لیکن بے نظیر نے ڈیل کی بات کرکے عوام کی اس تحریک کو سبوتاژ کیا ہے۔

سابق گورنر غلام مصطفی کھر نے کہا کہ بے نظیر کے اس فیصلے سے خود پیپلز پارٹی کو دھچکا پہنچا ہے۔ان کے بقول حالات جس نہج پر جا رہے تھے پیپلز پارٹی کے اقتدارمیں آنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور انتخابات میں بلاشبہ اسے سب سے زیادہ ووٹ ملنے تھے لیکن اب اس کے ووٹ بنک میں بہت کمی ہوگئی ہے۔

مشرف پیپلز پارٹی کو دوسرے درجے پر رکھیں گے

انہوں نے کہا کہ بے نظیر جس طریقے سے صدر مشرف سے بات چلا رہی ہیں اس کی پوری قوم کو سمجھ نہیں آرہی،وہ مذاکرات کرنے گئیں تو اپنے ساتھ پارٹی کے لوگوں کی بجائے ایک ریٹائرڈ بیوروکریٹ کو لے گئیں۔

انہوں نے کہا کہ بےنظیر اگر صدر مشرف سے تعاون کر کے آئیں یا انہوں نے پرویز مشرف کو وردی یا بغیر وردی میں صدر قبول کیا تو وہ اسے ہرگز برداشت نہیں کریں گے اور عام انتخابات میں بے نظیر کی مخالفت کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی وہ فیصلہ کن بات نہیں کر سکتے کہ وہ کوئی الگ سے پارٹی بنائیں گے یا کسی اور طریقے سے مخالفت کریں گے البتہ انہوں نے واضح کیاکہ انہوں نے پیپلز پارٹی نہیں چھوڑی ہے۔

غلام مصطفی کھر نے کہا کہ ’میرا رشتہ ذالفقار علی بھٹو سے ہے اور میں ان کے اصولوں پر یقین رکھتا ہوں۔بےنظیر کی طاقت بھی بھٹو کی قبر کی وجہ سے ہے خود ان کی کوئی قابلیت نہیں ہے‘۔

جب ان سے کہا گیا کہ ان جو موقف ہے وہ وہی ہے جو میاں نواز شریف اور مسلم لیگ نواز کا ہے تو کیا ان کا نواز شریف سے کوئی رابطہ ہے۔؟ غلام مصطفی کھر نے کہا کہ یہ موقف صرف نواز شریف کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے اور کل تک پیپلز پارٹی کا بھی تھا لیکن بے نظیراگراس موقف سے ہٹ گئی ہیں تو وہ اس بات میں ان کے مخالف ہیں۔

 میرا رشتہ ذالفقار علی بھٹو سے ہے اور میں ان کے اصولوں پر یقین رکھتا ہوں۔بےنظیر کی طاقت بھی بھٹو کی قبر کی وجہ سے ہے خود ان کی کوئی قابلیت نہیں ہے

مصطفی کھر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بے نظیر سے مفاہمت کے بعد ہونے والے انتخابات میں صدر مشرف کھل کر دھاندلی کروائیں گے اور چونکہ ایسی صورت میں پیپلز پارٹی کا ووٹ بنک بھی بہت رہ گیا ہوگا اس لیے یہ دھاندلی اس کے لیے بھی ہوگی لیکن بے نظیر یاد رکھیں کہ صدر مشرف کی اصل پارٹی ق لیگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایسی صورت میں مشرف کا اصل ٹارگٹ صرف اور صرف ق لیگ کو جتوانا ہوگا اور وہ پیپلز پارٹی کو دوسرے درجے پر رکھیں گے۔ انہوں نے کہا بے نظیر ق لیگ سے جس قسم کا الائنس بنانے جا رہی ہیں وہ چھ ماہ سے زیادہ نہ چل سکے گا لیکن جب یہ الائنس ختم ہوگا تو پیپلز پارٹی کی حثیت بھی قومی سیاست میں ختم ہوچکی ہوگی۔

اس سوال پر کہ وہ تو خود فوج اور سیاست دانوں کے اشتراک کی بات کرتے رہے ہیں اب بے نظیر نے فوج سے بات شروع کی ہے تو انہیں کیوں اعتراض ہورہا ہے؟مصطفی کھر نے کہا کہ انہوں نے یہ بات تین برس پہلے کی تھی لیکن آج کے حالات میں بہت فرق آچکا ہے اب صدر مشرف کی وجہ سے ملک کی سالمیت اور فیڈریشن خطرے میں پڑ چکی ہے۔

جنرل مشرف بینظیر بھٹوابوظہبی ملاقات
جنرل مشرف سے ملاقات پر بینظیر کیا کہتی ہیں
نواز شریف’فوج سے ڈیل نہیں‘
ہمیں شوکت عزیز بننا قبول نہیں ہے: نواز شریف
بینظیر بھٹو (فائل فوٹو)’ڈیل‘ اور صوبہ سندھ
پیپلز پارٹی کا گڑھ اس بارے میں کیا کہتا ہے؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد