BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 22 August, 2007, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دستاویزات کے لیے مزید تین ہفتے

نواز شریف
حکومت نے ابھی تک ڈیل کی کوئی تحریری شہادت فراہم نہیں کی
حکومت نے نواز شریف اور ان کے خاندان کی ملک بدری سے متعلق معاہدے کی دستاویزات سپریم کورٹ میں جمع کرانے کے لیے تین ہفتے کی مہلت طلب کی ہے۔

اٹارنی جنرل ملک قیوم نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ مذکورہ معاہدے کی اصل دستاویز اس دوست ملک کی حکومت کے پاس ہیں جس کے توسط سے شریف خاندان کے ساتھ معاہدہ کیا گیا اور ان دستاویز کے حصول میں ابھی مزید وقت لگ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو یہ دستاویز عدالت میں پیش کرنے کے لیے کم از کم تین ہفتے درکار ہوں گے۔ ملک قیوم نے کہا کہ اس مقدمے کے التوا کے لئے باقاعدہ درخواست عدالت میں کچھ دیر میں جمع کروا دی جائے گی۔

شریف برادران کی آئینی درخواست کی سماعت جمعرات کو ہونی ہے تاہم اٹارنی جنرل ملک قیوم نے اعلان کیا تھا کہ وہ نوزشریف اور ان کے اہل خانہ کی بیرون ملک روانگی اور سزا کی معافی سے متعلق معاہدے کی اصل دستاویز عدالت کے سامنے بدھ کو دوپہر ایک بجے تک پیش کر دیں گے۔

 درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک دوست ملک کی مداخلت پر شریف خاندان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت سابق وزیر اعظم اور ان کے خاندان نے دس سال کے لئے ملک سے باہر جانے اور سیاست میں ملوث نہ ہونے کا آپشن قبول کیا تھا جس کے بدلے ان کی سزا معاف کردی گئی تھی اور سابق وزیراعظم اور انکے اہل خانہ کو عدالت میں فوجداری مقدمات زیر سماعت ہونے کے باوجود بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

حکومتی وکلاء نے مقدمےکی گزشتہ سماعت کے موقع پر کہا تھا کہ اس معاملے دستاویزات حاصل کرنے میں ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم سپریم کورٹ نے مزید مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کو دستاویزات تئیس اگست کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

بدھ کو دوپہر ایک بجے سے ذرا پہلے ایڈووکیٹ آن ریکارڈ ارشد علی چوہدری نے صحافیوں میں دو صفحات پر مبنی ایک درخواست تقسیم کی جس میں عدالت سے اس مقدمے کو تین ہفتے تک ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ درخواست تاحال عدالت میں جمع نہیں کروائی گئی۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک دوست ملک کی مداخلت پر شریف خاندان کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان نے دس سال کے لئے ملک سے باہر جانے اور سیاست میں ملوث نہ ہونے کا آپشن قبول کیا تھا جس کے بدلے ان کی سزا معاف کردی گئی تھی اور سابق وزیراعظم اور انکے اہل خانہ کو عدالت میں فوجداری مقدمات زیر سماعت ہونے کے باوجود بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت مذکورہ برادر ملک سے اس معاہدے کی اصل دستاویز حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کام میں تین ہفتے مزید لگ سکتے ہیں لہذا اس مقدمے کو اس وقت تک کے لیے ملتوی کیا جائے۔

حکومتی وکلاء نے گزشتہ سماعت کے موقع پر کہا تھا کہ اس معاملے میں پاکستان کا ایک دوست ملک بھی شامل ہے اور وہاں سے دستاویزات حاصل کرنے میں ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے مزید مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کو دستاویزات تئیس اگست کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

موجودہ درخواست میں بھی حکومت نے اپنی اسی استدعا کا ذکر کیا ہے کہ دوست ملک سے ان دستاویزات کو حاصل کرنے میں ایک ماہ کا عرصہ درکار ہے اس لیے پہلے سے دی گئی مہلک میں تین ہفتے کی توسیع کر دی جائے اور مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم سات رکنی لارجر بینچ سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی وطن واپسی میں رکاوٹیں ختم کرنے کی استدعا سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کر رہا ہے۔

اس مقدمے میں حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم، احمد رضا قصوری اور ابراہیم ستی ایڈوکیٹ پیش ہوں گے جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف کی نمائندگی جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابرہیم کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف نے دو مختلف آئینی درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ قرار دے کہ ملک میں رہنا اور اگلے انتخابات میں حصہ لینا شریف برادران کا بنیادی حق ہے اور حکومت ان کی ملک واپسی میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔

اسی بارے میں
حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت
16 August, 2007 | پاکستان
’مشرف پیکج کا اعلان کریں‘
22 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد