تحریری معاہدہ موجود ہے: قیوم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے دعوٰی کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کا ملک سے باہر جانے کا معاہدہ موجود ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ معاہدے کی یہ دستاویز آئندہ سماعت تک عدالت میں پیش کردی جائیں گی۔ جمعرات کوسپریم کورٹ میں صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس معاہدے پر دونوں بھائیوں کے دستخط موجود ہیں اور یہ معاہدہ دس سال تک موثر ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ نواز شریف کی وطن واپسی کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جو رٹ دائر کی گئی ہے اس میں کہا گیا کہ نوازشریف اور اس کے خاندان کو ملک سے باہر بھیجنے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے یہ دستاویز اپنی آنکھوں سے دیکھی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ملک قیوم نے کہا کہ صدر ایک وقت میں دو عہدے رکھ سکتے ہیں اور وہ صدارتی انتخابات وردی میں رہ کر لڑ سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ صدارتی انتخابات پندرہ ستمبر سے پندرہ اکتوبر کے درمیان ہوگا اور انہوں نے دعوٰی کیا کہ صدر موجودہ اسمبلیوں سے دوبارہ منتخب ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں صدر کا انتخاب ملتوی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان خوشگوار تعلقات ضروری ہیں اور اس ضمن میں وہ جلد چیف جسٹس آف پاکستان سے ملاقات کریں گے۔ | اسی بارے میں ’اعتدال پسندوں سے رابطے ہیں‘17 August, 2007 | پاکستان شناختی کارڈ، قومی اسمبلی میں بحث16 August, 2007 | پاکستان ’کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا‘17 August, 2007 | پاکستان حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت16 August, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||