جلاوطنی کے معاہدے میں ہے کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بدھ کے روز میاں نواز شریف اور میاں شریف کی وطن واپسی میں رکاوٹیں ختم کرنے کی استدعا سے متعلق آئینی درخواستوں کے سلسلے میں حکومتی موقف سپریم کورٹ میں داخل کرایا گیا۔ حکومتی موقف کے ساتھ حکومت نے اس مبینہ معاہدے کی نقول بھی منسلک کی ہیں جس پر، حکومت کے مطابق، میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے بیس دیگر افراد نے دسمبر دو ہزار کو ملک بدری کے وقت دستخط کیے تھے۔ حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی نقول کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس معاہدے پر دو دسمبر سن دو ہزار کو دستخط کیے تھے جبکہ میاں شہباز شریف کے دستخطوں کے ساتھ پانچ دسمبر سن دو ہزار کی تاریخ درج ہے۔ میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے علاوہ ان دستاویزات پر کوئی اور دستخط نہیں ہیں۔ بائیس کے بائیس افراد کی طرف سے دستخط کیے جانے والے معاہدوں کی تحریر ایک جیسی ہے اور میں صرف نام اور دستخط مختلف ہیں۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دستخطوں کی حامل انگریزی تحریر کی اردو تلخیص ذیل میں دی جا رہی ہے: ’میں، محمد نواز شریف، اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ پاکستان میں جیل سے رہائی کے سلسلے میں میری طرف سے جینٹلمین میری منظوری سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں مذاکرات کے طریقہِ کار اور نتائج سے پوری طرح مطمئن ہوں اور یہ کہ مجھے مذاکرات کے عمل کے دروان پوری طرح باخبر رکھا گیا ہے اور یہ کہ میں مذاکرات کے دوران اٹھائے جانے والے ہر اقدام اور اس کے نتائج سے پوری طرح متفق ہوں۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ اس ملک میں جانے پر، جس کے بارے میں میں نے رضامندی ظاہر کی ہے، میں کسی ایسے کام یا سیاسی سرگرمیوں، کسی بھی اور نوعیت کی سرگرمیوں سے دس سال تک اجتناب کروں جو پاکستان کے مفادات کے خلاف ہو یا پاکستان میں میری قید سے متعلق ہو۔ میں اس بات سے بھی رضا مند ہوں کہ میں دس سال تک پاکستان سے باہر رہوں گا اور میری رہائش اس ملک میں ہو گی جس کا میں نے انتخاب کیا ہے۔ تاہم مجھے اس ملک سے باہر جانے کی اجازت ہو گی بشرطِ میں اسی ملک میں واپس آنے پر آمادگی ظاہر کروں۔ میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں کسی بھی فریق پر جنٹلمین یا پاکستان میں اپنی رہائی سے متعلقہ ملک کا نام ظاہر نہیں کروں گا اور یہ کہ اگر اس ملک سے کہیں اور جاؤں کو تو ایسا صرف ان کی منظوری سے کروں گا۔ میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ معاہدے میں شریک کسی بھی فریق یا جنٹیلمین کو اس سلسلے میں کسی بھی دعوے سے بری الذمہ سمجھتا ہوں‘۔ اس کے علاوہ حکومت نے عدالت کے سامنے میاں شہباز شریف کے دستخطوں کی حامل اس مفاہمت کی نقل بھی جمع کرائی ہے جس پر انہوں نے چھبیس جنوری سن دو ہزار تین کو سعودی عرب سے امریکہ جاتے وقت دستخط کیے تھے۔ اس تحریر میں انہوں نے اپنے امریکہ کے دورے کا مقصد فوری طبی امداد کو بیان کیا تھا۔ اس تحریر میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ طبی امداد کے خاتمے پر واپس سعودی عرب آ جائیں گے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اقرار کیا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھ جانے والے امریکہ میں اپنے قیام کے دوران نہ تو کوئی انٹرویو دیں گے اور نہ ہی میڈیا سے رابطہ رکھیں گے یا کوئی بیان دیں گے۔ | اسی بارے میں جلاوطنی معاہدے کی نقل عدالت میں22 August, 2007 | پاکستان دستاویزات کے لیے مزید تین ہفتے22 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||