وطن واپسی، سپریم کورٹ سے رجوع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ میں ایک آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں انہوں عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ قرار دے کہ ملک میں رہنا اور اگلے انتخابات میں حصہ لینا ان کا بنیادی حق ہے اور حکومت ان کی ملک واپسی میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (نواز) نے اپنی مشترکہ آئینی درخواست میں عدالت سے استدعا کی کہ وہ قرار دے کہ ملک میں رہنا اور انتخابات میں حصہ لینا ان کا بنیادی حق ہے اور حکومت اس پر کوئی قدغن نہیں لگا سکتی۔ ادھر حکومت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے کہا ہے کہ وہ نواز شریف کے مقدمے میں حکومت کی پیروی نہیں کریں گے کیونکہ وہ میاں نواز شریف کے وکیل رہے ہیں۔
ممتاز قانون دان فخرالدین جی ابراہیم کے ذریعے دائر ہونے والی اس آئینی درخواست میں میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ بارہ اکتوبر انیس ننانوے میں ان کی حکومت کے غیر قانونی خاتمے کے بعد ان کو مختلف’جھوٹے‘ مقدمات میں ملوث کیا گیا اور ایک سال بعد ان کو خاندان کے دوسرے افراد سمیت ملک سے نکال دیا گیا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ ان کو ’ڈیل‘ کے ذریعے ملک سے نکالا گیا ہے۔ انہوں نے حکومت کے ساتھ ڈیل کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ سات سال گزرنے کے باوجود حکومت نے ابھی تک ڈیل کی کوئی تحریری شہادت فراہم نہیں کی ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا:’ اگر کوئی ڈیل ہو بھی تو وہ غیر قانونی اور غیر آئینی ہو گی۔‘ میاں نواز شریف نے اپنی درخواست میں وفاقی اور چاروں صوبائی حکومتوں کو فریق بنایا ہے۔ درخواست گزار نے کہا کہ دو ہزار دو میں حکومت نے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتخابی قانون میں ترمیم کر دی اور یہ لازمی قرار دیا کہ ہر امیدوار کو کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت ریٹرنگ آفیسر کے سامنے ہونا چاہیے اور اس طرح وہ انتخابات میں حصہ نہ لے سکے۔
میاں نواز شریف نے کہا کہ 2003 میں ان کے بھائی میاں شہباز شریف نے واپس پاکستان آنے کی کوشش کی تو حکومت نے سپریم کورٹ کے اس حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی جس میں عدالت نے کہا تھا کہ کسی بھی شہری کو اپنے ملک میں رہنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے بعد میاں شہباز شریف کو پاکستان میں نہیں آنے دیا گیا اور ان کو زبردستی سعودی عرب بھجوا دیا گیا۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت پندرہ نومبر کو ختم ہو جائے گی اور وہ اگلے انتخابات میں اپنی پارٹی کی شمولیت کو یقینی بنانے کے لیے وہ فورا واپس پہچننا چاہتے ہیں۔ | اسی بارے میں میرے پاس کارگل کا ثبوت ہے: نواز21 October, 2006 | پاکستان ’انتخابات کی بھر پور تیاریاں جاری‘18 December, 2006 | پاکستان آل پارٹیز کانفرنس کی کوششیں 21 December, 2006 | پاکستان ’نواز، بے نظیر کو واپس جانے دیں‘22 December, 2006 | پاکستان عدالتی بحران، لندن کانفرنس ملتوی18 March, 2007 | پاکستان مشرف بینظیر ڈیل پھر سرخیوں میں08 April, 2007 | پاکستان مشرف حکومت سے رابطوں کی تصدیق 09 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||