BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 June, 2007, 19:51 GMT 00:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ پاکستان میں جمہوریت کاخواہاں

امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر
باؤچر نے بدھ کو وزارت خارجہ کے حکام اور چیف الیکشن کمشنر سے ملاقاتیں کی تھیں
امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے بلوچستان کے دورے کے دوران اراکین اسمبلی سے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت اور شفاف انتخابات کا خواہاں ہے۔

انہوں نے چمن میں پاک افغان سرحد کا دورہ بھی کیا ہے۔

جمعرات کو بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی ایڈووکیٹ کی سربراہی میں حزب اختلاف کے اراکین سے ملاقات میں امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان میں انتخابات شفاف ہوں ۔

بلوچستان اسمبلی کے اراکین نے رچرڈ باؤچر کو ایک یادداشت پیش کی جس میں انہیں بلوچستان میں فوجی کارروائی ، صوبے میں تین نئی فوجی چھاؤنیوں کے قیام اور گوادر بندرگاہ کے حوالے سے قوم پرست جماعتوں کے خدشات سے آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ بلوچستان اسمبلی سے منظور شدہ قراردادوں پر وفاق عملدرآمد نہیں کرتا۔

کچکول علی ایڈووکیٹ نے کہا کہ انہوں نے امریکی نائب وزیر خارجہ کو بتایا ہے کہ امریکہ نے دنیا میں دوہرا معیار اپنایا ہوا ہے ایک طرف جمہوریت کا راگ الاپ رہا ہے تو دوسری طرف ایک ڈکٹیٹر کو پاکستانی عوام پر مسلط کیا ہوا ہے۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف کی موجودگی میں آزاد انتخابات نہیں ہو سکتے اس کے لیے خودمختار الیکشن کمیشن اور آزاد عدلیہ کا ہونا ضروری ہے۔

امریکی نائب وزیر خارجہ نے کوئٹہ میں سینٹ میری سکول میں نئی انتخابی فہرستوں کا معائنہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن نے نئی انتخابی فہرستیں سینٹ میری سکول میں آویزاں کی ہوئی ہیں۔

رچرڈ باؤچر نے وزیر اعلی بلوچستان جام محمد یوسف سے ملاقات کی ہے اور اس کے بعد وہ چمن روانہ ہوگئے جہاں انہوں نے پاک افغان سرحد پر حفاظتی انتظامات اور بائومیٹرک نظام کا معائنہ کیا ۔

کسی امریکی وزیر نے بلوچستان کا کافی عرصہ بعد دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے حوالے سے شہر میں سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے ۔ چھاؤنی اور وزیر اعلی ہاؤس کے درمیان واقع گرامر سیکرڈ ہارٹ اور کانوونٹ سکول آج بند کر دیے گئے تھے۔ شہر کے تمام حساس مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد