پاکستان آخر ہے کیا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان آخر ہے کیا؟ ہوسکتا ہے کہ یہ سوال پاکستان میں رہنے والوں کو عجیب لگے لیکن بیرونی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کو اکثر اس کا سامنا رہتا ہے۔ اسی لیے امریکہ میں پیشہ ور پاکستانیوں کی تنظیم ایسوسی ایشن آف پاکستانی پروفیشنلز یا اے او پی پی نے برانڈنگ پاکستان کے نام سے ورکشاپس کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے جس کا پہلا پروگرام اس ہفتے نیو یارک میں ہوا۔ اس ورکشاپ کے پیچھے بنیادی خیال یہ تھا کہ آج کی دنیا برانڈز کی دنیا ہے۔ ہر چیز اپنے نام سے پہچانی جاتی ہے اور ہر نام کے ساتھ اچھے یا برے احساسات وابستہ ہوتے ہیں۔ اے او پی پی کا کہنا ہے کہ آج دنیا میں پاکستان کا نام یا تو لوگ جانتے ہی نہیں یا اس کے بارے میں منفی جذبات و خیالات رکھتے ہیں۔ تنظیم کے صدر آصف اسلم کہتے ہیں کہ اس بارے میں صرف حکومت کو ہی نہیں افراد کو بھی کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ’برانڈ پاکستان کا نظریہ یہ ہے کہ ہم مل کر بیٹھیں اور یہ فیصلہ کریں کہ پاکستان کے منفی امیج کے بارے میں ہم کیا کر سکتے ہیں۔ تنقید کرنا آسان ہوتا ہے لیکن کوئی بھی کچھ کرنے کی ذمہ داری نہیں اٹھانا چاہتا‘۔ پینل میں کئی امریکی ماہرین کے علاوہ پاکستان سے وزیر اعظم کی مشیر برائے ذرائع ابلاغ مہرین خان بھی شریک تھیں۔ میزبان کے فرائض ٹفٹس یونیورسٹی میں بین الاقوامی سفارتی امور کے پروفیسر اور پاکستان ٹیلی وژن کے سابق میزبان عادل نجم کر رہے تھے۔ پاکستان کے برانڈ نیم کو بہتر بنانے کی کوشش کیوں ضروری ہے؟ عادل نجم کہتے ہیں: ’ اس کی دو وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ ہمیں بحیثیت پاکستانی اب یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ ہم کیا ہیں۔ ہم دنیا کے لیئے کیا ہیں اور اپنے لیئے کیا ہیں۔ پاکستان کا جو چہرہ ہے وہ کیسا چہرہ ہے۔ دوسرا یہ کہ دنیا ہمیں زیادہ سنجیدگی سے لے گی اگر ہمارے پاس ایک ایسا امیج ہو جس پر سب متفق ہوں‘۔ ورکشاپ کے دوران اس پر بھی بحث ہوئی کہ آج کی دنیا میں پاکستان کے نام اور اس سے وابستہ احساسات کو بہتر بنانے کے لیئے خود پاکستان کی حکومت کیا کر رہی ہے۔ خاص طور پر مختاراں مائی کا ذکر بارہا آیا کیونکہ کئی شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان نے جس طرح اس معاملے سے نمٹا، اس سے بیرونی دنیا میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ وزیر اعظم کی مشیر مہرین خان نے بھی اس کا اعتراف کیا۔ ’ظاہر ہے کہ اس معاملے سے بہتر طور پر نمٹا جا سکتا تھا۔ کہانی تو ایک ایسی عورت کی ہونی چاہیے تھی جس نے اپنے اوپر ہونے والے ظلم کو بہت بہادری اور وقار سے اپنے علاقے کے لیئے ترقی کے مواقع میں بدل دیا۔ لیکن یہ کہانی امریکی صحافی نکولس کرسٹاف کے متعلق بن گئی۔ شاید اس لیئے کہ حکومت کو مختاراں مائی کے ارد گرد موجود لوگوں کے ارادوں پر شک تھا‘۔ ایسوسی ایشن آف پاکستانی پروفیشنلز امریکہ کے کئی بڑے شہروں میں اسی طرح کی ورکشاپس کر کے ان میں پیش کی گئی تجاویز کو عملی شکل دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ | اسی بارے میں بچوں پر دہشت گردی کے الزامات30 May, 2006 | پاکستان آٹھ قیدیوں کی رہائی پر امریکہ رضامند01 June, 2006 | پاکستان مذاکرات مثبت پش رفت ہے: پاکستان 01 June, 2006 | پاکستان پاکستان کو چھ ارب ڈالر کا قرضہ02 June, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||