BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’فوج اقتدار سے علیحدہ ہو جائے‘

حزب اختلاف کی جماعتیں لیاقت باغ میں جلسہ کو حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز قرار دے رہے ہیں
حال ہی میں تشکیل پانے والے حزبِ اختلاف سے تعلق رکھنے والی دینی و سیاسی جماعتوں پر مبنی اتحاد’ آل پارٹیز ڈیموکریٹک موومنٹ‘ (اے پی ڈی ایم ) کے رہنماؤں نے ملک پر فوج کی حکمرانی کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فوج کو اقتدار سےفوراٌ علیحدہ ہوجانا چاہیے ۔

لیاقت باغ راولپنڈی میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب دیر تک جاری رہنے والے اے پی ڈی ایم کے جلسہ میں حزبِ مخالف کی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی ۔

اے پی ڈی ایم میں شامل ملکی سطح کی سیاسی و دینی جماعتوں بشمول پاکستان مسلم لیگ (نواز) ، جماعتِ اسلامی، جمیعت علماءِ اسلام (فضل) کے علاوہ صوبہ سندھ ، بلوچستان اور سرحد سے تعلق رکھنے والی قوم پرست جماعتوں کے سربراہوں نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف پر شدید تنقید کی۔

پاکستان مسلم لیگ نے گزشتہ ہفتے اے پی ڈی ایم کے جلسے کو صدر جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کے لیے اتحاد کی تحریک کا نقطہ آغاز قرار دیا تھا ۔ اسی حوالے سے مسلم لیگ کے رہنماؤں نے جرنیلوں اور صدر جنرل پرویز مشرف پر شدید تنقید کی۔

چوھدری نثار علی خان کاکہنا تھا کہ حزبِ مخالف کی جماعتیں فوج کی بہت عزت کرتی ہیں لیکن، ان کے بقول، ’ایسی فوج کے ساتھ نہیں چل سکیں گے جو امریکہ سے ہدایات لیتی ہو، اپنے لوگوں کو قتل کرتی ہو اور مسجدوں اور مدرسوں کو نشانہ بناتی ہو۔‘

جلسہ سے خطاب کرنے والے اے پی ڈی ایم کے رہنماؤں میں پاکستان مسلم لیگ (نواز) کے چوھدری نثار علی خان اور اقبال ظفر جھگڑا کے علاوہ سابق وزیرِاعظم نواز شریف شامل تھے۔

اے پی ڈی ایم کا جسلہ
 ملک کو بندوق کے زور پر نہیں بلکہ جمہوریت کے ذریعے اکٹھا رکھا جا سکتا ہے۔ بندوق کے زور پر ملک کو اکٹھے رکھنے کی پالیسی کی وجہ سے آدھا ملک پہلے ہی گنوادیا گیا تھا۔
نواز شریف کا ٹیلی فون پر خطاب

نواز شریف نے جلسہ سے ٹیلی فون کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو بندوق کے زور پر نہیں بلکہ جمہوریت کے ذریعے اکٹھا رکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بندوق کے زور پر ملک کو اکٹھے رکھنے کی پالیسی کی وجہ سے آدھا ملک پہلے ہی گنوادیا گیا تھا۔ نواز شریف نے کہا کہ افسوس کا مقام ہےکہ ملک کے ساٹھویں یومِ آزادی کے موقع پر بھی اس پر فوجی حکمران مسلط ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں آئین اور جمہوریت کی بحالی کے لیے عوام کو مل کر تحریک چلانی ہوگی۔

بلوچستان سے پشتوں قوم پرست رہنما محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ ’ملک کی تباہی میں مسلح افواج اور ملک کے جاسوسی کے اداروں کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے پی ڈی ایم ملک میں بارہ اکتوبر انیس سونناوے والے آئین کو بحال کرے گا، حکمرانی سے فوج کا کردار ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے گا اور صدر مشرف کو ہٹانے کے بعد ایک درمیانی مدت کی حکومت کی تشکیل دی جائے گی جوکہ ملک میں آزادانہ اور منصفانہ بنیادوں پر انتخابات منعقد کرے گی۔

جماعتِ اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد نے صدر جنرل پرویز مشرف کو خبردار کیا کہ اگر انہوں نے موجودہ اسمبلیوں ہی سے دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش کی تو حزبِ مخالف کی جماعتیں اسمبلیاں چھوڑ کر اسلام آباد پر مارچ کریں گی ۔

جبکہ مولانا فضلا الرحمٰن کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو بحال کرکے عدلیہ نے تو اپنا وقار بحال کر لیا ہے اب سیاسی جماعتوں اور عوام کی باری ہے کہ وہ بھی اپنا کھویا ہوا وقار بحال کریں ۔

تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ ایک بھر پور عوامی تحریک ہی کے ذریعے حقیقی جمہوریت ملک میں لائی جا سکتی ہے ۔

چونکہ جلسہ میں دینی و دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں نے شرکت کی لہٰذا ان کے نظریات کی تفریق جلسہ گاہ میں ان کی جانب سے لگائے گئے بینروں پر درج نعروں سے صاف عیاں تھی۔

جہاں سیاسی جماعتوں بشمول مسلم لیگ اور پاکستان تحریکِ انصاف کی جانب سے لگائے گئے بینروں پر نعروں میں سے چند نعرے تھے کہ ’جرنیلی جمہوریت نامنظور، پوری قوم کا اعلان آمریت سے پاک پاکستان ، انصاف عام ، احتساب سرِ عام ، مشرف کو بھگائیں گے جمہوریت بحال کرائیں گے ۔‘

تو مذہبی جماعتوں کی جانب سے نعروں میں سے چند نعرے تھے کہ ’ہماری منزل اسلامی انقلاب، سانحہ لال مسجد کا ذمہ دار پرویز مشرف اور امریکی غلامی نامنظور، قاتل حکومت نا منظور۔‘

اسی طرح اے پی ڈی ایم کے جلسے میں دینی جماعتوں کا غلبہ رہنماؤں کے لیے بنائے گئے چبوترے پر لگی تصاویر سے بھی نمایاں تھا جس میں پاکستان کے جھنڈے کا صرف سبز رنگ والا حصہ چھاپا گیا تھا جبکہ اس کے ساتھ ہی مسجدِ نبوی اور خانہ کعبہ کی تصاویر بھی تھیں۔

اس کے علاوہ مغرب کے وقت جہاں رہنماؤں کے لیے بنائے گئے چبوترے سے پہلے اذان دی گئی اور پھر باجماعت نماز پڑھائی گئی توجلسہ کے بیشتر وقت مسلم لیگ اور تحریکِ انصاف کے کارکن ڈھولک کی تھاپ پر رقص کرتے رہے اور قومی نغمے گاتے رہے ۔

جلسہ میں شامل جماعتوں کے کارکن وقتاٌ فوقتاٌ جنرل مشرف اور فوجی جرنیلوں کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے ۔

جلسہ گاہ کو بجلی کے قمقوں سے روشن کیا گیا تھا اور لیاقت باغ کے اندر اور باہر ہر طرف مسلم لیگ ، جماعتِ اسلامی اور پاکستان تحریکِ انصاف کے جھنڈے لہرا رہے تھے جبکہ پاکستان کے جھنڈوں کی تعداد نہایت کم تھی ۔

ملک میں دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کی وجہ سے جہاں ملک کے بیشتر شہروں میں پاکستان کے ساٹھویں یومِ آزادی کے موقع پر غیر معمولی حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے اسی طرح اے پی ڈی ایم کے جلسہ کے موقع پر لیاقت باغ کے اندر اور اردگرد کے علاقوں میں پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی ۔ سپیشل برانچ کے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کے علاوہ زنانہ پولیس بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھیں ۔ جلسہ گاہ میں داخل ہونے کے لیے لیاقت باغ کے چار دروازوں پر کل آٹھ ’واک تھرو گیٹ‘ (حفاظتی دروازے) نصب کیے گئے تھے اورپولیس ، سادا کپڑوں میں ملبوس پولیس کے علاوہ جماعتِ اسلامی سے تعلق رکھنے والے منتظمین جلسہ گاہ میں داخل ہونے والے ہر فرد کی علیحدہ علیحدہ تلاشی لے رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد