BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بعد از معافی، مقدمہ نہیں کھُل سکتا‘

شریف برادران
حکومت کے پاس نوازشریف کو روکنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے: وکیل
سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل اور سابق ایڈوو کیٹ جنرل پنجاب اشتراوصاف علی کا کہنا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف بارہ اکتوبر ننانوے کے بعد قائم کیےگئے جن مقدمات میں ان کو سزا ہوئی تھی اس سزا کو صدر مملکت نے چیف ایگزیکٹیو کے حکم پر معاف کردیا تھا۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے سابق ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ اُس وقت شریف خاندان کے خلاف نیب کے دائر کردہ ریفرنس بھی واپس لے لیےگئے تھے جس کے بعد اب نہ تو معاف کردہ سزا کو بحال کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی واپس لیے گئے ریفرنسوں کو دوبارہ کھولا یا ری اوپن کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے نواز شریف اور ان کے خاندان کے بعض ارکان کے خلاف قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر کیے جانے والے تین ریفرنسوں پر کارروائی از سرِ نو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اشتر اوصاف علی نے بتایا کہ نواز شریف کو طیارہ سازش کیس اور ہیلی کاپٹر ریفرنس میں سزا ہوئی تھی جس کو اس وقت کے صدر مملکت رفیق تارڑ نے چیف ایگزیکٹیو جنرل پرویز مشرف کےکہنے پر معاف کردیا تھا، تاہم جرمانہ کی حد سزا برقرار ہے۔ ان کے بقول جب ایک مرتبہ سزا کو معاف کردیا جائے تواسے کسی طور بھی بحال نہیں کیا جاسکتا ہے۔

نصرت شہباز شریف

ان کے مطابق نواز شریف اور ان خاندان کے ارکان کے خلاف نیب نے ریفرنس دائرکیے تھے جن میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی تھی اور شریف خاندان کی جلاوطنی کے موقع پر یہ تمام ریفرنس واپس لےلیے گئے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور ان کے بھائی جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں تھے اور عدالت کےحکم بغیر ان کی رہائی ممکن نہیں ہے ۔

اشتر اوصاف علی کے بقول نواز شریف اور ان کے بھائی کی رہائی اس وقت تک ممکن نہیں تھی جب تک یہ ریفرنس واپس نہ لےلیے جاتے۔

انہوں نے کہا کہ نیب آرڈیننس کے تحت جب ایک مرتبہ ریفرنس واپس لے لیا جائے تو نہ تو اسے دوبارہ دائر کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کو ری اوپن کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کی طرف سے شریف خاندان کے خلاف ریفرنس کو ری اوپن کرنے کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے اور مشاورت کے بعد قانونی چارہ جوئی کے حوالے سے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ یا متعلقہ ہائی کورٹ سے داد رسی کے لیے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ ان کے بقول سپریم کورٹ خود بھی احتساب عدالت کی طرف سے ریفرنس ری اوپن کرنے کے معاملہ کا نوٹس لے کر کارروائی کرسکتی ہے کیونکہ احتساب عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے روبرو زیر سماعت کیس پر اثر اندازہونے کے مترادف ہے ۔

از خود نوٹس
 سپریم کورٹ خود بھی احتساب عدالت کی طرف سے ریفرنس ری اوپن کرنے کے معاملہ کا نوٹس لے کر کارروائی کرسکتی ہے کیونکہ احتساب عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ کے روبرو زیر سماعت کیس پر اثر اندازہونے کے مترادف ہے
وکیل

انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت درخواست پر کارروائی کے دوران بھی ان کے وکیل احتساب عدالت کے فیصلہ کی نشاندہی کرکے عدالت سے کارروائی کرنے کی استدعا کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب کی درخواست پر احتساب عدالت کا فیصلہ اس بات کوظاہر کرتا ہے کہ حکومت کو یقین ہوگیا ہے کہ ان کے پاس نوازشریف کو واپسی سے روکنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور حکمرانوں کی آئینی، قانونی، اخلاقی، سماجی اور سیاسی طور پر شکست ہوئی ہے۔

سابق وزیر قانون ایس ایم مسعود نےاحتساب عدالت کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک ریفرنس داخل دفتر کردیا جائے تو اسے ٹھوس اور نئے شواہد کے بغیر ری اوپن نہیں کیا جاسکتا ہے اور یہ بتانا ضروری ہے کہ آٹھ برس بعد اس ر یفرنس کو کیوں ری اوپن کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق احتساب عدالت کے فیصلہ کے بارے میں نواز شریف کی درخواست کی سماعت کے دوران نشاندہی کی جائے تو سپریم کورٹ اس اقدام پر کارروائی کرسکتی ہے۔

ماہرقانون منظور ملک کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت صرف ملزم کی موجودگی میں ریفرنس پر کارروائی کرسکتی ہے اور نیب کی یہ درخواست دینے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ نیب یہ چاہتی ہے نواز شریف عدالت میں پیش ہوں۔

ان کے بقول جب ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر ہوتا ہے تو اس کی رہائی کے لئے عدالت کی اجازت درکار ہوتی ہے، اب یہ معلوم نہیں ہے کہ نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دیتے وقت یہ اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔

ان کے کہنا ہے کہ احتساب عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ دونوں میں سے کسی ایک عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے جبکہ نواز شریف اس ریفرنس کے ری اوپن ہونےاور اپنی گرفتاری کے خدشے کے پیش نظر عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے رجوع کر سکتے ہیں اور عدالت ان کی حفاظتی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کو گرفتار نہ کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔

اسی بارے میں
واپسی کی سماعت 16 اگست کو
09 August, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد