علی سلمان بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور |  |
 | | | جماعتِ اسلامی اور نواز لیگ ماضی میں بھی سیاسی عمل میں مل کر شریک رہے ہیں |
پاکستان کی بعض دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے نواز شریف کا بھر پور استقبال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایم ایم اے کے صدر اور امیرِ جماعت اسلامی قاضی حسین احمدنے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ دس ستمبر کو پورے ملک سے اسلام آباد آئیں اور اسے ایک تاریخی دن بنا دیں۔ مجلس عمل اب آل پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ ہے جس کی ایک بڑی جماعت خود مسلم لیگ نواز ہے۔ جماعت اسلامی کے ہیڈ کواٹر منصورہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں مجلس عمل کے سربراہ نے کہا ہے کہ عوام دس ستمبر کو بنیادی حقوق اور شہری آزادی کے دن کے طور پر منائیں اور اس روز اسلام آباد ائر پورٹ پرشریف برادران کا فقید المثال استقبال کرکے اسے تاریخی دن بنا دیں۔ قاضی حسین احمد نے شریف برادران کی وطن واپسی کو قومی مفاد میں ایک بہترین فیصلہ قراردیا۔انہوں نے کہا ان کی واپسی کے بعد ان کے ساتھ مل کر پرویز مشرف سے نجات کی مہم چلائی جائے گی۔ انتخابات اس مہم کے بعدکا مرحلہ ہیں۔  |  عوام دس ستمبر کو بنیادی حقوق اور شہری آزادی کے دن کے طور پر منائیں اور اس روز اسلام آباد ائر پورٹ پرشریف برادران کا فقید المثال استقبال کرکے اسے تاریخی دن بنا دیں  قاضی حسین احمد |
انہوں نے کہاکہ جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں منصفانہ انتخابات کا نہیں ہوسکتے اور اب ان سے کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔انہیں باوردی یا بے وردی صدر کے طور پر قبول نہیں کیا جائےگا۔ جماعت اسلامی ماضی میں بھی نواز شریف کی ایک اتحادی جماعت رہی ہے۔پہلے وہ آئی جے آئی کی صورت میں انتخابی اتحاد کا حصہ رہی اور سنہ دوہزار دو کے انتخابات میں نواز شریف کی پارٹی نے ان کے ساتھ کئی سیٹوں پر انتخابی ایڈجسٹمنٹ کی تھی۔ حالیہ اپوزیشن کے دور میں نواز شریف نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد برائے بحالی جمہوریت بنایا تھا لیکن چند ماہ پہلے بے نظیر اور صدر مشرف کے رابطوں پر اعتراض کے بعد میاں نواز شریف نے یہ کہا تھا کہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت عملی طور دم توڑ چکا ہے اوراب وہ اے پی ڈی ایم کے ساتھ ملکر تحریک چلائیں گے۔ |