شریف خاندان،نیب مقدمے پھرشروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
راولپنڈی کی ایک احتساب عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے چند دیگر افراد کے خلاف قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر کیے جانے والے تین مقدمات پر کارروائی از سرِ نو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کا اعلان جمعہ کے روز راولپنڈی میں قائم احتساب عدالت نمبر چار کے جج چودھری خالد محمود نے قومی احتساب بیورو کی طرف سے دائر کی جانے والی ایک درخواست پر کیا۔ شریف خاندان کے خلاف ان مقدمات کی دوبارہ سماعت کے بارے میں درخواست دو اگست کو دائر کی گئی تھی اور پندرہ اگست کو قومی احتساب بیورو کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ذوالفقار احمد بھٹہ کے ابتدائی دلائل سننے کے بعد عدالت نے کارروائی سترہ اگست تک ملتوی کر دی تھی۔ جمعہ کو احتساب عدالت کے جج چودھری خالد محمود نے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سے کہا کہ وہ مدعا علیہان کے تازہ ایڈریس اور ان کاسٹیٹس عدالت کو مہیا کریں تاکہ ان کو نوٹس جاری کیے جا سکیں۔ عدالت نے کیس کی سماعت اب پچیس اگست تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت نے وکیل استغاثہ کو ہدایت کی کہ ملزمان میں سے ایک ملزم محمد شریف وفات پا گئے ہیں لہذا وہ اس بارے میں ایک بیان ان مقدمات کی آئندہ سماعت پرعدالت میں دیں۔ واضح رہے کہ سنہ دو ہزار میں درج کیے جانے والے یہ مقدمات حدیبیہ پیپرز ملز، اتفاق فونڈریز اور رائے ونڈ میں غیر قانونی اثاثہ جات بنانے کے حوالے سے قائم کیے گئے تھے۔ احتساب عدالت نے بارہ اپریل سنہ دو ہزار ایک کو نیب کی طرف سے درخواست پر ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل نیب ذوالفقار بھٹہ کے مطابق حدبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نو افراد کو نامزد کیا گیا تھا ان میں میاں محمد سریف مرحوم، نواز شریف، شہباز شریف، میاں عباس شریف، حسین نواز، حمزہ شہباز، شمیم اختر بیوہ محمد شریف، صبیحہ عباس زوجہ میاں عباس شریف اور نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر زوجہ محمد صفدر شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اتفاق فونڈری کے مقدمے میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے ان میں میاں محمد شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مختار حسین اور کمال قریشی شامل ہیں جبکہ رائے ونڈ میں واقع اثاثہ جات کے مقدمے میں میاں محمد شریف ان کی اہلیہ شمیم اختر اور میاں نواز شریف نامزد ملزم ہیں۔ مبصرین اس عمل کو دلچسپ قرار دے رہے ہیں کہ حکومت نے عین اس وقت نواز شریف کے خلاف احتساب کورٹ میں درخواست دی ہے جب انہوں نے وطن واپسی کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ | اسی بارے میں تحریری معاہدہ موجود ہے: قیوم17 August, 2007 | پاکستان ’فوج اقتدار سے علیحدہ ہو جائے‘14 August, 2007 | پاکستان ’اعتدال پسندوں سے رابطے ہیں‘17 August, 2007 | پاکستان کیا فوج کی حکمرانی ہی پاکستان کا مقدر ہے؟16 August, 2007 | پاکستان پیپلز پارٹی سے بات ہورہی ہے: الہی15 August, 2007 | پاکستان واپسی کی سماعت 16 اگست کو09 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||