واپسی کی سماعت 16 اگست کو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے جمعرات کو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی وطن واپسی میں رکاوٹیں ختم کرنے کی استدعا سے متعلق آئینی درخواستوں کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اور چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ عدالت نے ان آئینی درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے باقاعدہ سماعت کے لیے اس ماہ کی 16 تاریخ مقرر کی ہے۔ ان درخواستوں کے حق میں دلائل دیتے ہوئے درخواست گذاروں کے وکیل فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ آئین کی دفعہ پندرہ اور سترہ کے تحت ہر شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے ملک میں آزاد گھوم پھر سکے اور کسی کی آزادی کو مشروط نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آئین قوم کی روح ہوتا ہے اور کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ کسی دوسرے شخص کو اپنے ملک میں آنے سے روکے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس دوران استفسار کیا کہ دو ہزار چار میں سپریم کورٹ کی طرف سے جو فیصلہ آیا تھا اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا گیا جس پر فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ ان کے مؤکل شہباز شریف دو ہزار چار میں وطن واپس آئے تھے لیکن انہیں زبردستی سعودی عرب واپس بھیج دیا گیا۔ اس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ انہیں کس نے واپس بھیجا تھا تو درخواست گذار کے وکیل نے کہا کہ یہ سب کو معلوم ہے کہ شہباز شریف کو کس نے واپس سعودی عرب بھجوایا تھا۔ فخرالدین جی ابراہیم نے کہا کہ ان کے ایک مؤکل نواز شریف دو مرتبہ اس ملک کے وزیر اعظم اور دو بار ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں جبکہ ان کے دوسرے مؤکل صوبہ پنجاب کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں اور دونوں ہی ملکی سیاست میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے جو ان آئینی درخواستوں کو سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ ہیں کہا کہ آئین کے آرٹیکل 190 کے مطابق عدالت جو بھی فیصلہ کرے ایگزیکٹو(انتظامیہ) اس پر عمل درآمد کی پابند ہے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی نے دو مختلف آئینی درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ وہ قرار دے کہ ملک میں رہنا اور اگلے انتخابات میں حصہ لینا ان کا بنیادی حق ہے اور حکومت ان کی ملک واپسی میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔ ان درخواستوں کے عدالت میں دائر کیے جانے کے بعد حال ہی میں عہدہ سنبھالنے والے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا تھا کہ وہ نواز شریف کے مقدمے میں حکومت کی پیروی نہیں کریں گے کیونکہ وہ میاں نواز شریف کے وکیل رہے ہیں۔ ممتاز قانون دان فخرالدین جی ابراہیم کے ذریعے دائر ہونے والی اس آئینی درخواست میں میاں نواز شریف نے کہا کہ بارہ اکتوبر انیس ننانوے میں ان کی حکومت کے غیر قانونی خاتمے کے بعد ان کو مختلف’جھوٹے‘ مقدمات میں ملوث کیا گیا اور ایک سال بعد ان کو خاندان کے دوسرے افراد سمیت ملک سے نکال دیا گیا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ان کو ’ڈیل‘ کے ذریعے ملک سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ ڈیل کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سات سال گزرنے کے باوجود حکومت نے ابھی تک ڈیل کی کوئی تحریری شہادت فراہم نہیں کی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا:’ اگر کوئی ڈیل ہو بھی تو وہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہو گی۔‘ میاں نواز شریف نے اپنی درخواست میں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا تھا۔ | اسی بارے میں میرے پاس کارگل کا ثبوت ہے: نواز21 October, 2006 | پاکستان ’انتخابات کی بھر پور تیاریاں جاری‘18 December, 2006 | پاکستان آل پارٹیز کانفرنس کی کوششیں 21 December, 2006 | پاکستان ’نواز، بے نظیر کو واپس جانے دیں‘22 December, 2006 | پاکستان عدالتی بحران، لندن کانفرنس ملتوی18 March, 2007 | پاکستان مشرف بینظیر ڈیل پھر سرخیوں میں08 April, 2007 | پاکستان مشرف حکومت سے رابطوں کی تصدیق 09 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||