BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 September, 2007, 14:32 GMT 19:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مذاکرات میں اہم پیش رفت کا دعویٰ

بےنظیر اور مشرف
صدر اور وزیراعظم میں اختیارات کے توازن پر مذاکرات جاری ہیں
صدر جنرل پرویز مشرف کی مذاکراتی ٹیم اور حزب مخالف کی ایک بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے دونوں فریقین ’اہم پیش رفت‘ کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق صدر مشرف کے معتمدِ خاص طارق عزیز اور پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بےنظیر بھٹو کے درمیان دبئی میں منگل کو مذاکرات کا ایک دور ہوا ہے۔

حکومتی حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ مذاکرات کا ’دبئی راؤنڈ‘ کامیاب ہوا ہے، تاہم پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ ایوان صدر اور پارلیمان کے درمیان توازن اور منصفانہ انتخابات کے لیے دبئی میں ہونے والے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے دوران منصفانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات پر تو اتفاق ہوگیا ہے لیکن ایوان صدر اور پارلیمان کے درمیان طاقت کے توازن پر معاملات ابھی طے نہیں ہو پائے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ فریقین نے مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ ادھر حکومتی حلقوں کا بھی کہنا ہے کہ ’ڈیل‘ کو حتمی شکل دینے کے لیے مذاکرات کا ابھی ایک اور دور ہوگا۔

دریں اثناء پیپلز پارٹی نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے وائس چیئرمین مخدو امین فہیم اور سکیورٹی امور کے مشیر ڈاکٹر رحمنٰ ملک نے بھی منگل کو دبئی میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کی ہے۔

قبل ازیں وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی سے مذاکرات وہیں سے شروع کیے جا رہے ہیں جہاں یہ لندن میں تعطل کا شکار ہوئے تھے۔

لندن میں گزشتہ ہفتے پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات میں اطلاعات کے مطابق صدر کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز، خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ اشفاق کیانی اور لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) حامد نواز شامل تھے۔

یکم ستمبر کو لندن میں پیپلز پارٹی کی سنٹرل کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے مشترکہ اجلاس کے بعد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بےنظیر بھٹو نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں تعطل آ گیا ہے اور اس کی ذمہ داری حکمران جماعت کے بعض رہنماؤں پر عائد ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد