حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے حکومت کو نواز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کی ملک بدری سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کرنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی ہے۔ یہ حکم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم پانچ رکنی بینچ نے سابق وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی وطن واپسی میں رکاوٹیں ختم کرنے کی استدعا سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم، احمد رضا قصوری اور ابراہیم ستی ایڈوکیٹ پیش ہوئے جبکہ نواز شریف اور شہباز شریف کی نمائندگی جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابرہیم نے کی۔ سماعت کے دوران سرکاری وکلاء نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں حال ہی میں مقدمے کی پیروی کے لیے کہا گیا ہے، اس لیے انہیں تیاری کے لیے ایک ماہ کا وقت دیا جائے۔ وکلاء کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے میں پاکستان کا ایک دوست ملک بھی شامل ہے اور وہاں سے دستاویزات حاصل کرنے میں ایک ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔ تاہم عدالت نے مزید مہلت دینے سے انکار کرتے ہوئے حکومت کو دستاویزات تئیس اگست کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کر دی۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ان کے مؤکل اس فیصلے سے مستفید کیوں نہیں ہوئے جس پر فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ سنہ دو ہزار چار میں ان کے مؤکل شہباز شریف سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی روشنی میں پاکستان آئے تھے لیکن انہیں زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی بھی پاکستانی کو اپنے وطن واپس آنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ صدر پاکستان نے گزشتہ دنوں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ حکومت نواز شریف کی ملک بدری کے حوالے سے دستاویز عدالت میں پیش کرے گی لیکن ابھی تک ایسی کوئی دستاویز عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔ اٹارنی جنرل ملک قیوم نے عدالت کو بتایا کہ چونکہ پہلے اس کیس میں میاں شہباز شریف کے وکیل رہ چکے ہیں اس لیے وہ اس کیس میں عدالت میں پیش نہیں ہوں گے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہ عدالت ملک قیوم کو نہیں اٹارنی جنرل کو جانتی ہے لہذا وہ آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش ہوں۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف نے دو مختلف آئینی درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ قرار دے کہ ملک میں رہنا اور اگلے انتخابات میں حصہ لینا شریف برادران کا بنیادی حق ہے اور حکومت ان کی ملک واپسی میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔ ممتاز قانون دان فخرالدین جی ابراہیم کے ذریعے دائر ہونے والی اس آئینی درخواست میں میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ بارہ اکتوبر انیس ننانوے میں ان کی حکومت کے غیر قانونی خاتمے کے بعد ان کو مختلف’جھوٹے‘ مقدمات میں ملوث کیا گیا اور ایک سال بعد ان کو خاندان کے دوسرے افراد سمیت ملک سے نکال دیا گیا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ان کو ’ڈیل‘ کے ذریعے ملک سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ ڈیل کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سات سال گزرنے کے باوجود حکومت نے ابھی تک ڈیل کی کوئی تحریری شہادت فراہم نہیں کی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا تھا کہ’ اگر کوئی ڈیل ہو بھی تو وہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہو گی‘۔ میاں نواز شریف نے اپنی درخواست میں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا تھا۔ | اسی بارے میں شہباز شریف نواز لیگ کے صدر 02 August, 2006 | پاکستان واپسی کی سماعت 16 اگست کو09 August, 2007 | پاکستان نیب درخواست کی سماعت ملتوی15 August, 2007 | پاکستان میرے پاس کارگل کا ثبوت ہے: نواز21 October, 2006 | پاکستان ’انتخابات کی بھر پور تیاریاں جاری‘18 December, 2006 | پاکستان آل پارٹیز کانفرنس کی کوششیں 21 December, 2006 | پاکستان عدالتی بحران، لندن کانفرنس ملتوی18 March, 2007 | پاکستان مشرف حکومت سے رابطوں کی تصدیق 09 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||