لندن: پاکستانی سیاست کا اکھاڑہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اپوزیشن کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز کے قائدین لندن میں اکٹھا ہونا شروع ہوچکے ہیں۔ اہم حکومتی مذاکرات کاروں کی ایک غیر اعلانیہ ٹیم کی بھی لندن موجودگی کی اطلاعات ذرائع ابلاغ میں ہیں۔ برطانیہ کا دارالحکومت لندن، پاکستان کی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ سیاسی تاریخ کے اہم ترین فیصلوں کے لیے الٹی گنتی شروع ہوچکی ہے۔ توقع ظاہر کی جارہی ہے کہ یہ تمام فیصلے اگلےدو ہفتوں سے کم وقت میں ہو جائیں گے اور بیشتر کی عملی شکل بھی سامنے آجائے گی۔ ان اہم فیصلوں میں دو جلاوطن وزرائے اعظم یعنی نواز شریف اور بے نظیر کی پاکستان واپسی کی تاریخ، بے نظیر بھٹو اور مشرف کےشراکتِ اقتدار کے کسی فارمولے پر پہنچنے یا پھر ان دونوں کے درمیان کسی ڈیل کے نہ ہونے کے اعلان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ حکومت نواز شریف کی واپسی روکنے کے لیے ان غیر ملکی شخصیات سے دباؤ ڈلوانے کی آخری کوشش کر رہی ہے جو حکومت کے بقول ان کی مبینہ جلاوطنی کے ضامن تھے۔ نواز شریف نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لبنان کے سابق وزیر اعظم رفیق حریری کے صاحبزادے سعد حریری ان سے ملاقات کرچکے ہیں۔
شریف برادران کی واپسی کے معاملات طے کرنے کے لیے حتمی صلاح ومشوروں کے لیے مسلم لیگ (ن) کے مرکزی قائدین کا پہلا وفد پیرکی صبح لندن روانہ ہوچکا ہے۔ پہلے وفد میں پارٹی کے سیکرٹری جنرل ظفر اقبال جھگڑا، سینئر نائب صدر سرانجام خان اور سینیٹر سردار مہتاب خان عباسی شامل ہیں۔ راجہ ظفر الحق اور دیگر قائدین پیر کی شام اور منگل کو لندن پہنچیں گے۔ ان قائدین نے لندن روانہ ہونے سے دو روز پہلے اسلام آباد میں مجلس عاملہ کے ایک ہنگامی اجلاس میں یہ سفارشات مرتب کی تھیں کہ شریف برادران دس ستمبر سے پہلے پاکستان لوٹ آئیں۔ مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے لندن روانگی سے قبل بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جو بھی پراپیگنڈہ کرے، نواز شریف دس ستمبر سے پہلے ہر صورت میں پاکستان آ جائیں گے۔ خود میاں نواز شریف یہ عندیہ ظاہر کرچکے ہیں کہ وہ مسلمانوں کےلیے مقدس مہینے رمضان سے پہلے پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں۔ ماہ رمضان ستمبرکی بارہ یا تیرہ تاریخ سے شروع ہونے والا ہے۔ میاں نواز شریف کی اتنی عجلت میں واپسی کی وجہ صرف رمضان شریف نہیں ہے کہ بلکہ صدراتی انتخاب بھی ہے۔ حکومتی عہدیدار آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ صدارتی انتخاب پندرہ ستمبر اور اس کے بعد کسی بھی وقت ہوسکتا ہے اور مسلم لیگی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کا اس سے پہلے ملک میں ہونا بہت ضروری ہے۔ دوسری طرف بے نظیر بھٹو بار بار صدر مشرف کو یاد کروا رہی ہیں کہ اگر وہ کوئی آئینی پیکج لانا چاہتے ہیں تو ان سے معاملہ جلد نمٹا لیا جائے۔ بے نظیر کے بقول ’وقت صدر مشرف کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے‘۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگست کے اختتام تک مشرف اور ان کی ٹیم کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکی تو پھر کسی قسم کی مفاہمت مشکل ہو جائے گی۔ سپریم کورٹ سے نواز شریف کی واپسی کے حق میں فیصلے نے بے نظیر بھٹو کی سودے بازی کی پوزیشن کومستحکم کر دیا ہے۔ بے نظیر بھٹو بھی لندن میں موجود ہیں اور ان کی پارٹی کے قائدین ان کے فیصلوں میں شامل ہونے کے لیے لندن پہنچنا شروع ہوگئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیری رحمان نے لندن پہنچنے کے بعد بی بی سی سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کی بے نظیر بھٹو سے اکتیس اگست کو ملاقات ہوگی تاہم انہوں نے کہا کہ ابھی انہیں اس ملاقات کے ایجنڈے کا علم نہیں ہے۔ جب ان سے کہا گیا کہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان کی ایک طاقتور خفیہ ایجنسی کے فوجی سربراہ، نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری طارق عزیز سمیت بے نظیر سے ملاقات کے لیے لندن موجود ہیں توشیری رحمان نے کہا کہ ذرائع ابلاغ تو کہتے ہیں کہ وہ نواز شریف سے ملاقات کے لیے آئے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ حکومتی ٹیم سے بے نظیر کی ملاقات ہوئی یا نہیں اس کے بارے میں وہ کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔ حکومت مخالف سیاسی قوتوں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کے دوبارہ انتخاب کی کوشش غیر آئینی ہوگی جس کی سیاسی مخالفت کے علاوہ اسے عدالت میں چیلنج بھی کیا جائے گا۔ یہ سوال اپنی جگہ بڑا اہم ہے کہ اگر صدر مشرف کو اپوزیشن کی خواہش کےعین مطابق اعلیٰ عدلیہ نے دوبارہ صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روک دیا تو پھر ان کے پاس اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے کونسا راستہ باقی رہ جائےگا؟ سیاسی مبصرین کاکہنا ہے اس بندگلی سے بچنے کی آخری کوشش کے طور پر لندن میں حکومت بےنظیرمذاکرات ہو رہے ہیں اور نوازشریف کی پاکستان واپسی روکنے کے جتن کیے جا رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ’مشرف پیکج کا اعلان کریں‘22 August, 2007 | پاکستان مبینہ ڈِیل، پی پی کے وکلاء کا امتحان02 August, 2007 | پاکستان ’ڈیل‘، چودھری برادران کی مشکل26 July, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||