ڈِیل کی سیاست کے خاتمے کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ صدرجنرل پرویز مشرف کے خلاف درخواست کی سماعت کے موقع پر وکلاء اسی طرح اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے عمارت کے باہر جمع ہوں گے جس طرح چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدارتی ریفرنس پر اکٹھے ہوتے تھے۔ منگل کو لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وکلاء کو خوش فمہی کا شکار نہیں ہونا چاہیے اور یہ نہیں سمجھ لینا چاہیے کہ عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے۔ ان کے بقول چیف جسٹس کی بحالی کا فیصلہ وکلاء کی جدوجہد کے پس منظر میں آیا ہے۔ اگر وکلاء کمروز ہوں گے تو عدلیہ کے فیصلے بھی کمزور ہوں گے اس لئے وکلا, کو مضبوط رہنا چاہیے تاکہ عدلیہ بھی مضبوط فیصلہ دے۔ اس موقع پر وکلاء نےصدر جنرل مشرف کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔ وکلاء نعرے لگا رہے تھے ’گو مشرف گو‘، ’جو ڈیل کے لئے تیار ہے وہ غدار ہے غدار ہے‘ اور ’مک گیا تیرا شو مشرف، گو مشرف گومشرف‘۔ وکلاء نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کے خلاف بھی نعرہ بازی کی۔ منیر ملک نے کہا کہ ڈیل اور کنٹریکٹ کی سیاست کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کردیا جائے اور اس وقت ڈوبتی کشتی کو سہارا نہ دیا جائے۔
انہوں نے وکلاء کی تحریک کے دوسرے مرحلے کو ’ کارروان جمہوریت‘ قرار دیا اور کہا کہ اس وقت پوری قوم کی نظریں وکلاء پر لگی ہوئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہی وقت ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں اور اپنی صفوں سے کالی بھیڑوں کو باہر نکالیں۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء بھی وکلاء کے پیلٹ فارم سے ڈیل کی مخالفت کرتے ہیں۔ ان کے بقول بعض وکلاء نے کہا کہ وہ پیپلز پارٹی چھوڑ سکتے ہیں لیکن وکلاء تحریک نہیں چھوڑیں گے۔ منیر اے ملک نے کہا کہ ملک کی سیاست میں آئندہ تین ماہ بڑے اہم ہیں اور اس عرصہ میں کئی آئینی اور قومی معاملات پر فیصلے ہونگے۔ان کی رائے میں ایک آزاد عدلیہ اور آزاد جج ہی ملک کے عوام کو انصاف فراہم کرسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء کو صرف اس بات پر فوکس نہیں کرنا کہ ’گو مشرف گو‘ بلکہ اس بات پر فوکس کرنا چاہیے کہ ملک میں چہرے نہیں نظام کو تبدیل کیا جائے۔ سپریم کورٹ بار کے صدر کے مطابق بار کو سپریم کورٹ کی عمارت میں واقع آڈیٹوریم میں اجلاس کرنے کی اجازت مل گئی ہے اور آڈیٹوریم میں پاکستان کے وکلاء کی قیادت کا اجلاس ہوگا۔ پاکستان بارکونسل کے رکن حامد خان کا کہنا ہے کہ وکلا کی تحریک ابھی ختم نہیں ہوئی بلکہ چیف جسٹس پاکستان کی بحالی سے اس کا ایک مرحلہ مکمل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء ملک میں آئین کی بالادستی چاہتے ہیں اور فوجی حکمرانی کو مسترد کرتے ہیں۔ان کے بقول وکلاء کی تحریک کا مقصد ملک میں آئین کی حاکمیت ہے اور وکلاء کی جدوجہد ملک میں فوج کی حکمرانی کے خاتمہ اور آئین کی حکمرانی تک جاری رہے گی۔ حامد خان نے کہا کہ وکلا کی نیشنل ایکشن کمیٹی نےملک کی تمام سیاسی جماعتوں سے کہا تھا کہ وہ فوجی غاصب سے رابط نہ رکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی جماعت جنرل مشرف کو سہارا نہ دے۔ لاہور بارایسوسی ایشن کے صدر سید محمد شاہ نے اپنی خطاب میں کہا کہ کسی سیاسی جماعت نے آمر کے ساتھ ڈیل کی تو اس سیاسی جماعت کے خلاف بھی تحریک چلائیں گے اور سٹرکوں پر آئیں گے۔ وکلاء نے ایک قرار داد منظور کرتے ہوئے لاہور کی ضلعی بار ایسوسی ایشن کے بار روم کا نام چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمدچودھری سے منسوب کرنے کا فیصلہ کیا۔ دریں اثناء انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر نے ضلعی بار ایسوسی ایشن لاہور میں اخبارنویسوں سے بات چیت میں کہا کہ اگر کسی میں سیاسی شعور ہے تو اس کو دیکھ لینا چاہیے کہ جس ’جنرل‘ کے خلاف اتنی نفرت ہو اس کے ساتھ کوئی سیاسی قوت رابطہ کرے گی تو اپنی مقبولیت کھودے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین نہیں ہے کہ کوئی ڈیل ہوگی۔ ان کے بقول پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ پہلے وکلاء تحریک کے ساتھ اور پھر اپنی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ ہیں۔ | اسی بارے میں وکلاء کا احتجاج تحریک بن گیا20 July, 2007 | پاکستان ’سپریم کورٹ امید کی علامت بنائیں‘28 July, 2007 | پاکستان پاکستان کی قیادت کون کرے؟26 July, 2007 | پاکستان ’آئین میں مداخلت سنگین جرم ہے‘15 July, 2007 | پاکستان ’کچھ معاملات پر ہونٹ سِلے ہیں‘18 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||