’مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئر پرسن بےنظیر بھٹو نے کہا ہے کہ مشرف حکومت سے جاری مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے ہیں اور انہوں نے جلد وطن واپسی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ لندن میں سنیچر کو رحمان ملک کی رہائش گاہ پر ایک پرہجوم پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ان کی وطن واپس کی تاریخ اور شہر کا اعلان 14 ستمبر کو پاکستان کی سرزمین سے ہی کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور چاروں صوبائی دارالحکومتوں، آزاد کشمیر، شمالی علاقہ جات اور قبائل علاقوں میں پارٹی کی مقامی تنظیمیں بے یک وقت ان کی واپسی کی تاریخ کا اعلان کریں گی۔ حکومت سے ہونے والے مذاکرات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی ایک ٹیم ان سے لندن میں مذاکرات کے بعد اسلام آباد واپسی لوٹ گئی تھی جس کے بعد انہیں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات میں چھپنے والی خبروں سے انہیں یہ تاثر ملا ہے کہ حکومتی جماعت میں ایک سرکردہ گروہ نہیں چاہتا کہ حکومت سے ان کی کوئی مفاہمت ہو۔
بے نظیر بھٹو نے کہا کہ اسی فیصد امور پر بات چیت طے ہو گئی تھی لیکن چند امور جن میں پارلیمنٹ کی بالادستی، صدراتی اور وزارتِ اعظمیٰ کے انتخاب کے نکات شامل ہیں کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی۔ حکومت سے مزید مذاکرات کے بارے میں ایک سوال پر کہ کیا مزید مذاکرات کا امکان موجود ہے یا دروازے بند ہو چکے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ سوال آپ حکومت سے پوچھیں۔‘ حکمران جماعت کے اندر موجود جو عناصر ان کے خیال میں حکومت سے ان کی مفاہمت میں حائل تھے ان کے بقول یہی عناصر قبائلی علاقوں اور ملک کے باقی حصوں میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان ہی لوگوں نے لال مسجد میں انتہا پسندوں کی سرپرستی کی۔ اپنی تقریباً ایک دہائی پر محیط جلاء وطنی کو ختم کرکے وطن واپس لوٹنے کے بارے میں پوچھے گئے اس سوال پر کہا کہ کیا ان کی واپسی سے ملک میں عدم استحکام اور سیاسی انتشار پیدا ہونے کا خدشہ نہیں ہے تو انہوں نے کہا کہ وہ سن دو ہزار دو میں وطن واپس جانا چاہتی تھیں۔ انہوں نے کہ کہا اسوقت ان سے کہا گیا تھا کہ ان کے واپس جانے سے ملک میں عدم استحکام پھیلے گا۔ انہوں نے کہا کہ لیکن اس کے باوجود بلوچستان میں حالات خراب ہوئے، قبائلی علاقوں میں حکومت کی حکمیت اعلیٰ کو نقصان پہنچا اور طالبان مضبوط ہوئے۔
بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ان کی جماعت ایک معتدل، جمہوری اور دہشت گردی سے پاک پاکستان کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت ملک میں جہموریت کی بحالی اور ایک مستحکم نظام کے قیام کے لیے کافی عرصے سے بات چیت کر رہی تھی۔ تاہم انہوں نے کہا حکمران جماعت کے اندر سے ان مذاکرات کی مخالفت کی وجہ سے کوئی مفاہمت نہیں ہو سکی۔ قبائلی علاقوں کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قبائل علاقے نجی مسلح گرہوں کے قبضے میں ہیں اور حکومت اپنے قوانین نفاذ کرنے میں ناکام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان علاقوں میں حکومت کے اقتدار اعلیٰ کو بحال کرنا ہے۔ بلوچستان کے حالات پر انہوں نے کہا کہ یہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں جن میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی اس بارے میں پرعزم ہے کہ ملک میں آئین کو بحال کیا جائے، قبائلی علاقوں میں حکومت کا کھویا ہوا اقتدار واپس لیا جائے، ملک کے اندرسیاسی مفاہمت کی فضا قائم کی جائے، دہشت گردی کا خاتمہ عوام کی بنیادی ضروریات کو پورا کرکے کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کسی معاشرے میں اس وقت ہی اس معاشرے کی فلاح و بہبود اور استحکام کے لیے کھڑے ہوتے ہیں جب ان میں اقتدار میں شراکت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں جن عناصر نے ملک میں انتہا پسندی کو بڑھنے دیا، عربت اور بے روز گاری میں اضافے کا باعث بنے وہ نہیں چاہتے کہ وہ وطن میں واپس آئیں۔ انہوں نے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کی قوتیں عوام کا اب زیادہ استحصال نہیں کر سکتیں۔ مسلم لیگ نواز اور دیگر جماعتوں پر مشتمل نئے اتحاد اپی پی ڈی ایم کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ایک بڑی جماعت ہے اور ایک بڑی جماعت کو چھوٹی جماعتوں پر مشتمل ایک اتحاد بنالیا گیا اور ان میں ایک جماعت بلوچستان میں حکمران جماعت کی اتحادی ہے۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی اصولی حکومت کی اتحادی کسی جماعت کے ساتھ شامل نہیں ہونا چاہتے اگر وہ حکومت چھوڑ دیں تو پھر وہ ان کے ساتھ شامل ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکومت ایسے صوبے میں برسراقتدار ہے جہاں بہت ظلم ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی وجہ سے ان کی طرف سے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ اگر ہو حکومت سے علیحدہ ہو جائیں تو پھر ان سے اتحاد ہو سکتا ہے۔ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ انہوں نے میاں نواز شریف سے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا یہ میاں نواز شریف کا فیصلہ تھا کہ وہ اے آر ڈی سے علیحدہ اتحاد بنائیں لیکن اگر وہ اے آر ڈی میں واپس آنا چاہیں تو وہ آ سکتے ہیں۔ صدارتی انتخاب کے بارے میں انہوں نے کہا کہ جب صدراتی انتخاب کا اعلان کیا جائے گا پارٹی اس وقت اپنا لالحۂ عمل طے کرے گی۔ نواز شریف کے بارے میں ایک اور سوال پر انہوں نےکہا کہ نواز شریف کی پرویز مشرف سے ذاتی دشمنی ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہے۔ وکلاء کی تحریک اس تحریک کے دوران چودھری اعتزاز احسن کے کردار اور اس کے بعد اعتزاز احسن کے چھوڑنے کی خبروں پر کیئے گئے سوال پر انہوں نے اعتزاز احسن کے کردار کو سرہا۔ انہوں نے کہا اعتزاز اس سے قبل بھی نواز شریف کا مقدمہ لڑ چکے ہیں اور انہوں نے اسوقت بھی انہیں اعتماد میں لیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بھی اعتزاز احسن انہیں گاہے بگاہے صورت حال سے آگاہ کرتے رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||