بش کا خطاب، پاکستان کا ذکر نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس مرتبہ امریکی صدر جارج بش کے سالانہ خطاب میں دہشتگردی کے خلاف امریکی جنگ کے سب سے بڑے اتحادی ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کا کہیں ذکر نہیں تھا۔ اپنے سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں جارج بش نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنی کامیابیوں کی جو مثالیں گنوائیں اس میں انہوں نے پچھلے سال اگست میں برطانیہ سے امریکہ آنے والی پروازوں کو تباہ کرنے والی مبینہ منصوبے کا خاص طور پر ذکر کیا۔ سازش ناکام بنانے میں انہوں نے برطانیہ کے کردار کو تو سراہا لیکن اس منصوبے کی اصل خفیہ معلومات برطانیہ تک پہنچانے میں پاکستان کا نام مکمل طور پر گول کر گئے۔ پتہ نہیں کہ پاکستان کے کمانڈو صدر مشرف کے لیے یہ بات باعثِ افسوس ہونی چاہیئے یا باعثِ اطمینان۔ آج کل پاکستانی منطق یہی نظر آتی ہے کہ’ چلو، کوئی بات نہیں! بش صاحب نے تعریف نہیں کی تو کوئی شکایت بھی نہیں کی۔ فی الحال اسی میں اپنی خیریت سمجھئے‘۔ ویسے واشنگٹن میں آج کل پاکستانی سفارتخانے کے اعلیٰ اہلکار امریکی حکومت کے رویے سے کچھ نالاں سے لگنے لگے ہیں: ’روز ہم سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں تعاون نہیں کر رہا۔ قبائلی علاقے دہشتگردوں کی پناہ گاہ بن گئے ہیں۔ آئی ایس آئی کے لوگ شرارت سے باز نہیں آ رہے، دراندازی ہو رہی ہے وغیرہ وغیرہ ۔ ۔ ۔ ۔‘
پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ وہ آئے دن امریکی سرکار کی لگی لپٹی اور مغربی میڈیا کے ایسے کھلم کھلا الزامات سے بیزار آ چکے ہیں۔ پہلے وہ ایسی خبروں کی تردید جاری کرنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ لیکن ان کی نظر میں پاکستان کے خلاف یہ مہم اتنی مسلسل اور زبردست ہے کہ اب وہ بعض اوقات صفائیاں پیش کرنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔ ’روز وہی الزامات، روز وہی وضاحتیں، فائدہ کیا؟ ہماری کوششوں پر شکریہ تو دور کی بات ہمیں یوں لگتا ہے کہ پاکستان فٹ پاتھ پر بیٹھے اُس بے بس شخص کی مانند ہے جِسے آتے جاتے جس نے چاہا یونہی دو چپیڑ لگاتا چلا گیا‘۔ پاکستانی حکام کی اس بے چارگی پر کچھ افسوس ہوتا ہے۔ پھر ان کی بظاہر معصومیت پر غصہ بھی آتا ہے۔ اگر پاکستان کی فوجی سٹیبلشمنٹ امریکہ کے اشارے پر اپنے نوجوانوں کو جہاد کے نام پر پڑوسی ممالک کی مسلح تحریکوں میں نہ جھونکتی تو آج شاید پاکستان کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ پاکستانی فوج کی بظاہر تمام سر توڑ کوششوں کے باوجود اُس کے خلاف شکوک و شبہات کا یوں بازار گرم نہ ہوتا اور اگر پاکستان پڑوسیوں کے ساتھ بہتر رشتوں کے لیے بات چیت کا راستہ اپناتا تو شاید آئی ایس آئی کے ٹیڑے ہتھکنڈوں پر زیادہ انحصار کی ضرورت پیش نہ آتی۔ جب تک پاکستان کے کرتا دھرتاؤں کی سوچ میں یہ بنیادی تبدیلی نہیں آتی، امریکہ، افغانستان اور بھارت سمیت باقی دنیا یہ ماننے میں خود کو حق بجانب سمجھے گی ’جی جنرل مشرف کا پاکستان تو ہمارے ساتھ جلیبی کی طرح سیدھا ہے!‘ |
اسی بارے میں صدر کا خطاب اورعا لمی دلچسپی23 January, 2007 | آس پاس عالمی حدت: ’صدر بش کچھ کریں‘23 January, 2007 | آس پاس عراق پالیسی کو ایک موقع دیں: بش24 January, 2007 | آس پاس امریکی ساکھ خراب سے خراب تر23 January, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||