BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 August, 2007, 08:45 GMT 13:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وطن واپسی، سپریم کورٹ سے رجوع

نواز شریف
نواز شریف اپنے خاندان کے ساتھ سعودی عرب چلے گئے تھے
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ قرار دے کہ ملک میں رہنا اور اگلے انتخابات میں حصہ لینا ان کا بنیادی حق ہے اور حکومت ان کی ملک واپسی میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے اپنی مشترکہ آئینی درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ وہ قرار دے کہ ملک میں رہنا اور انتخابات میں حصہ لینا ان کا بنیادی حق ہے اور حکومت اس پر کوئی قدغن نہیں لگا سکتی۔

ادھر حکومت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا ہے کہ وہ نواز شریف کے مقدمے میں حکومت کی پیروی نہیں کریں گے کیونکہ وہ میاں نواز شریف کے وکیل رہے ہیں۔

حکومت پر بدنیتی کا الزام
 دو ہزار دو میں حکومت نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی قانون میں ترمیم کر دی اور یہ لازمی قرار دیا کہ ہر امیدوار کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ریٹرنگ آفیسر کے سامنے ہونا چاہیے اور اس طرح میں انتخابات میں حصہ نہ لے سکا
درخواست گزار

ممتاز قانون دان فخرالدین جی ابراہیم کے ذریعے دائر ہونے والی اس آئینی درخواست میں میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ بارہ اکتوبر انیس ننانوے میں ان کی حکومت کے غیر قانونی خاتمے کے بعد ان کو مختلف’جھوٹے‘ مقدمات میں ملوث کیا گیا اور ایک سال بعد ان کو خاندان کے دوسرے افراد سمیت ملک سے نکال دیا گیا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ان کو ’ڈیل‘ کے ذریعے ملک سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ ڈیل کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سات سال گزرنے کے باوجود حکومت نے ابھی تک ڈیل کی کوئی تحریری شہادت فراہم نہیں کی ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا:’ اگر کوئی ڈیل ہو بھی تو وہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہو گی۔‘

میاں نواز شریف نے اپنی درخواست میں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا ہے۔

درخواست گزار نے کہا کہ دو ہزار دو میں حکومت نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی قانون میں ترمیم کر دی اور یہ لازمی قرار دیا کہ ہر امیدوار کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ریٹرنگ آفیسر کے سامنے ہونا چاہیے اور اس طرح وہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔

بنیادی حق کا مسئلہ
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ قرار دے کہ ملک میں رہنا اور انتخابات میں حصہ لینا پیٹیشنر کا بینیادی حق ہے اور حکومت اس پر کوئی قدغن نہیں لگا سکتی

میاں نواز شریف نے کہا کہ 2003 میں ان کے بھائی میاں شہباز شریف نے واپس پاکستان آنے کی کوشش کی تو حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جس میں عدالت نے کہا تھا کہ کسی بھی شہری کو اپنے ملک میں رہنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے بعد میاں شہباز شریف کو پاکستان میں نہیں آنے دیا گیا اور ان کو زبردستی سعودی عرب بھجوا دیا گیا۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت پندرہ نومبر کو ختم ہو جائے گی اور وہ اگلے انتخابات میں اپنی پارٹی کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے وہ فورا واپس پہچننا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں
آل پارٹیز کانفرنس کی کوششیں
21 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد