BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 November, 2006, 14:41 GMT 19:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان پر پالیسی وہی رہے گی‘

باجوڑ بمباری سے امریکہ کے خلاف پاکستان میں نفرت بڑھی: باؤچر
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ وسطی مدت کے انتخابات کے نتائج کچھ بھی ہوں پاکستان کے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران حکام سے بات چیت کے بعد صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ ملاقات میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کی پالیسیاں غوروفکر کے بعد بنتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں تعمیر نو، پاکستان سے شراکت اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی پر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ متفق ہیں اور اس میں تبدیلی کا امکان نہیں۔

انہوں نے باجوڑ میں مدرسے پر حملے کے متعلق کہا کہ یہ کارروائی پاکستان نے کی ہے۔ اس بارے میں جب ان سے کافی سوالات ہوئے تو انہوں نے کہا وہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے یہ کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہا اور کہا کہ باجوڑ کے مدرسے میں مارے جانے والے شدت پسند تھے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا باجوڑ جیسے واقعات سے پاکستان میں عوامی سطح پر امریکہ کے خلاف نفرت میں اضافہ نہیں ہوتاتو انہوں نےکہا کہ انہیں اس بارے میں تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ قبائلی علاقوں میں ترقیاتی کاموں کے لیئے فنڈز فراہم کر رہا ہے۔

تایک سوال پر انہوں نے تسلیم کیا کہ باجوڑ بمباری کے بعد امریکہ کے خلاف پاکستان میں نفرت بڑھی لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ حملہ امریکہ نے کیا تھا۔

امریکی وزیر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں سرحدی علاقوں میں امن کے لیئے قبائلی عمائدین کی خدمات حاصل کی جائیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ شدت پسندوں کے ساتھ دوسرے طریقے سے نمٹا جائے۔

رچرڈ باؤچر نے پیر کی شام وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور منگل کو صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی۔ انہوں نے پاکستانی حکام سے سرحدی علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، توانائی، عالمی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

رچرڈ باؤچر نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ آئندہ سال پاکستان میں شفاف انتخابات ہوں گے اور صدر جنرل مشرف مکمل جمہوریت بحال کردیں گے اور اس میں امریکہ ان کے ساتھ تعاون کرے گا۔ ان کے مطابق صدر مشرف تعلیم یافتہ اور اعتدال پسند قوم بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور امریکہ اس کام میں ان کی مدد کرے گا۔

 صدر مشرف تعلیم یافتہ اور اعتدال پسند قوم بنانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور امریکہ اس کام میں ان کی مدد کرے گا
رچرڈ باؤچر

صدر کی فوجی وردی کے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور اس بارے میں فیصلہ صدر جنرل پرویز مشرف اور پاکستانی عوام نے کرنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پاکستان کے بعض سیاسی رہنماؤں سے بھی ملنے والے ہیں۔ لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ مولانا فضل الرحمٰن سے بھی ملیں گے تو انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لاکھوں افراد ہیں وہ سب سے تو نہیں مل سکتے۔

پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں میں ’ریکنسٹرکشن اپرچونٹی زون‘ قائم کرکے چھوٹی صنعتیں لگانے اور ان سے ڈیوٹی فری اشیاء امریکہ منگوانے کے بارے میں انہوں نے کہ آئندہ سال کانگریس اس بارے میں قانون سازی کرے گی۔

ایران سے پاکستان اور بھارت تک گیس پائپ لائن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان کے لیئے یہ کوئی اہم سوال نہیں کیونکہ اس کے متعلق انہوں نے کافی عرصہ سے کچھ نہیں سنا تاہم پاکستان کی توانائی کی ضروریات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ امریکہ اس بارے میں پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ ان کے مطابق تاجکستان سے بجلی منگوانے کے لیئے معاہدے پر آئندہ سال عمل ہوگا اور امریکہ اس کے لیئے مالی مدد فراہم کرنے میں بھی تعاون کرے گا۔

امریکی نائب وزیر خارجہ نے افغانستان سے انخلاء کے ٹائم فریم کے متعلق سوال پر کہا کہ ’ہم یہاں افغانستان کی حکومت کی مدد کے لیئے طویل مدت کے لیئے آئے ہیں‘۔

اسی بارے میں
باؤچر کی حکام سےملاقاتیں
05 April, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد