باؤچرکی سیاسی و غیرسیاسی ملاقاتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا رچرڈ باؤچر نے بدھ کو اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے حکام، وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور چیف الیکشن کمشنر سے ملاقاتیں کی ہیں۔ امریکی نائب وزیر نے مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے اعزاز میں دعوت بھی دی جس میں ان سے پاکستان کی سیاسی صورتحال اور آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر اور سیاسی جماعتوں سے امریکی نمائندے کی ملاقات کو بعض حلقے خاصی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں لیکن حکومتی حلقے اُسے ایک رسمی دورہ قرار دینے کا تاثر دے رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ قاضی محمد فاروق سے امریکی نائب وزیر رچرڈ باؤچر نے پاکستان میں کمپیوٹرائیزڈ ووٹر فہرستوں کی تیاری اور آئندہ عام انتخابات شفاف بنانے کے بارے میں بات چیت کی۔ سکریٹری الیکشن کمیشن کنور محمد دلشاد نے بی بی سی کو بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر نے مسٹر باؤچر کو پچپن کروڑ روپوں کی امریکی امداد سے پاکستان میں پہلی بار تیار کردہ کمپیوٹرائیزڈ ووٹر فہرستوں کے متعلق بریف کیا۔
انہوں نے کہا کہ نئی فہرست کے بارے میں اعتراضات اور ان کو نمٹانے کا عمل جاری ہے اور چھبیس جولائی تک حتمی ووٹر لسٹیں شائع کردی جائیں گی۔ کنور محمد دلشاد نے کہا کہ ’مسٹر باؤچر کا دورہ الیکشن کمیشن جذبہ خیر سگالی کے تحت ہے اور ملاقات میں غیر رسمی بات چیت ہوئی‘۔ رچرڈ باؤچر کی پاکستان میں آئندہ انتخابات کو شفاف بنانے کے لیے چیف الیکشن کمشنر سے یہ دوسری ملاقات ہے۔ پہلی ملاقات انہوں نے گزشتہ برس اپریل میں کی تھی۔ امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا نے دفتر خارجہ میں پاکستانی حکام سے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کی صورتحال سمیت دو طرفہ اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کام، فرنٹیئر کور کو مضبوط کرنے اور افغان جرگہ کے انعقاد پر امریکی نمائندے سے بات چیت کی گئی۔
سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے اعزاز میں دی گئی دعوت میں دیگر رہنماؤں کے علاوہ سید مشاہد حسین، ایس ایم ظفر، فاروق ستار، اقبال ظفر جھگڑا، لیاقت بلوچ اور پیپلز پارٹی کے ایک بڑے وفد نے شرکت کی۔ پیپلز پارٹی کے وفد میں سید یوسف رضا گیلانی، شاہ محمود قریشی، اعتزاز احسن، فرحت اللہ بابر، ناہید خان اور دیگر شریک ہوئے۔ حزب مخالف کے نمائندوں نے امریکی نائب وزیر پر وضح کیا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کی موجودگی میں شفاف انتخابات ممکن نہیں۔ امریکی نائب وزیر کی پاکستان آمد کے موقع پر سٹیٹ ڈپارٹمینٹ کے ترجمان کے اُس بیان کو پاکستانی اخبارات نے نمایاں طور پر شائع کیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے فوجی عہدہ چھوڑنے کا جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کریں گے۔ کی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے یہ توقع بھی ظاہر کی ہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف خود کو موجودہ اسمبلیوں کے بجائے نومنتخب اسمبلیوں سے منتخب کروائیں گے۔ پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں رچرڈ باؤچر کے دورے کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے لیکن حکومتی حلقے اُسے معمول کا دورہ قرار دے رہے ہیں۔ مسٹر باؤچر کی صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات متوقع ہے لیکن حکام کہتے ہیں کہ تاحال ملاقات طے نہیں ہوئی۔ |
اسی بارے میں ’پاک جمہوریت امریکی ایجنڈے پر‘06 April, 2006 | پاکستان باؤچر کی حکام سےملاقاتیں05 April, 2006 | پاکستان مشرف کی مذمت سےامریکہ کا انکار21 December, 2004 | صفحۂ اول ’وردی کا فیصلہ انتخابات کریں گے‘26 January, 2007 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||