پاکستانی سیاست میں سعودی مداخلت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نواز شریف اپنی پانچ سالہ سعودی عرب میں جلاوطنی کے بعد آجکل لندن میں مقیم ہیں۔ سعودی عرب کی مفاہمتی جلاوطنی کے بعد لندن کی جمہوری فضا نے نواز شریف کے اندر کے انسان کو دوبارہ کھلنے کا موقع دیا ہے۔ لندن میں بی بی سی کو دیۓ گۓ ا نٹرویوز سے نواز شریف کی سیاست اور افکا ر کی سمت دھیرے دھیر ے واضح ہو رہی ہے۔ ابتک ایک بات جو سا منے آئی ہے وہ نواز شریف کی جلاوطنی کے پس منظر میں سعودی خاندان کی مداخلت ہے ۔ اس مسئلے پر نواز شریف کا بیان خاصا تشویشناک ہے۔ وہ ابھی بھی اپنی جلاوطنی کے اس پہلو کو اپنی ذاتی اور خاندانی رشتوں کے حوالے سی دیکھ ر ہے ہیں۔ یہ بات زیادہ حیران کن ا س لیۓ ہے کہ جہاں میاں صاحب نے دوسرے امور پر خاصی سیاسی بالغ نطری کا مظاہرہ کیا ہے وہاں اپنی جلاطنی کو بڑے سیاسی عمل کی بجائے خا لصتاً اباجی اور سعودی عرب کے حکمران کی دریا دلی تک محدود کرد یا ہے۔ نواز شریف کی سعودی عرب جلاوطنی سے جمہوری قوتوں کو خاصا نقصان ہوا ہے ۔فوجی حکو مت کو اپنےا قتدار کو طول د ینے کا مو قع ملا ہے۔ اس مسئلہ کا بڑا سوال سعودی حکومت کا پا کستان کے ا ندرونی معاملات میں مداخلت اور اس کا جمہوریت پر اثرات کے متعلق ہے۔ نواز شریف سے پہلے بھٹو کو بھی جنرل ضیا نے جلاوطنی کے دعوت دی جس کو انہوں نے رد کر دیا۔سعودی حکومت کے رول کے سلسلہ میں یہ واضح کرنا ضروری ہو گا کہ قومی اتحاد کی تحریک کے دوران بھٹو کچھ دونوں کے لیۓ سعودی عرب چلے آئے تھے ۔ان کی واپسی کے چند دنو ں بعد جنرل ضیا نے ان کو چلتا کر دیا- کیا سعودی عرب نے ان کی برطرفی میں کو ئی کردار کیا اس کا فیصلہ تو تاریخ ہی کرے گی لیکن سیاستدانو ں کو تیل اور تیل کی دھار میں فرق ضرور کرنا چاہیۓ۔ دوسری حیرت انگیز بات نواز شریف کی وطن واپسی کے مسئلے پر مکمل خاموشی ہے۔اس سے دو نتائج ہی اخذ کۓ جا سکتے ہیں کہ یا تو وہ سعودی حکومت سے کیے گئے معاہدے یا مفاہمت کی خلاف ورزی نہیں کر سکتے اور وہ اس پر گفتگو کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ کسی بھی صورت میں نواز شریف کو اس مسئلے پر عوام کو اعتما د میں لینا چاہیۓ۔ اس سے ان کے سیاسی وقار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ مندرجہ بالا حقیقت کے علاوہ نواز شریف نے دوسرے امور پر خاصی سنجیدہ اور فکر انگیز باتیں کی ہیں۔ نواز شریف کی اسیری کی بپتا سے صاف ظاہر ہے کہ فوج کی نظر میں جمہوریت اور عوامی نمائندوں کی کیا قدر ہے۔ فوج نے نہ صرف وزیر اعظم کے سا تھ برا سلو ک کیا بلکہ جنرل عثمانی نے نواز شریف کا دستوری طور پر صیح حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ فوج اور جمہوریت کے درمیان یہ تو پا کستانی سیاست کا ا یک نا سو رہے۔ جب تک فو ج کو جمہوری حکومت کے ماتحت نہیں لایا جاتا اس وقت تک قومی ترجیحات اود مستقبل کا تعین مشکل ہے۔ اس حوالہ سے نواز شر یف کی قانون اور دستو ر کی بالادستی پر مسلسل زور اور عزم ا نتہائی حو صلہ افزا ہے۔ فو ج اور سو یلین کے معا ملے پر نواز شریف نے وزیر اعظم کے آرمی کے چیف کو بر طر ف کرنے کے دستوری حق کا اعادہ بھی کیا ہے ۔ لگ یہ رہا ہے کہ نواز شریف کا اس معاملے پر جرنیلو ں کو سبق سکھانے کا اعاد ہ ان کی سیاسی سو چ میں خاصی تبدیلی کی نشاہد ہی کر تی ہے۔اس سے پہلے فو ج کی سیاست میں مداخلت پر با ئیں بازو،صو بائی خود مختاری ، لبرل اور انسانی اور جمہوری حقوق کی قوتوں کی طرف سے ز یادہ شور اٹھا تھا۔ مسلم لیگ (نواز) کی شکل میں پہلی دفعہ دائیں بازو کی قدامت پسند پارٹی نے فو جی آمریت کی اس انداز سے مخالفت کی۔ اس لحاظ سے یہ اہم تبدیلی ہے جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ نواز شریف کی سماجی انصاف کے حوالے سے فوجی حکومت پر نکتہ چینی پاکستان میں پائی جانے والی سماجی اور معاشی عدم مساوات پر بے چینی کے موڈ کے عین مطابق ہے۔تاحال سیاسی جماعتیں اس ِٹک ٹِک کر تے ہو ئے بم کو استعمال کرنے سے گریز کر رہی ہے۔نواز شریف کے انٹرویو سے لگتا ہے کہ انہیں اس کا گہرا احسا س ہے۔ بنیظیر سے تعاون کے سوال پر نواز شریف نے بجا طور پر اس کو ا ہم ملکی ضرورت قرار دیا لیکن اس قو می ضرورت کا ا یک تقاضہ یہ ہے کہ دونو ں رہنماؤں کو ایک مربوط عمل تیار کرنا چاہیۓ جس کا پہلا نکتہ دونو ں کے و طن واپسی ہونا چا ہیۓ ۔ کارٹون احتجا ج کے بعد اس کی ضرورت خاص طور پر بڑھ گئی ہے ۔دونوں جلاوطن رہنماؤں کو اپنے مغربی محسنوں کو اس دلیل پر قا ئل کرنے کی کوشش کرنی چاہیۓ۔ | اسی بارے میں جلاوطنی معاہدہ نہیں مفاہمت ہے‘05 February, 2006 | پاکستان مشرف نے ہمیں لڑانا چاہا: نواز 13 February, 2006 | پاکستان ’کلنٹن نے کہا پھانسی نہ دیجائے‘26 February, 2006 | پاکستان دبئی: نواز شریف کی پریس کانفرنس07 January, 2006 | پاکستان نوازشریف کے پہلے چوکے چھکے31 January, 2006 | پاکستان آئین توڑنے کی سزا دینگے: نوازشریف29 January, 2006 | پاکستان ’نواز شریف جھوٹ بول رہے ہیں‘27 February, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||