BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 August, 2007, 07:36 GMT 12:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی قانون سازی پر تشویش

باؤچر اور قصوری
رچرڈ باؤچر کے دورے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے
پاکستان نے بدھ کو باقاعدہ طور پر امریکی سیاست دانوں کے پاکستان مخالف بیانات اور مشروط امداد کے بارے میں قانون سازی پر امریکہ کو اپنی تشویش سے آگاہ کیا ہے۔

وزیرِ خارجہ خورشید محمود قصوری نے پاکستان کی اس تشویش سے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کو آج اسلام آباد میں ایک ملاقات میں آگاہ کیا۔ امریکی اہلکار نے صدر مشرف سے بھی ملاقات کی ہے۔

جنوبی ایشیا کے لیے امریکی نائب وزیرِ خارجہ رچرڈ باؤچر کا یہ پاکستان کا اس سال چوتھا دورہ ہے۔

پاکستانی وزیرِ خارجہ نے رچرڈ باؤچر سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک تعلقات کو دونوں کے مفاد میں قرار دیا۔ تاہم انہوں نے کچھ عرصہ قبل امریکی سیاستدانوں کی جانب سے دیے گئے بیانات کے بارے میں اپنی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ منفی اثر رکھتے ہیں۔

خورشید قصوری نے امریکہ میں حالیہ قانون سازی پر بھی تشویش ظاہر کی جس کے تحت پاکستان کی سکیورٹی امداد اس کی کارکردگی سے مشروط کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قانون سازی نے پریسلر ترمیم کی یاد دلا دی ہے جس کے دو طرفہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ یہ قانون دونوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک تعلقات کی روح کے خلاف ہیں۔

ملاقات میں پاکستان نے بھارت کے ساتھ امریکہ کے سول نیوکلیئر معاہدے پر بھی تشویش ظاہر کی۔

سرکاری بیان کے مطابق رچرڈ باؤچر نے حالیہ بیانات کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پالیسی کی عکاسی صدر بش اور وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے بیانات کرتے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ رچرڈ باؤچر پاکستان میں بعض امریکی صدارتی امیدواروں کے بیانات سے پیدا ہونے والی تشویش میں کمی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دونوں وزراء نے اس امید کا اظہار کیا کہ کابل جرگے کے طے شدہ طریقۂ کار سے امن کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ رچرڈ باؤچر کے تازہ دو روزہ دورۂ پاکستان کو موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں کافی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس دورے میں توقع ہے کہ بعض امریکی رہنماؤں کی جانب سے پاکستان میں القاعدہ کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کی دھمکیاں اور صدر جنرل پرویز مشرف کو درپیش سیاسی بحران پر بھی تفصیلی بات ہوگی۔

توقع ہے کہ اعلیٰ امریکی اہلکار آج بعد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔ صدر مشرف پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انہیں دو سو فیصد یقین ہے امریکہ پاکستان کے اندر کسی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا ہے۔

فائل فوٹوامریکی کشمکش
’دوسری بار وردی سے بہت کچھ بگڑ سکتا ہے‘
رچرڈ باؤچرباؤچر پاکستان میں
رچرڈ باؤچر کی صدر مشرف سے بھی ملاقات متوقع ہے۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد