’کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے جلا وطن رہنما نواز شریف نے کہا ہے کہ صدر مشرف کے ساتھ ان کی کوئی براہ راست ڈیل یا معاہدہ نہیں ہوا جو بھی مفاہمت ہوئی تھی وہ ان کی اور سعودی عرب کی حکومت کے درمیان تھی۔ بھارت کے ایک نجی ٹیلی ویژن چینل این ڈی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا اگر مشرف حکومت سے ساتھ کوئی معاہدہ ہوا ہوتا تو وہ اسے سپریم کورٹ کے سامنے پیش کر چکے ہوتے۔ اس انٹرویو میں انہوں نے اس بات سے لا علمی کا اظہار کیا کہ ان کی جلا وطنی کے وقت ہونے والے معاہدے یا مفاہمت میں یہ شق شامل تھی کہ وہ دس سال تک پاکستان واپس جا کر سیاست میں حصہ نہیں لیں گے۔ نواز شریف نے کہا کہ ’میں سعودی فرما روا کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے مشکل حالات میں میرا خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ مشرف حکومت نے پوری کوشش کی ہے کہ وہ کسی طرح سعودی حکومت اور دوسرے لوگوں کو انہیں پاکستان جانے سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔ انہیں نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کے سعودی عرب اور مشرف حکومت کے درمیان کیا طے پایا لیکن انہیں اس بات کا یقین ہے کہ سعودی حکومت کو اس بات کا پورا احساس وہ (نواز شریف) ایک سیاسی رہنما ہیں اور انہیں پاکستان کی سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا پاکستان واپسی کےبارے میں انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر رکھی ہے اور سپریم کورٹ نے اس درخواست کی سماعت کے لیے فل کورٹ قائم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں اور کیونکہ معاملہ عدالت میں ہے اس لیے وہ اس پر زیادہ اظہار خیال نہیں کریں گے۔ مشرف کی جانب ان سے رابطہ کیئے جانے کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر مشرف کی طرف سے ان سے پہلی مرتبہ اس وقت رابطہ کیا گیا تھا جب وہ سعودی عرب میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مشرف حکومت نے ان کے بھائی شہباز شریف سے سن دو ہزار دو کے انتخابات سے پہلے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوسری مرتبہ ان سے دو سال قبل رابطہ کیا گیا جب وہ سعودی عرب سے لندن منتقل ہوئے۔ انہوں نے دونوں مرتبہ وہ اس تجویز کے ساتھ آئے کہ مسلم لیگ کے دونوں دھڑوں، مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق یا ’کنگز پارٹی‘ کو متحدہ کر لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں یہ بے معبی بات تھی کیونکہ ان کی جماعت آئین کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہی تھی جب کہ دوسرے دھڑا مشرف کی آمرانہ حکومت کی حمایت کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف ڈوب رہے ہیں اور جو بھی اس موقع پر ان کے ساتھ ڈیل کرگے وہ بھی اپنی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔ بے نظیر کے بارے میں ایک سوال پر نواز شریف نے کہا کہ انہیں افسوس ہے کہ ہو مشرف حکومت کا ساتھ دے بات چیت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا یہ جمہوریت کے لیے ایک دھچکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے خود کہا ہے کہ ان کی صدر مشرف سے خفیہ مفاہمت ہے اور یہ میثاق جہموریت کی خلاف ورزی ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں اقتدار میں آنے سے زیادہ اہم یا وزیر اعظم بننے سے مختلف مسائل کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سترہویں ترمیم کو ختم کیا جانا چاہیے۔ |
اسی بارے میں ’انتخابات کی بھر پور تیاریاں جاری‘18 December, 2006 | پاکستان آل پارٹیز کانفرنس کی کوششیں 21 December, 2006 | پاکستان وطن واپسی، سپریم کورٹ سے رجوع02 August, 2007 | پاکستان جمہوریت اور انصاف کی فتح ہے03 August, 2007 | پاکستان واپسی کی سماعت 16 اگست کو09 August, 2007 | پاکستان نیب درخواست کی سماعت ملتوی15 August, 2007 | پاکستان حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت16 August, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||