BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 January, 2007, 07:03 GMT 12:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وردی کا فیصلہ انتخابات کریں گے‘
رچرڈ باؤچر
امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے امورِ جنوبی و وسطی ایشیا رچرڈ باؤچر کا بی بی سی اردو سے خصوصی انٹرویو
امریکہ کے نائب وزیرِ خارجہ برائے امورِ جنوبی و وسطی ایشیا رچرڈ باؤچر نے بی بی سی اردو کے سہیل حلیم سے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے انتخابات کے تناظر میں فوجی عہدے سے دستبرداری کے بارے میں فیصلہ کرنے کا وعدہ کیا ہے اور ہم سب کو تب تک کے لیے انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔

سہیل حلیم: دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کیا مقام ہے؟ کیا مرتبہ حاصل ہے اس کو؟

رچرڈ باؤچر: میرے خیال میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان ایک اہم ساتھی رہا ہے۔ سب سے پہلے تو پاکستانی معاشرہ جس سمت میں جا رہا ہے، جیسا کے صدر مشرف نے بھی کہا ہے کہ یہ سمت دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اہم حصہ ہے، یہ سمت ہے ایک مضبوط، معتدل، جدید جمہوری معاشرے کی تخلیق کی۔ یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ اس سے دنیا کے ان حصوں کو مضبوط کرنے میں مدد ملی ہے جو ماضی میں مشکل ترین رہے ہیں اور جہاں سے ہمیشہ حملے ہوتے رہے ہیں۔ سرحد کے قبائلی خطے میں حکومت کا اختیار قائم کرنا، اُن خطوں کو قومی معیشت کا حصہ بنانا اور انہیں قوم کا حصہ بننے کے فائدے دینا، یہ بھی ہمارے لیے بہت اہم ہے کیونکہ ان سے اُن تمام علاقوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملتی ہے جن سے ماضی میں نہ صرف پاکستان بلکہ ہم سب کو خطرہ لاحق رہا ہے۔ تو میرے خیال میں پاکستان ایک اہم ساتھی رہا ہے۔ اس نے القاعدہ کے خاتمے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے۔ اس نے پاکستان میں طالبان عناصر پر حملے کیے ہیں۔ ہم سب کو یہی دیکھنا ہے کہ ہم اپنی کوششوں کو کس طرح سے زیادہ مؤثر بنائیں لیکن ان کوششوں کا بنیادی مقصد اور عملی اقدامات کرنا دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے بہت اہم ہیں۔

س: جب بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا نام آتا ہے تو امریکہ اسے ایک اہم اتحادی قرار دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہنے سے نہیں چوکتا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے تو کیا امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامی کے لیے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنا رہا ہے؟

سرحدی علاقے
 ہمیں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو معاشی مواقع فراہم کرنے ہیں اور ان لوگوں کو حکومت کے اختیار کو قبول کرنا ہے۔ ٹھیک ہے کہ کبھی کبھار حکومت کو ایسے لوگوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنا پڑتی ہے جو اس کے اختیار کو نہیں مانتے لیکن میرے خیال میں ایک جامع حکمتِ عملی موجود ہے اور ہم سب کو اسے مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہیں۔
ج: افغانستان میں بھی مسائل ہیں اور پاکستان میں بھی مسائل ہیں۔ ہمیں افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے افغانستان کے لوگوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے اور پاکستانی مسائل کے لیے پاکستان کے لوگوں کے ساتھ چلنا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی ان مشکلات سے اس وقت تک نجات نہیں پا سکے گا جب تک ہم ان مشکلات کا مل کر مقابلہ نہ کریں۔ یہی ہمارا طریقہ کار ہے۔

س: تو آپ کے خیال میں پاکستان کو مزید کیا کرنا چاہیے؟

ج: سب سے پہلے تو قبائلی علاقوں میں جاری کارروائیاں صرف فوجی کارروائیاں نہیں ہیں۔ کچھ حد تک تو وہاں فوجی کارروائیاں ضروری ہیں کیونکہ وہاں پر خطرناک لوگ موجود ہیں لیکن وہاں پر شہری ترقی بھی بہت اہم ہے۔ ان لوگوں کو قومی معیشت کا حصہ بنایا جائے، انہیں ویسے ہی مواقع فراہم کیے جائیں جیسے پاکستان کے دوسرے حصوں کی عوام کو میسر ہیں۔ ہم اس لائحہ عمل کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم سب کے لیے ضروری ہے کے مذید مؤثر کوششیں کریں۔ ہمیں سرحدوں پر حکومت کی بالادستی قائم کرنی ہے اور پاکستان ایسا ہی کر رہا ہے۔ ہمیں پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو معاشی مواقع فراہم کرنے ہیں اور ان لوگوں کو حکومت کے اختیار کو قبول کرنا ہے۔ ٹھیک ہے کہ کبھی کبھار حکومت کو ایسے لوگوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنا پڑتی ہے جو اس کے اختیار کو نہیں مانتے لیکن میرے خیال میں ایک جامع حکمتِ عملی موجود ہے اور ہم سب کو اسے مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کرنے ہیں۔

س: لیکن جب آپ قبائلی علاقوں میں حکومت کی فرمانروائی کی بات کرتے ہیں تو زمین پر جو صورتحال ہے وہ اس سے بالکل مختلف ہے اور حکومتِ پاکستان طالبان سے دراصل امن معاہدے کر رہی ہے؟

ج: ہاں وہ ایسے اقدامات کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جن پر پاکستانی تاریخ میں ایک طویل عرصے سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے لیکن ایسے اقدامات حکومتی فرمانروائی پر بوجھ ڈال دیتے ہیں۔ انہوں نے یہ اقدامات تو چنے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے اقدامات کو کس طرح سے مؤثر بنایا جائے گا؟

طالبان کی تنظیم نو
 طالبان سرحد کے آر پار آتے جاتے رہے ہیں اور انہیں پاکستان کی طرف سے مدد ملتی رہی ہے۔ اس طرح سے وہ ایک بار پھر اکھٹے ہو کر حملے کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ چنانچہ ہمیں ان پر ہر طرف سے دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اور ان پر ہر طرف سے دباؤ ڈالا بھی جا رہا ہے۔ پاکستانی حکومت سرحد کے اِس پار سے جبکہ افغان حکومت سمیت نیٹو اور امریکی فوج طالبان پر سرحد کے اُس پار سے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس سال بھی طالبان کے حملے جاری رہیں گے اور شاید وہ پہاڑوں میں جمع ہو کر ایک بڑا حملہ بھی کریں جو کہ کافی خطرناک ثابت ہوتا ہے لیکن ایسی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہم بھی اس سال بہتر پوزیشن میں آ جائیں گے۔
رچرڈ باؤچر
س: یعنی امریکہ کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں ہے کہ حکومتِ پاکستان مقامی طالبان کے ساتھ امن معاہدے کرے؟

ج: یہ معاہدے خطے کے رہنماؤں سے کیے گئے ہیں اور اگر یہ معاہدے اپنے مقاصد حاصل کر لیتے ہیں، جیسا کہ سرحد پار دراندازی کا خاتمہ، غیر ملکی جنگجوؤں کا خاتمہ اور طالبان تحریک کا خاتمہ تو پھر تو یہ ایک اچھی چیز ہے۔ لیکن ابھی تک ایسا نہیں ہوا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے مذید کوششیں کریں گے۔

س: آپ کی اجازت سے افغانستان کا ذکر کرنا چاہوں گا، جنوبی افغانستان میں طالبان کے دوبارہ مضبوط ہونے کی آپ کے خیال میں سب سے اہم وجوہات کیا ہیں؟

ج: اس کی بہت سی وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے تو حکومتی مراعات کو پورے ملک میں فراہم نہیں کر سکے۔ بہت سے علاقوں میں حکومت مضبوط نہیں ہے۔ طالبان سرحد کے آر پار آتے جاتے رہے ہیں اور انہیں پاکستان کی طرف سے مدد ملتی رہی ہے۔ اس طرح سے وہ ایک بار پھر اکھٹے ہو کر حملے کرنے کے قابل ہو گئے ہیں۔ چنانچہ ہمیں ان پر ہر طرف سے دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ اور ان پر ہر طرف سے دباؤ ڈالا بھی جا رہا ہے۔ پاکستانی حکومت سرحد کے اِس پار سے جبکہ افغان حکومت سمیت نیٹو اور امریکی فوج طالبان پر سرحد کے اُس پار سے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ میرے خیال میں اس سال بھی طالبان کے حملے جاری رہیں گے اور شاید وہ پہاڑوں میں جمع ہو کر ایک بڑا حملہ بھی کریں جو کہ کافی خطرناک ثابت ہوتا ہے لیکن ایسی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہم بھی اس سال بہتر پوزیشن میں آ جائیں گے۔

س: پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں روز بروز کشیدگی پیدا ہو رہی ہے تو کیا حالات کو بہتر بنانے کے لیے امریکہ نے ابھی تک کوئی کردار ادا کیا ہے؟

ج: ہم نے تو ہمیشہ دونوں کے مل کر کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے اور وہ اس چیز کو مانتے بھی ہیں۔ اگر آپ دونوں حکومتوں سے پوچھیں تو دونوں اس بات کا اعتراف کرتی ہیں کہ ہم سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نزدیک تو دونوں اطراف کے حکومتی عہدیداروں کی ملاقاتیں خوش آئند ہیں۔ پاکستانی وزیرِ اعظم کچھ عرصہ پہلے ہی افغانستان گئے تھے۔ دونوں کے وزراءِ خارجہ ملے ہیں، سکیورٹی کے مشیر ملے ہیں اور دیگر عہدیداروں کی ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ ہم تو لوگوں کی مذاکرات کے ذریعے مل کر کام کرنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ بعض اوقات سامنے آنے والے بیانات سے یہی لگتا ہے کہ اختلافات پیدا ہو رہے ہیں لیکن میرے خیال میں درحقیقت ان کے تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔

س: مسٹر باؤچر سن 2007 پاکستان میں صدارتی انتخابات کا سال ہے۔ کیا یہ بات سچ ہے کہ بش انتظامیہ نے صدر مشرف سے یہ یقین دہانی طلب کی ہے کہ وہ اس سال کے صدارتی انتخابات سے قبل اپنی فوج کی وردی اتار دیں گے اور کیا انہوں نے ایسی یقین دہانی کرائی ہے؟ کیا آپ اس کی تصدیق کر سکتے ہیں؟

ج: نہیں میں اس کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ ہم نے پچھلے ہفتے بھی کہا ہے کہ یہ رپورٹ غلط ہے۔

س: لیکن کیا آپ چاہیں گے کہ صدر مشرف اپنی وردی اتاریں؟

ج: میں تو وہی دیکھنا چاہوں گا جو انہوں نے کہا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ آزاد اور غیر جانبدارانہ انتخابات کروائیں گے اور پاکستانی عوام کو اپنا مستقبل چننے کا موقع دیں گے۔

س: میں ایک مرتبہ پھر پوچھوں گا کہ کیا آپ چاہیں گے کہ وہ اپنے فوجی عہدے سے دست بردار ہو جائیں؟

ج: اس سوال کے جواب کے لیے انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان انتخابات کے تناظر میں اس بارے میں فیصلہ کریں گے اور میرے خیال میں ہم سب کو تب تک کے لیے انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد