کبھی انکار نہیں کیا: شہباز شریف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے بھائی شہباز شریف کا کہنا ہے کہ انہوں نے جلاوطنی کے معاہدے سے کبھی انکار نہیں کیا لیکن ان کے نزدیک بندوق کی نوک پر کروائے گئے اس معاہدے کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات بی بی سی اردو کے جاوید سومرو سے ایک انٹرویو میں کہی جس کا متن درج ذیل ہے۔ س: پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم صاحب نے ایک معاہدہ جاری کیا ہے جس پر آپ دنوں کے دستخط ہیں اور جس میں آپ نے کہا ہے کہ آپ دونوں مطمئن ہیں کہ آپ لوگ دس سال تک ملک نہیں آئیں گے۔ آپ لوگ تو اس سے انکار کرتے رہے ہیں؟ شہباز شریف: میں نے کبھی انکار نہیں کیا۔ آج تک کبھی اس چیز سے انکار نہیں کیا لیکن چونکہ میں نے معاہدہ نہیں دیکھا کہ انہوں نے کیا جاری کیا ہے۔ وہ دیکھوں گا تو پتہ چلے گا۔ س: لیکن آپ اس سے تو انکار نہیں کر رہے ناں کہ آپ نے کسی معاہدے پر دستخط کیئے ہوئے ہیں۔ شہباز شریف: میں نے ہمیشہ کہا کہ زبردستی بندوق کی نوک پر کوئی چیز قیدی سے کروائی جائے تو اس کی کیا حیثیت ہے۔ میں نے ہمیشہ یہی کہا ہے۔ س: اس کے بعد جب آپ سعودی عرب میں تھے وہاں سے جاتے ہوئے بھی آپ نے ایک بیانِ حلفی دیا۔ چھبیس جنوری دو ہزار تین کو جس میں آپ نے یہ لکھا ہے اور آپ نے چار دستخط کیئے ہیں۔۔۔۔ شہباز شریف: (سوال کاٹتے ہوئے) نہیں تو مجھے یہ بتائیے آپ ذرا کہ میں زندگی موت کے مرض میں مبتلا ہوں اور مجھ سے وہ دستخط کروائیں کہ مشرف نے کہا ہے کہ آپ کو تب جانے دیں گے جب آپ پاکستان نہیں جائیں گے۔ بتائیے میں اپنی زندگی نہ بچاتا تو کیا کرتا؟ س: نہیں اس میں آپ نے یہ بیانِ حلفی دیا ہے کہ آپ علاج کروانے کے لیے امریکہ جانا چاہ رہے ہیں اور اس کے بعد آپ سعودیہ واپس آ جائیں گے۔ شہباز شریف: میں گیا نہیں تھا سعودی عرب واپس؟ س: نہیں آپ گئے ہوں گے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ تو اب تک اس بات سے انکار کرتے رہے ہیں کہ آپ کی کوئی ڈیل ہوئی ہے؟ شہباز شریف: آپ اپنے سوال کی تصیح کریں۔ میں نے کبھی انکار نہیں کیا ہے کہ سعودی عرب سے ہمارا کوئی سمجھوتہ ہے۔ ہمیشہ یہی کہا کہ بندوق کی نوک پر جو معاہدہ کروایا جائے اس کی کیا حیثیت ہے۔ س: آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ سعودی حکومت نے بندوق کی نوک پہ آپ سے یہ لکھوایا ہے؟ شہباز شریف: نہیں نہیں نہیں۔ لانڈھی جیل کی قید میں۔ س: اس معاہدے میں جس پہ آپ نے دستخط کیئے ہیں، یہ لکھا ہوا ہے کہ کوئی صاحب ہیں جن پر آپ بھروسہ کر رہے ہیں کہ وہ آپ کی طرف سے یہ سب کچھ کریں۔ یہ صاحب کون ہیں؟ شہباز شریف: کوئی نہیں اور نہ ہی معاہدہ میں نے دیکھا ہے۔ میں نے جو بات ماضی میں کہی اسی کو دہرایا ہے۔ جب کوئی ایسی بات کاغذ پہ دیکھوں گا تو پھر جواب دوں گا۔ س: آپ نے جس چیز پہ دستخط کیئے تھے جو آپ کہہ رہے ہیں کہ بندوق کی نوک پہ کروایا گیا، اس میں کیا لکھا ہوا تھا؟ شہبام شریف: مجھے کچھ یاد نہیں۔ مجھے کیا پتہ انہوں نے کیا لکھ دیا ہو۔ آپ میری بات پہ کیوں نہیں اعتبار کرتے کہ ایک قیدی سے جسے سلاخوں میں بند کیا ہو اور بندوق کی نوک پہ کہا جائے کہ یہ کرو ورنہ تمہارے خاندان کے ساتھ یہ کریں گے۔ تو قیدی کی کیا حیثیت ہوتی ہے یا ایسے معاہدے کی۔ جو لوگ آئین توڑتے ہیں، جو قوم سے کیئے وعدے کو توڑتے ہیں۔ ان کی کیا حیثیت ہے کہ وہ ایسی بات کریں۔ ان کو کیا حق پہنچتا ہے؟ س: یہ بات آپ کی صحیح ہے لیکن جو لوگ سیاستدان ہوتے ہیں، رہنماء ہوتے ہیں، وہ تو رکتے ہیں ناں؟ شہباز شریف: آپ بالکل درست کہہ رہے ہیں لیکن اگر بندوق کی نوک پر قیدی سے آپ دستخط کروائیں تو اس کی کیا حیثیت ہو گی۔ س: اب جب یہ معاہدہ سامنے لایا گیا تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس معاہدے کی موجودگی میں دس سال سے پہلے آپ پاکستان جائیں گے تو۔۔۔۔۔ شہباز شریف: (سوال کاٹتے ہوئے) اس معاہدے کی کوئی حیثیئت نہیں ہے۔ اس کی کوئی بنیاد نے۔ اس کی کوئی اخلاقی، قانونی بنیاد نہیں ہے۔ س: تو آپ سزا بھگتیں گے جا کے؟ شہباز شریف: میرے خلاف کوئی سزا نہیں ہے۔ کوئی مقدمہ نہیں ہے۔ آپ کے پاس حقائق نہیں ہیں۔ س: میں آپ کے خلاف نہیں کہہ رہا۔ میں یہ کہہ رہا ہوں کہ کیا نواز شریف صاحب جا کر سزا بھگتیں گے؟ شہباز شریف: جھوٹے مقدمے میں کوئی جھوٹی سزا ہوئی تو وہ اس سے کسی طور نہیں ڈرتے۔ |
اسی بارے میں جلاوطنی معاہدے کی نقل عدالت میں22 August, 2007 | پاکستان دستاویزات کے لیے مزید تین ہفتے22 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||