امریکی فوج کے سربراہ پاکستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی بری فوج کے سربراہ جنرل شومیکر جمعہ کو ایک روزہ دورے پر اسلام آباد آئے اور جی ایچ کیو میں پاکستان کے نائب آرمی چیف جنرل احسن سلیم حیات سے ملاقات کی۔ فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ بیان کے مطابق جب جنرل شومیکر چکلالہ کے فوجی ہوائی اڈہ پر اترے تو چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل صلاح الدین نے ان کا خیر مقدم کیا۔ فریقین کی جانب سے ملاقات کی تفصیلات کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا جا رہا۔ بعض تجزیہ نگار اس ملاقات کو جنوبی ایشیا کے متعلق امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کے کچھ عرصہ قبل آنے والے بیان کے تناظر میں خاصی اہمیت کا حامل قرار دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ رچرڈ باؤچر نے کہا تھا کہ پاکستان کے قبائلی علاقے طالبان کے محفوظ ٹھکانے بن رہے ہیں اور اس بارے میں امریکہ کو تشویش ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس صورتحال سے پاکستانی حکومت کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے۔ ان کے بیان کے بعد جب دفتر خارجہ کی ترجمان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ نے تاحال اس معاملے پر تشویش ظاہر نہیں کی بلکہ پاکستان کی پالیسی کی تعریف کرتا رہا ہے۔ افغانستان میں امریکہ کی اتحادی افواج ’ایساف‘ ہوں یا نیٹو کی امن فوج، ان کے خلاف طالبان شدت پسندوں کے حملوں میں گزشتہ چند ماہ میں خاصی تیزی دیکھنے کو ملی ہے جس پر متعلقہ افواج کے کمانڈر پریشان ہیں۔ | اسی بارے میں پاکستان زیادہ غیرمحفوظ: طالبان14 December, 2006 | پاکستان باڑ، بارودی سرنگ، ملا جلا ردِعمل27 December, 2006 | پاکستان پاکستان: 20 کروڑ ڈالر کی امداد15 June, 2006 | پاکستان پاکستان آخر ہے کیا؟06 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||