 | | | شان میکارمیک نے نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والی خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے |
بش انتظامیہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ پاکستان میں تمام اعتدال سیاسی قوتوں سے بات چیت کر رہی ہے تاکہ ملک میں انتہا پسند قوتوں کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔ امریکی دفترِ خارجہ کے ترجمان شان میکارمیک نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں سے رابطے کی خبروں کی تصدیق کی اور کہا کہ وہ اعتدال پسند قوتوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں تاکہ وہ یکجا ہو کر انتہا پسند قوتوں کا مقابلہ کر سکیں۔ لیکن انہوں نے ان خبروں کی تصدیق نہیں کی ہے کہ امریکہ صدر مشرف اور بے نظیر بھٹو پر سیاسی مفاہمت کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ میکارمیک نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ پاکستان کے لوگ اور پاکستان کے لیڈر ہی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ اس پر پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا الزام لگے۔ پاکستان کے وزیر مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے کہا کہ پاکستان نہیں چاہتا کہ کوئی ملک اس کے اندرونی معملات میں دخل اندازی کرے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے گزشتہ ہفتے صدر مشرف سے ٹیلی فون پر بات کی تھی جس میں انہیں ملک میں ایمرجنسی یا ہنگامی حالت نفاذ نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اس بات چیت کے دوران سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کی تاحیات چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کا ذکر بھی آیا تھا۔ اس گفتگو کے دوران نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے صدر مشرف کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ وہ بے نظیر سے کوئی مفاہمت کریں۔ اخبار نے مزید کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے کچھ اعلی اہلکاربھی بے نظیر سے رابطے میں ہیں۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن بیل نے اپنے ایک مراسلے میں کہا ہے کہ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ اگر انتخابات کے نتیجے میں صدر مشرف کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑتا ہے تو یہ امریکہ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہو گا۔ |