BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 August, 2007, 05:45 GMT 10:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مارشل لاء مسئلے کا حل نہیں: مشرف

صدر مشرف
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں سیاسی غیر یقینی صورتحال آئندہ تین چار ماہ میں ختم ہو جانی چاہیے
صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا ہے کہ ملک میں انتخابات سے قبل سیاسی استحکام برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ تاہم انہوں نے مارشل لاء یا ایمرجنسی کو مسئلہ کا حل قرار نہ دیتے ہوئے مسترد کیا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے ہفتہ وار ٹی وی پروگرام ’ایوان صدر سے‘ میں کیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ یہ انتخابات کا سال ہے صدارتی اور عام انتخابات منعقد ہونے ہیں اس لئے خلل نہیں پیدا ہونا چاہیے، انتخابات سے قبل کے عرصے میں صورتحال مستحکم رہنی چاہیے، عدم استحکام پیدا نہیں ہونا چاہیے۔

’پاکستان میں جتنی ترقی ہو رہی ہے اور ہم آگے جا رہے ہیں، ترقی کے ثمرات عوام تک منتقل ہو رہے ہیں اب اس میں خلل پیدا نہیں ہونا چاہیے، سیاسی صورتحال مستحکم رہنی چاہیے، مارشل لاءاور ایمرجنسیز ہمارے مستقبل کےلئے حل نہیں ہے۔ لیکن پاکستان سب سے پہلے ہے، مجھے امید ہے کہ یہ استحکام رہے گا اور ہم الیکشن میں جائیں گے۔ صدارتی انتخابات اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میرٹ پر منصفانہ اور شفاف انداز میں بروقت منعقد ہونے چاہئیں تاکہ ہم آگے بڑھیں۔‘

انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام، امن و امان کا مسئلہ اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے مسائل اقتصادی ترقی پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ ’مجھے یقین ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام رہے گا جبکہ انتہا پسندی و دہشت گردی کے مسئلہ سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔‘

 چیک اینڈ بیلنس کا نظام متعارف کرایا ہے۔ قومی سلامتی کونسل بنائی گئی ہے اس کا مقصد ہی پاکستان کے پاور بروکرز پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہے۔ مجھے امید ہے کہ قومی سلامتی کونسل کا آئینی ادارہ چیک اینڈ کنٹرول رکھے گا
صدر مشرف
ملک میں سیاسی حوالہ سے غیر یقینی کی صورتحال کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں صدر نے کہا کہ قوم اس وقت غیر یقینی کی فضا میں ہے اور پریشانی سے دو چار ہے۔ اس کے عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر نے کہا کہ یہ امر افسوسناک ہے کہ بعض مفاد پرست عناصر کی طرف سے افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، بعض عناصر جان بوجھ کر باتوں کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا کر رہے ہیں اس کو کنٹرول کرنا ہے لیکن ملک میں کوئی آمریت نہیں ہے اور وہ جمہوری انداز میں ایسا کرنا چاہتے ہیں۔

صدر نے کہا کہ جمہوریت ہماری ضرورت ہے، ملک میں جمہوریت قائم ہے اور جمہوریت میں عوام ووٹ ڈالیں گے عوام کی آواز اور چوائس ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں سیاسی غیر یقینی صورتحال آئندہ تین چار ماہ میں ختم ہو جانی چاہیے۔

صدر نے کہا کہ صدارتی انتخابات 15 ستمبر سے 15 اکتوبر تک ہونا چاہیے آئینی اور قانونی تقاضا یہی ہے، عام انتخابات اسی سال ہوں گے اور ہونے چاہئیں۔ مجھے امید ہے کہ عوام صحیح لوگوں کو ووٹ دیں گے۔

صدر نے کہا کہ انہوں نے چیک اینڈ بیلنس کا نظام متعارف کرایا ہے۔ قومی سلامتی کونسل بنائی گئی ہے اس کا مقصد ہی پاکستان کے پاور بروکرز پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ہے۔ ’مجھے امید ہے کہ قومی سلامتی کونسل کا آئینی ادارہ چیک اینڈ کنٹرول رکھے گا۔‘

صدر کا یہ پری ریکارڈ پروگرام جس وقت نشر کیا جا رہا تھا اس وقت مسلم لیگ کے راہنما نواز شریف لندن میں پریس کانفرنس کر رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد