BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 August, 2007, 15:56 GMT 20:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سمجھوتہ ابھی نہیں ہوسکا: بینظیر

بےنظیر بھٹو
بےنظیر بھٹو نے برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے ملاقات بھی کی ہے
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم بےنظیر بھٹو کا کہنا ہے کہ (صدر مشرف سے) جمہوریت کی بحالی کے لیے ابھی تک سمجھوتہ نہیں ہو سکا۔

وہ لندن میں اپنی پارٹی کی مرکزی کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے جمعہ کی دوپہر شروع ہونے والے اجلاس کے آغاز سے پہلے صحافیوں کے سوالوں کا جواب دے رہی تھیں۔

ان سے جب پوچھا گیا کہ آیا وہ ان مذاکرات کی کامیابی کے حوالے سے پر امید ہیں، تو ان کا کہنا تھا: ’ہم ابھی کچھ نہیں کہہ سکتے۔‘

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی وطن واپسی کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ اچھی بات ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے انہیں اس کی اجازت بھی دی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دونوں سابق وزرائے اعظم میں کوئی مقابلہ نہیں ہے اور دونوں ملک میں جمہوریت کی بحالی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ’ہمارا راستہ ایک ہی ہے۔‘

بلوچستان اور ایم ایم اے
 بلوچستان کی صورتحال کی وجہ سے پیپلز پارٹی کسی ایسے اتحاد میں شامل نہیں ہوئی جس میں ایم ایم اے بھی شامل ہے۔ بلوچستان میں جاری آپریشن، (نواب اکبر) بگٹی صاحب کی ہلاکت اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ایم ایم اے کو صوبائی حکومت سے علحیدہ ہو جانا چاہیے تھا
بےنظیر بھٹو

پارٹی کی مرکزی کمیٹی کی میٹنگ کے ایجنڈے کے بارے میں ان کا کہنا تھا ’حکومت سے جاری مذاکرات، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور میری وطن واپسی کے پروگرام پر غور کیا جائے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی صورتحال کی وجہ سے پیپلز پارٹی کسی ایسے اتحاد میں شامل نہیں ہوئی جس میں ایم ایم اے بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں جاری آپریشن، (نواب اکبر) بگٹی صاحب کی ہلاکت اور دوسرے سیاسی رہنماؤں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ایم ایم اے کو بلوچستان حکومت سے علیحدہ ہو جانا چاہیے تھا۔

بےنظیر بھٹو نے جمعہ کو لندن میں برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے ملاقات بھی کی۔ اس حوالے سے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ برطانوی وزیرخارجہ کے ساتھ میٹنگ میں پاکستان کی سیاسی صورتحال اور متوقع انتخابات زیربحث آئے۔

ان سے جب کہا گیا کہ کیا برطانوی حکومت نے ان کی حمایت کا کوئی عندیہ دیا ہے، تو بےنظیر بھٹو کا کہنا تھا: ’ہم نے صرف پاکستان کی سیاسی صورتحال پر بات کی ہے۔‘

پیپلز پارٹی کی مرکزی کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے نمایاں رہنماؤں میں مخدوم امین فہیم، جہانگیر بدر، مخدوم شاہ محمود قریشی، نوید قمر، خورشید شاہ، قائم علی شاہ، ناہید خان اور شیری رحمان شامل تھے۔

پیپلزپارٹی کی سنٹرل کمیٹی کا اجلاس دو روز تک جاری رہے گا، جس کے اختتام پر سنیچر کو ایک اخباری کانفرنس کے ذریعے ایجنڈے کے حوالے سے ہونے والے فیصلوں سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔

اخبارات کا ردعمل
شریف برادران ممکنہ قید سے نہ ڈریں: نوائے وقت
شرکتِ اقتدار پیکج
’امید ہے کہ پی پی مشرف مذکرات ناکام نہ ہوں گے‘
ڈیل کے لیے دباؤ
امریکہ کا تمام معتدل قوتوں سے رابطہ ہے
ساٹھ سال کی داستان
پاکستان سیاسی بھنور کی گرفت میں
بے نظیر بھٹووطن واپسی اور وردی
بے نظیر کی صدر مشرف کے ساتھ ’خفیہ مفاہمت‘
کھر’جمہوریت پر حملہ‘
’ ڈیل عوامی تحریک کو سبوتاژ کرنے کی کوشش‘
بےنظیر بھٹو کی سوانح عمری’دخترِ مشرق‘
’مشرف کے ایم کیو ایم سے رابطوں کا شک تھا‘
اسی بارے میں
کسی سےڈیل نہیں ہوئی: درانی
30 August, 2007 | پاکستان
بینظیر کا ریڈ نوٹس کالعدم
07 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد